جو چلے تو جاں سے گزر گئے

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2016

Email


’شعر لکھنا جرم نہ سہی لیکن بنا سبب شعر لکھتے رہنا کچھ ایسی عقلمندی بھی نہیں‘

فیض احمد فیض کے پہلے مجموعہءِ کلام ’نقشِ فریادی‘ سے ان کا یہ بیان پڑھ کر مجھے غالب کا وہ جملہ یاد آتا ہے جس میں اردو کے اس عظیم شاعر نے کہا تھا ’جب سے میرے سینے کا ناسور بند ہو گیا ہے، میں نے شعر کہنا چھوڑ دیے ہیں۔‘

’سینے کا ناسور‘ چاہے محبت کا جذبہ ہو چاہے آزادی کی لگن، سارے فنونِ لطیفہ کے لیے ناگزیر ہے۔ مطالعے، جستجو اور محنت سے ہمیں بات کہنے کا ڈھنگ تو آسکتا ہے، لیکن اپنی بات کو بااثر بنانے اور دوسروں کے دل میں اتارنے کے لیے پہلے خود اپنے دل میں اترنا پڑتا ہے۔

ساری دنیا کے ادب میں ہمیں ایسی کئی مثالیں مل جائیں گی کہ کسی شاعر یا ادیب نے کچھ ایک بہت اچھی نظمیں، ایک بہت اچھا ناول اور دس پندرہ بہت اچھی کہانیاں لکھنے کے بعد لکھنے سے توبہ کر لی اور پھر جب ناقدوں اور قارئین کے اصرار پر اس نے نئے سرے سے اپنا قلم اٹھایا تو وہ بات پیدا نہ ہو سکی جو اس کے ’کچے پن‘ کے زمانے میں خودبخود پیدا ہوگئی تھی۔ شاید اسی بات کے پیشِ نظر نقشِ فریادی کے دیباچے میں فیض نے لکھا ہے کہ:

’آج سے کچھ برس پہلے ایک خاص جذبے کے تحت شعر آپ ہی آپ دل سے نکلتے تھے لیکن اب موضوعات کی تلاش کرنی پڑتی ہے۔ ہم میں سے اکثر شاعروں کی شاعری کسی روحانی یا بیرونی تحریک کی محتاج ہوتی ہے۔ اگر ان سوتوں کی رفتار میں کمی آ جائے، ان کے اظہار کے لیے کوئی آسان راہ سجھائی نہ دے، تو یا تو جذبات کی توڑ پھوڑ کرنی پڑتی ہے یا کہنے کے ڈھنگ کی۔ ایسی حالت پیدا ہونے سے پہلے شاعر یا ادیب کا فرض ہے کہ جو کچھ کہنا ہو کہہ لے، محفل کا شکریہ ادا کرے اور اجازت لے لے۔‘

فیض کی روحانی و بیرونی تحریکوں میں سے سب سے نمایاں تحریک رومانویت کی ہے، بلکہ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ:

لیکن اس شوخ کے آہستہ سے کھلتے ہوئے ہونٹ

ہائے اس جسم کے کم بخت دل آویز خطوط

آپ ہی کہیے، کہیں ایسے بھی فسوں ہوں گے؟

اپنا موضوعِ سخن ان کے سوا اور نہیں

طبعِ شاعر کا وطن ان کے سوا اور نہیں

یا ان کی نظم ’میرے ہمدم میرے دوست‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم

گرم ہاتھوں کی حرارت سے پگھل جاتے ہیں

کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ہوئے مانوس نقوش

دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ہیں

کس طرح عارضِ محبوب کا شفاف بلور

یک بیک بادہ احمر سے دہک جاتا ہے

کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخِ گلاب

کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے

مگر ان نظموں سے پہلے انہوں نے جس چیز کو موضوعِ سخن بنانا پسند نہیں کیا تھا وہ یہ تھا

ان دمکتے ہوئے شہروں کی فراواں مخلوق

کیوں فقط مرنے کی حسرت میں جیا کرتی ہے

یہ حسین کھیت، پھٹا پڑتا ہے جوبن جن کا

کس لیے ان میں فقط بھوک اُگا کرتی ہے

یا یوں کہیے:

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم

ریشم و اطلس و کمخواب میں بنوائے ہوئے

جا بجا بکتے ہیں کوچہ و بازار میں جسم

خاک میں لتھڑے ہوئے، خون میں نہلائے ہوئے

لوٹ جاتی ہے اُدھر کو بھی نظر، کیا کیجیے

اب بھی دلکش ہے تیرا حُسن، مگر کیا کیجیے

ایسے سوالات اور تلخ حقیقت ہی بعد میں ان کی روحانی و بیرونی تحریک کا منبع بنے۔ انہی سوالوں نے انہیں محفل کا شکریہ ادا کر کے اُٹھ جانے سے روکا اور اردو شاعری کو ایک بڑا شاعر دیا۔

فیض 13 فروری سن 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ والدین نے نام فیض احمد خان رکھا مگر مشہور فیٖض احمد فیض ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چرچ مشن اسکول سیالکوٹ اور گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ سے حاصل کی, بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے رہے۔

28 اکتوبر سن 1941 کو برطانوی نژاد ایلس کیتھرین جارج سے شادی کی جن سے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ فیض صاحب کے آٹھ شعری مجموعے شائع ہوئے جن کے نام بالترتیب "نقشِ فریادی"، "دستِ صبا"، "زنداں نامہ"، "دستِ تہہِ سنگ" "سرِ وادیءِ سینا"، "شامِ شہرِ یاراں"، اور "مرے دل مرے مسافر" ہیں۔

فوج میں کرنل رہے، جہاں کسی نرم رویہ شخص کی گنجائش نہیں ہوتی۔ کالج میں پروفیسر رہے۔ ریڈیو کی ملازمت بھی کی اور صحافت جیسا جان جوکھم کا پیشہ بھی اپنایا، اور کافی عرصہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر رہے۔ حکومتِ پاکستان نے ان پر ’تشدد کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش‘ کا الزام لگا کر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کر دیا، تو تب بھی ان کی زبان سے کچھ یوں الفاظ نکلے

فکرِ دلداری گلزار کروں یا نہ کروں

ذکرِ مُرغانِ گرفتار کروں یا نہ کروں

قصۂ سازشِ اغیار کروں یا نہ کروں

شکوے یارِ طرحدار کروں یا نہ کروں

فیض اردو کے گنتی کے اُن بڑے شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے فنِ شاعری میں نئے نئے تجربات تو کیے، لیکن ان کی بنیاد ہمیشہ پرانے تجربوں پر رکھی اور اس اٹل سچائی کو کبھی فراموش نہیں کیا کہ ہر نئی چیز پرانی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ فیض کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ غیر واضح اور مبہم مثالیں دے کر وہ ہمیں الجھن میں نہیں ڈالتے بلکہ نرم اور دلپذیر لہجے میں وہ ہم سے سرگوشیاں کرتے ہیں، اور اتنی معنی خیز سرگوشیاں کہ کچھ الفاظ کان پڑتے ہی ہم پوری بات سمجھ جاتے ہیں۔ نقشِ فریادی کا پہلا صفحہ اُلٹیے

رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آ جائے

جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم

جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے

محبوبہ کی یاد کوئی نیا موضوع نہیں ہے، مگر ان خوبصورت تمثیلوں اور اچھُوتے تاثر کے ذریعے فیض نے اسے بالکل نیا اور اچھُوتا بنا دیا ہے۔ اس ایک قطعے کی ہی بات نہیں، بلکہ ان کی ساری شاعری کی خصوصیت ہے کہ وہ نئی بھی ہے اور پرانی بھی۔ نئے موضوع پرانی آراستگی اور پرانے موضوع نئے انداز میں پیش کرنے کا کمالِ فن جو فیض صاحب کو حاصل ہے، بہت کم اردو شاعر اس تک پہنچے ہیں۔ ذرا غالب کا یہ شعر دیکھیے:

دیا ہے دل اگر اُس کو، بشر ہے، کیا کہیے

ہوا رقیب تو ہو، نامہ بر ہے، کیا کہیے

اب اسی موضوع کو فیض کی نظم "رقیب سے" کے دو مختلف اشعار میں دیکھیے

تُو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ

زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے

ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے

جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں

اور فیض کا یہ اسلوب صرف محبوب، عاشق اور رقیب تک ہی محدود نہیں، بلکہ انہوں نے ہر وقت نئی اور پرانی بات، اور نئے اور پرانے انداز کا بڑا ہی حسین امتزاج پیش کیا ہے۔ غالب کا ایک اور شعر دیکھیے

لکھتے رہے جنوں کی حکایتِ خوںچکاں

ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

اور فیض کا شعر ہے

ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

ان مثالوں سے میرا مدعا غالب و فیض کی شاعری کے یکساں موضوعات کو دکھانا نہیں ہے۔ اور میرا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ ہمیں پرانی اقدار کو جوں کا توں قبول کر لینا چاہیے۔ کچھ اقدار، وہ چاہے ادب کی ہوں، تہذیب کی ہوں، یا دیگر سماجی پہلوؤں کی، اپنا کردار ادا کرنے کے بعد اپنی موت آپ مر جاتی ہیں۔

انہیں نئے سِرے سے چلانے کا مطلب گڑے مردے اکھاڑنا اور تاریخی ارتقاء سے اپنی عدم وابستگی کا ثبوت دینا ہے۔ لیکن اس میں بھی خطرناک کام یہ ہے کہ نئے پن کی دوڑ میں پرانی چیزوں کو صرف اس لیے قابلِ نفرت سمجھ لیا جائے کہ وہ پرانی ہیں۔ زمین، آسمان، چاند، سورج، پہاڑ، سمندر سب پرانے ہیں لیکن یہ سب ہمیں پسند ہیں کیوں کہ ہر لمحہ ان کے بارے میں ہمارا نقطہءِ نظر بدلتا رہتا ہے، ہم ان کے بارے میں نئی باتیں معلوم کر لیتے ہیں، اور اس طرح سے مستقل چیزیں نئی بنی رہتی ہیں۔

یہ ایک بڑی عجیب لیکن قابلِ تعریف حقیقت ہے کہ گزشتہ اور موجودہ اردو شاعری کی محفل میں کھپ کر بھی فیض ایک الگ شخصیت ہے۔ فیض کے لہجے کی نرمی و سنجیدگی ان کے کلاسیکل ادب کے وسیع مطالعے، اور اجتماعی طور پر ان کے رومانی شاعر ہونے پر دلالت کرتی ہے، لیکن ان کی رومانویت دنیاوی رومانویت ہے، اور شاعر کا فرض یہ بھی ہے کہ وہ زندگی کے تجربات حاصل کرے اور اس پر اپنی مہر ثبت کر کے اسے واپس زندگی کے سپرد کر دے۔

فیض نے بہت جلد سرخ ہونٹوں پر مسکراہٹوں کی روشنی، مرمریں ہاتھوں کی کپکپاہٹ، مخملی بانہوں اور دمکتی ہوئی پیشانی کے سنہری پردوں کے پار حقیقی سچائی کی جھلک دیکھ لی۔ اُمیدوں کے مقتل، بھوک اگانے والے کھیت، خاک میں لتھڑے ہوئے اور خون میں نہلائے ہوئے جسم، اور افلاس کے ماروں پر جھپٹتی ہوئی چیلیں دیکھ لیں، اور اپنی محبوبہ سے کہنے لگے

اب بھی دلکش ہے تیرا حُسن، مگر کیا کیجیے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

اور پھر رومانویت سے بالکل خالی انہوں نے سیاسی نظمیں بھی لکھیں۔ حُب الوطنی کو انہوں نے ٹھیک اُسی روپ میں ظاہر کیا جیسا محبوبہ کو کیا۔ اردو کے نقاد ممتاز حسین کے بقول ’اگر فیض میں ایک روایت قیس کی ہے تو دوسری منصور کی ہے۔ فیض نے ان دونوں روایتوں کو اپنی شاعری میں کچھ اس انداز سے سمو لیا ہے کہ خود ان کی شاعری ایک نئی روایت بن گئی ہے۔‘

یہ کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ فیض کی شاعری ایک باقاعدہ اسکول بن چکی ہے۔ نئی نسل کا کوئی شاعر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ وہ کسی بھی طرح فیض سے متاثر نہیں ہوا۔

درد و رحم، محبت و سیاست، شیرینی و فکر کا جتنا دلچسپ امتزاج فیض احمد فیض کے ہاں ملتا ہے، اور انہوں نے جس خوبصورتی سے پرانی روایتوں پر نئی روایتوں کا محل کھڑا کیا ہے، بلاشبہ وہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ اردو کی جدید شاعری ان کے اس عطیے پر جتنا فخر کرے کم ہے۔

فیض صاحب کی شاعری کی طرح ان کی ذاتی زندگی کے بھی بہت سے پہلو ہیں۔ ان سب کا احاطہ کرنا ایک کالم میں ممکن نہیں۔ 20 نومبر سن 1984 میں فیض شہرِ لاہور میں خالق حقیق سے جا ملے۔ ان کا کلام کئی صدیوں تک زندہ و جاوید رہے گا۔ فیض کے کلام سے اپنی پسندیدہ ایک نظم سنا کر اجازت چاہوں گا۔

گلشنِ یاد میں گر آج دمِ بادِ صبا

پھر سے چاہے کہ گل افشاں ہو، تو ہو جانے دو

عمرِ رفتہ کے کسی طاق پہ بسرا ہوا درد

پھر سے چاہے کہ فروزاں ہو، تو ہو جانے دو

جیسے بیگانے سے اب ملتے ہو، ویسے ہی سہی

آؤ دو چار گھڑی میرے مقابل بیٹھو

گرچہ مل بیٹھیں گے ہم تم، تو ملاقات کے بعد

اپنا احساسِ زیاں اور زیادہ ہوگا

ہم سخن ہوں گے جو ہم دونوں، تو ہر بات کے بیچ

ان کہی بات کا موہوم سا پردہ ہوگا

کوئی اقرار نہ میں یاد دلاؤں گا، نہ تم

کوئ مضموں وفا کا، نہ جفا کا ہوگا

گرد ِایّام کی تحریر کو دھونے کے لیے

تم سے گویا ہوں دمِ دید جو میری پلکیں

تم جو چاہو تو سنو، اور جو نہ چاہو، نہ سنو

اور جو حرف کریں مجھ سے گریزاں آنکھیں

تم جو چاہو تو کہو اور جو نہ چاہو نہ کہو


یہ بلاگ ابتدائی طور پر 20 نومبر 2016ء کو شائع ہوا۔