امریکی انتخابات کے بعد جہاں دنیا بھر میں نتائج پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں امریکا میں بھی عوام حیرت اور غصے کا شکار ہیں۔

انتخابی نتائج کا اعلان ہوتے ہی امریکیوں کے ٹی وی توڑنے کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ انتخابات ختم ہونے کے باوجود عوام سڑکوں پر موجود ہیں اور نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ سولہ سال میں دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار امریکی صدارتی انتخاب میں کامیاب نہ ہوسکا۔

ڈان کی ویب پر 7 نومبر کو شائع ہونے والے بلاگ میں امریکی انتخابات کی پیچیدگی اور الیکٹورل کالج کے ذریعے عوامی مقبول امیدوار کی ناکامی کے بارے میں عندیہ دیا تھا۔ سال 2016 میں امریکی انتخابات کا وہی نتیجہ رہا جو کہ 2000 میں ہوا تھا۔

یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکی انتخابی نظام میں ایسا سقم باقی ہے جو کہ عوامی مقبولیت کے حامل فرد کو صدارتی انتخاب جیتنے سے روک سکتا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق الیکٹورل کالج، جو صدر کا انتخاب کرنے والے 538 نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے، میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 306 اور ہیلری کلنٹن نے 232 ووٹ جیتے ہیں۔

پڑھیے: ٹرمپ بش سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں

9 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں امریکا کے 23 کروڑ 10 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 12 کروڑ 88 لاکھ افراد، یعنی 55.6 فی صد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

مقبول عوامی ووٹوں کا تناسب دیکھا جائے تو ہیلری کلنٹن نے 5 کروڑ 99 لاکھ سے زائد، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 کروڑ 97 لاکھ سے زائد عوامی ووٹ لیے ہیں۔ اس طرح ہیلری کلنٹن نے 2 لاکھ 33 ہزار زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔

مگر چوں کہ ہیلری زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے کے باوجود الیکٹورل کالج میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہیں، اس وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ ووٹرز میں عددی برتری نہ رکھتے ہوئے بھی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

ایسی ہی صورتحال سال 2000 میں ڈیموکریٹس پارٹی کے امیدوار الگور اور ریپبلیکن پارٹی کے جارج ڈبلیو بش کے درمیان مقابلے میں سامنے آئی۔ سال 2000 کے صدارتی انتخابات میں بھی الگور نے 48.4 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ جارج ڈبلیو بش نے 47.9 فی صد عوامی ووٹ حاصل کیے، مگر مقبول ووٹ حاصل کرنے والے الگور کو صرف 266، جبکہ جارج بش کو 271 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے۔

سولہ سال کے کم ترین عرصے میں امریکی انتخابات میں دوسری مرتبہ یہ ہوا ہے کہ زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار الیکٹورل کالج نظام کی وجہ سے وائٹ ہاؤس کی جنگ ہار گیا ہے۔ سال 2000 اور 2016 میں قدر مشترک ہے کہ عوامی ووٹ حاصل کرنے والا الیکٹورل کالج کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور دونوں انتخابات میں ہارنے والی جماعت ڈیموکریٹس اور جیتنے والے ریپبلیکن رہی۔

سال 2000 میں الگور نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے فلوریڈا میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ کیا اور مہینوں کی قانونی جنگ کے بعد امریکی سپریم کورٹ نے ووٹوں کی دوبار گنتی کا عمل روکتے ہوئے جارج بش کو کامیاب قرار دے دیا۔

امریکا میں سال 2000 کے انتخابات متنازع قرار دیے جاتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کا یہی فیصلہ ہے کہ شاید اس مرتبہ ہیلری کلنٹن نے قانونی جنگ لڑنے کے بجائے نتائج کو قبول کرلیا ہے۔

مزید پڑھیے: امیر طبقے کی حمایت ہیلری کو لے ڈوبی؟

امریکا کی بنیاد رکھنے والے افراد، جنہیں فاؤنڈنگ فادرز کہا جاتا ہے، نے امریکی آئین کی بنیاد رکھی تھی اور اس کے سربراہ کے انتخاب کا عمل وضع کیا تھا۔ جس وقت امریکی آئین میں صدارتی انتخابات کا طریقہ کار وضع کیا گیا، اس وقت امریکی ریاستوں کی تعداد 13 تھی جو کہ وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے 50 تک پہنچ چکی ہے۔ وفاق ہر ریاست کو صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج کی تعداد مقرر کرتا ہے۔

امریکا میں وفاق کے بجائے ہر ریاست صدارتی انتخابات کا انعقاد کرتی ہے۔ اور پولنگ کے طریقہءِ کار اور ووٹوں کی گنتی کے کسی عمل میں وفاق کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ریاستیں اس تمام عمل کو اپنے اپنے قوانین کے مطابق وضع کرتی ہیں۔ زیادہ تر ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی مشینوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

کچھ ریاستوں میں الیکٹورل کالج حاصل کردہ ووٹوں کی بنیاد پر امیدواروں میں تقسیم کیے جاتے ہیں جبکہ بعض ریاستوں میں جو بھی زیادہ ووٹ حاصل کرے، اس امیدوار کو الیکٹورل کالج کے تمام ووٹوں کا حقدار قرار دیا جاتا ہے۔ آخر الذکر ریاستوں کو سوئنگ اسٹیٹ کہا جاتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کے مطابق الیکٹورل کالج کا نظام نہایت ہی پیچیدہ ہے اور صرف 30 فی صد ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار بھی صدارتی انتخاب جیت سکتا ہے۔ امریکی آرکائیو کے مطابق الیکٹورل کالج کو گزشتہ دو سو سال کی تاریخ میں تبدیل کرنے کے لیے 700سے زائد تجاویز دی گئیں، مگر ان تجاویز کو کانگریس یا سینیٹ سے منظوری نہ مل سکی۔

اس حوالے سے متعدد سروے بھی کیے گئے جس میں عوامی اکثریت نے الیکٹورل کالج کے نظام کو ختم کرنے کے حق میں رائے دی۔ آرکائیو کے مطابق 1967 میں کیے گئے سروے میں 58 فی صد، 1968 میں 81 فی صد اور 1981 میں 75 فی صد عوام نے الیکٹورل کالج کو ختم کرنے کے حق میں رائے دی ہے۔

امریکی کانگریس کے 91 ویں اجلاس میں الیکٹورل کالج کو ختم کرنے کے حوالے سے ایک قرارداد 1969 میں پیش کی گئی، جس میں الیکٹورل کالج کو ختم کر کے براہ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے صدر کے انتخاب کرنے کا کہا گیا تھا۔

اس قرارداد میں کہا گیا تھا کہ 40 فی صد سے کم ووٹ لینے کی صورت میں دوبارہ پولنگ کروائی جائے گی۔ کانگریس کی اس قرراداد کو سینیٹ سے منظوری نہیں مل سکی جس کی وجہ سے یہ نظام تاحال برقرار ہے۔ موجودہ تاریخ میں پہلی مرتبہ اور امریکی تاریخ میں پانچویں مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ عوامی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار انتخاب جیتنے میں ناکام ہوگیا ہے۔

جانیے: ٹرمپ پاکستان کیلئے اچھے ثابت ہوں گے یا برے؟

امریکی صدارتی انتخابات کا نظام پیچیدہ اور فرسودہ ہوچکا ہے اور صدر کو منتخب کرنے کے لیے موجود نظام 200 سال سے زائد پرانا ہے۔ دنیا بھر میں نوخیر جمہوریتیں انتخابی نظام میں متعدد مرتبہ تبدیلیوں کے بعد اپنے انتخابی اور جمہوری نظام میں موجود خامیوں اور سقم کو دور کر رہی ہیں۔

نہ جانے کیوں امریکا میں متعدد مرتبہ کی کوششوں کے باوجود ملک کے سربراہ اور دنیا کے طاقتور ترین فرد کے انتخاب کے لیے نظام اس قدر پیچیدگیوں سے بھرا پڑا ہے کہ جس میں امریکی عوام کی مرضی ایک طرف رہ جاتی ہے اور وہ نظام کے ہاتھوں ناپسندیدہ امیدوار کو صدر تسلیم کرنے پر مجبور ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ویسے ایک قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ امریکا میں ریاستی امور صرف وائٹ ہاؤس سے نہیں چلائے جاتے ہیں، بلکہ ان امور کو چلانے کے لیے مختلف طاقت کے مراکز ہیں۔ اور اس پیچیدہ انتخابی نظام کو قائم رکھنے میں بھی اس اسٹیبلشمنٹ کا کردار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔

کیا اگلی مرتبہ امریکی عوام الیکٹورل کالج کے پیچیدہ نظام سے جان چھڑا کر براہ راست امریکی صدر کا انتخاب کرسکیں گے؟ ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔

امریکا کے ایوانوں میں ڈیموکریٹس کے بجائے ریپبلیکنز کی اکثریت ہے اور اگر کسی بھی رکنِ کانگریس یا سینیٹ نے کوشش کی بھی تو ریپبلیکنز اس نظام سے جان چھڑانے کے لیے تیار نہ ہوں گے کیونکہ اس نظام کی وجہ سے انہیں متعدد بار انتخاب جیتنے میں مدد ملی ہے۔