امریکا: منی لانڈرنگ کے جرم میں 4پاکستانی بلیک لسٹ

13 اکتوبر 2016

ای میل

ان افراد کی 9 کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے — فائل فوٹو:رائٹرز
ان افراد کی 9 کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے — فائل فوٹو:رائٹرز

واشنگٹن: امریکا نے جرائم پیشہ افراد کے لیے منی لانڈرنگ کرنے کے جرم میں 4 پاکستانیوں اور 9 کمپنیوں کو بلیک لسٹ کر دیا۔

امریکی محکمہ خزانہ کے شعبہ فارن ایسیٹ کنٹرول (او ایف اے سی) کی جانب سے عبید خانانی، حذیفہ خانانی، جاوید خانانی اور عارف پولانی کو بلیک لسٹ کیا گیا جبکہ ان افراد کی نو کمپنیوں کو بھی بلیک لسٹ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: انڈرورلڈ سے تعلقات پر الطاف خانانی گرفتار

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان افراد کی کمپنیاں تھرڈ پارٹی منی لانڈرنگ میں ملوث تھیں اورمنشیات اسمگلرز کی طرف سے دنیا بھر میں موجود جرائم پیشہ افراد تک فنڈز ٹرانسفر کرتی تھیں۔

ان چاروں افراد کے نام پر امریکا میں موجود تمام اثاثے بھی ضبط کرلیے گئے اور امریکی شہریوں کو ان سے کسی بھی قسم کی لین دین سے منع کردیا گیا ہے۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات میں موجود یہ کمپنیاں منشیات کا کاروبار کرنے والے افراد کی رقم کو دنیا بھر کے جرائم پیشہ افراد کے لیے باہر بھیجا کرتی تھیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے قائم مقام ڈائریکٹر جان ای اسمتھ نے بتایا کہ ان کا محکمہ دنیا بھر میں منی لانڈرنگ میں ملوث گروہوں سے مقابلے میں مصروف ہے اور ان افراد اور کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے میں کامیابی متحدہ عرب امارات میں موجود پارٹنرزکی مدد کا نتیجہ ہے، خانانی منی لانڈرنگ آرگنائزیشن (ایم ایل او) کو بین الاقوامی خزانے کا حصہ بننے اور مجرمانہ سرگرمیوں کی مدد سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ امریکا نے نومبر 2015 میں الطاف خانانی منی لانڈرنگ آرگنائزیشن (ایم ایل او) کو منی لانڈرنگ میں ملوث قرار دیا تھا، الطاف خانانی ایم ایل او، پاکستانی شہری الطاف خانانی کے لیے کام کرنے والے افراد اور اداروں پر مشتمل ہے۔

الطاف خانانی پہلے ہی منی لانڈرنگ کے الزام میں امریکا میں گرفتار ہے، یہ آرگنائزیشن پاکستان، متحدہ عرب امارات، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے مابین منی لانڈرنگ کرتی رہی ہے، اس کمپنی کے کلائنٹس میں چین، کولمبیا اور میکسیکو میں منظم جرائم کرنے والے گروہ اور حزب اللہ سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔

خیال رہے کہ خانانی اینڈ کالیا منی لانڈرنگ کیس پاکستان میں چل رہا ہے، جس کے حوالے سے نومبر 2015 میں ایک پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ کئی اہم شخصیات سمیت تقریباً 63 ہزار افراد نے خانانی اینڈ کالیا کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کیے۔

بعد ازاں چوہدری نثار نے بتایا تھا کہ وزارت داخلہ نے حوالہ اور ہنڈی کی 30 کروڑ روپے کی رقم ضبط کی۔