جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل بنانے کی درخواست مسترد

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2016

ای میل

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرمی چیف جنرل راحیل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے حوالے سے دائر پٹیشن خارج کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے قرار دیا کہ اس حوالے سے مقننہ کو ہدایات جاری کرنا عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

جب جسٹس عامر فاروق نے درخواست گزار کے وکیل راجا صائم الحق ستی سے استفسار کیا کہ کیا ایسا کوئی قانون موجود ہے کہ جس کے تحت وفاقی حکومت سے کہا جائے کہ وہ جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دے، تو ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اس مقصد کے لیے کوئی نیا قانون بنا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مقررہ وقت پر ریٹائر ہوجاؤں گا،جنرل راحیل شریف

اپنے فیصلے میں جسٹس عامر فاروق نے کہا، 'مقننہ کو کسی مخصوص قانون سازی کے لیے ہدایات جاری نہیں کی جاسکتیں'۔

عدالتی فیصلے میں اعلان کیا گیا کہ پٹیشن 'میرٹ کے بغیر ہے، لہذا اسے مسترد کیا جاتا ہے'۔

مذکورہ پٹیشن میں وزیراعظم نواز شریف، سیکریٹریز دفاع اور کیبنٹ ڈویژن کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جنرل راحیل شریف، جن کی 3 سالہ مدت ملازمت 27 نومبر کو ختم ہورہی ہے، نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تھا جو اب تک جاری ہے۔

مزید کہا گیا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے پاکستان کی سلامتی اور سیکیورٹی کے لیے نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا اور وہ پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بھی نگرانی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اگلا آرمی چیف کون ہو سکتا ہے؟

درخواست گزار نے اس بات پر زور دیا تھا کہ یہ ایک عالمگیر قانون ہے کہ جو کوئی بھی غیر معمولی، مثالی اور بے لوث انداز میں قوم اور انسانیت کی خدمت کرتا ہے تو اسے فوج کے تنظیمی ڈھانچے میں سب سے اونچی سطح پر تعینات کیا جانا چاہیے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ وزیراعظم نواز شریف،سیکریٹریز دفاع اور کیبنٹ ڈویژن کو ہدایات جاری کرے کہ وہ جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دیں۔

یہ خبر 21 اکتوبر 2016 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی