قومی ایکشن پلان کیا واقعی ایک پلان ہے؟

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2016

ای میل

لکھاری واشنگٹن، ڈی سی میں مقیم خارجہ پالیسی کے ماہر ہیں۔
لکھاری واشنگٹن، ڈی سی میں مقیم خارجہ پالیسی کے ماہر ہیں۔

انسدادِ دہشتگردی کے تمام اقدامات کے لیے قومی ایکشن پلان ایک بنیادی حوالہ بن چکا ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی اس پر شفاف عمل درآمد اور مانیٹرنگ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت سے متعلقہ لوگوں سے بات کریں تو یہ واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس گرم جوشی کو محسوس کر رہے ہیں۔

بلاشبہ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ قومی ایکشن پلان ایک ایسا معیار ہے جسے ہر شخص حکومت کی کارکردگی پرکھنے کے حوالے سے موزوں محسوس کرتا ہے، اور حکومت بھی اس بات کو تسلیم کرتی دکھائی دیتی ہے۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ پیمائش کرنے کے لیے زیادہ کچھ ہے نہیں۔ قومی ایکشن پلان ایک پلان نہیں ہے۔

مینیجمنٹ کے شعبے میں طالب علم جو ایک چیز سب سے پہلے سیکھتا ہے، وہ ادارے کے وژن، مشن، اہداف، مقاصد اور منصوبہ بندی میں فرق کرنا ہے۔ وژن سب سے وسیع ہوتا ہے، جس میں زبردست کامیابیوں کا تصور کیا جاتا ہے۔ مشن وہ ہوتا ہے جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اہداف آپ کے مطلوبہ نتائج کو وسیع انداز میں بیان کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور مقاصد ان اہداف کو حاصل کرنے کے طریقے بتاتے ہیں۔

اور آخر میں آپ اپنے پاس منصوبے رکھتے ہیں جن کا کام بالخصوص ان اقدامات کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے، جو آپ کو اپنے مقاصد کی جانب لے جائیں گے؛ انہیں قابل مشاہدہ اور قابل پیمائش رکھنا اور واضح طور پر بروقت رکھنا مقصود ہوتا ہے۔

قومی ایکشن پلان مختلف اجزا کا ایک ملغوبہ ہے: اس میں وژن موجود ہے (پاکستان میں انتہاپسندی نہ ہو؛ عسکری اور مسلح گروہ نہ ہوں؛ اقلیتوں کا تحفظ)؛ کئی ایسی چیزیں بھی ہیں جنہیں آپ اہداف کا نام دیں گے (نظامِ انصاف میں اصلاحات؛ نیکٹا کو بااختیار بنانا؛ کراچی آپریشن کی تکمیل)۔ چند مقاصد ہیں، مگر واضح نہیں کہ وہ مقاصد اہداف سے کس طرح جڑتے ہیں (فوجی عدالتیں؛ سزائے موت پر عمل در آمد؛ نفرت انگیز تقاریر کو فروغ دینے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی)؛ اور کچھ ایسی چیزیں جن کا مسئلے سے کوئی تعلق ہی نہیں (بلوچستان حکومت کو سیاسی طور پر مضبوط بنانا؛ افغان مہاجرین کی واپسی)۔

ایک چیز جو اس میں نہیں ہے وہ ہے پلان، یا منصوبہ۔ اس میں موجود 20 نکات میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی واضح نہیں کہ وہ کس طرح اور کتنے عرصے میں حاصل کیے جائیں گے۔ اور یہ بھی کہ ہم نے ان 20 نکات کا فیصلہ کیوں کیا، اور کیا یہی وہ چیزیں ہیں جو ملک میں پائیدار امن لانے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہیں؟

مگر ایسا کیوں ہے؟ کیوں کہ قومی ایکشن پلان غور و فکر سے بنائی گئی دستاویز نہیں ہے۔ یہ نکات کی ایک فہرست تھی جو کہ وزیراعظم کے سامنے یہ دکھانے کے لیے پیش کی گئی کہ آرمی پبلک اسکول پر حملے نے ہمیں جگا دیا ہے۔

اس حقیقت پر کسی نے توجہ نہیں دی کہ وزارتِ داخلہ نے اس سے پہلے کئی ماہ کے غور و خوض کے بعد قومی داخلی سلامتی پالیسی (NISP) تیار کی تھی۔ اس کی خامیاں ایک طرف، مگر یہ کافی حد تک ایک تفصیلی پلان تھا جس پر (تبدیلیوں کے ساتھ) عملدرآمد ہمارے لیے کافی بہتر انداز میں مددگار ثابت ہوتا۔

اس کے بجائے ہم حکومت پر ایسے بیانات اور مقاصد حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو کہ ناقابلِ پیمائش ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ چوں کہ اس میں اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے کوئی معیار شامل نہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ انفرادی اقدامات کس طرح آپس میں جڑتے ہیں، لہٰذا توجہ اس بات پر مرکوز ہوجاتی ہے آپ نے کیا کیا (اقدامات اٹھائے) نہ کہ اس بات پر کہ وہ اقدامات کس قدر مددگار ثابت ہوئے۔

اور اگر آپ یہ نہیں جانتے ہیں کہ ہر ایک زمرے میں آپ کو کس قدر کام کرنے کی ضرورت ہے یا جو آپ وعدہ کر چکے ہیں وہ ایک درست حل ہے بھی یا نہیں، تو پھر یہ ایک بے معنی چیز بن جاتی ہے۔

اگر قومی ایکشن پلان کے تحت حکومت کی کامیابیوں پر ایک سرسری نظر ڈالیں تو آپ ہر ایک کامیابی میں اقدامات کو پائیں گے نہ کہ نتائج (اثر) کو۔ اتنی تعداد میں لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا؛ فلاں تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں؛ کئی افغان مہاجریں کو واپس بھیج دیا گیا؛ کئی مشترکہ آپریشنز کیے گئے، وغیرہ۔

تعداد شاید متاثرکن ہوں مگر ہمیں ان لوگوں سے کیا کرنا ہے جنہیں ہم نے گرفتار کیا ہے؟ کیا ہم مشترکہ آپریشنز اور دہشتگردی میں کمی کے درمیان کوئی باہمی تعلق دیکھ پا رہے ہیں؟ یہ تمام چیزیں آپس میں کس طرح جڑتی ہیں، وغیرہ؟ چوں کہ ان چیزوں پر کبھی سوچا ہی نہیں گیا لہٰذا ان کے جوابات ملنے کی کوئی توقع بھی نہیں۔

بدقسمتی سے صورتحال کو ایسا ہی چھوڑنے پر ہمیں بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ غفلت اس امید کی صورت میں جاری رہے گی کہ معاملات کو فوجی طاقت کے ذریعے ہی ضابطے میں رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے، بھلے ہی اس سے زبردست نتائج ہی کیوں نہ برآمد ہوئے ہوں۔

شمالی وزیرستان شاید وہ آخری بڑا آپریشن ہے جس کا بیڑا فوج اپنے سر اٹھا سکتی ہے۔ دیگر زیادہ تر توجہ طلب علاقے پاکستان کے اندر شہری خطوں میں ہیں، جہاں منظر نامہ بالکل مختلف ہے۔

حتیٰ کہ ضربِ عضب بھی ایک رات میں نہیں ہوا تھا۔ اگر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ انسدادِ دہشتگردی میں کامیابی کو صرف اس آپریشن سے جوڑے، تو پھر سکیورٹی فورسز کی جانب سے گذشتہ آپریشنز کس حساب میں ہیں؟ جنرل راحیل شریف کی جانب سے کمان سنبھالنے سے کافی پہلے ہی فوج نے فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے کئی حصوں کو کلیئر کرنے کے لیے برسوں تک کارروائیاں کی ہیں۔ خیبر پختونخواہ اور فاٹا کی 6 ایجنسیاں کلیئر قرار دی جا چکی ہیں؛ ہزاروں جوانوں نے اس دوران اپنی جانوں کی قربانی دی۔

اس میں سوات جیسے گنجان آباد علاقے بھی شامل ہیں جہاں پورے فاٹا سے بڑے علاقے کو چار ماہ سے بھی کم عرصے میں کلیئر کر دیا گیا تھا اور ریکارڈ وقت میں آپریشن متاثرین کو اپنے گھروں تک واپس بھیجا گیا۔

شمالی وزیرستان میں چیلنجز شدید تھے؛ مگر ہر لحاظ سے نتائج غیر معمولی رہے، بھلے ہی اس کی کارکردگی سست رو ہے۔

مگر آپ دنیا کی کسی بھی فوج سے پوچھ لیں، وہ آپ کو یہ ہی بتائے گی کہ فوجی آپریشنز صرف انسدادِ دہشتگردی کے قومی منصوبے کے کام کرنے کے لیے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ مکمل اور مستقل امن لانے کے ان آپریشنز سے کہیں زیادہ کی ضرورت ہے۔

لہٰذا ہم واپس چلتے ہیں قومی ایکشن پلان کی جانب۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کے مقاصد کے حصول کے لیے مخصوص اقدامات کے منصوبوں کو ترتیب دے، اور ان پر سنجیدگی سے اپنی کارکردگی پیش کرے۔

وگرنہ تمام تر ناکامی کا الزام قومی ایکشن پلان اور حکومت پر لگا دیا جائے گا؛ اور ہم صرف طاقت کے ذریعے سے ہی اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔

انگلش میں پڑھیں۔

لکھاری واشنگٹن، ڈی سی میں مقیم خارجہ پالیسی کے ماہر ہیں۔