صنعتکاروں کا سی پیک روٹ پر چینی صنعتوں کے قیام پر اعتراض

اپ ڈیٹ 02 جنوری 2017

ای میل

گجرات: پنجاب کے تین شہروں گجرات، گجرانوالہ اور سیالکوٹ کے تین چیمبرز آف کامرس جنہیں 'گولڈن انڈسٹریل ٹرائی اینگل' بھی قرار دیا جاتا ہے، نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے روٹ پر چین کی جانب سے صنعتی مراکز اور گودام تیار کرنے کے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

تینوں چیمبرز کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کی جانب سے صنعتی مراکز کے منصوبوں کے پلان پر ان صنعتی شہروں کی کاروباری کمیونٹی کو بھی اعتماد میں لیں۔

وفاقی حکومت کو مقامی صنعتوں پر ہونے والے منفی اثرات سے بھی خبردار کیا گیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان مکمل طور پر ایک صارفی مارکیٹ میں تبدیل ہوجائے گا جس سے مصنوعات سازی کا شعبہ مزید کمزور پڑے گا۔

گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (جی ٹی سی سی آئی) میں ہونے والے اجلاس میں تینوں شہروں کے چیمبرز کے صدور نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’سی پیک سے مقامی صنعت کو چیلنجز کا سامنا‘

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے مقامی صنعتی مراکز پر مارے جانے والے چھاپوں اور کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس سیل کرنے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بجائے ایف بی آر اُن کاروباری افراد کے لیے مسائل پیدا کررہا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

اجلاس کی میزبانی گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سربراہ ابرار سعید شیخ نے کی، جس میں سیالکوٹ چیمبر(ایس سی سی آئی) کے صدر ماجد رضا بھٹہ اور گجرانوالہ چیمبر آف کامرس (جی سی سی آئی) کے صدر سعید احمد تاج بھی شریک تھے۔

اجلاس میں مفاہمت کی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے جس کے تحت تینوں چیمبرز ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کریں جبکہ سالانہ 4 مشترکہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، اس موقع پر تینوں چیمبرز سے تعلق رکھنے والے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ چیمبرز کے صدور وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ خصوصی ملاقات کریں گے اور سی پیک کے روٹ پر بننے والے چینی صنعتی یونٹس پر اپنے تحفظات کا اظہار کریں گے، ساتھ ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ حکومت نے اس معاملے پر چیمبر کو اعتماد میں نہیں لیا۔

مزید پڑھیں: 'سی پیک سے مقامی آبادی اقلیت میں بدل سکتی ہے'

گجرات چیمبر کے صدر ابرار سعید کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ میں موجود کاروباری افراد کے بینک اکاؤنٹس کو سیل کیا جانا یا ایف بی آر حکام کو ان کے اکاؤنٹس تک رسائی نہیں دینی چاہیئے، ایف بی آر کے ایسے اقدامات کاروباری افراد کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا کررہے ہیں۔

سیالکوٹ چیمبر کے صدر ماجد رضا بھٹہ کا کہنا تھا کہ مقامی صنعت کاروں کی جانب سے سی پیک کے مقامی انڈسٹری پر ممکنہ اثرات کے خدشات کو فوری طور پر سنا جانا چاہیئے کیونکہ ایسی صورتحال میں دیگر شہروں کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ماجد رضا بھٹہ نے خطے کے ان مقامات پر نئی یونیورسٹیوں کے کیمپس قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا جن سے ان تینوں شہروں کی صنعتیں تحقیق، جدت اور وسائل کے حساب سے فائدہ اٹھاسکیں۔

چیمبرز کے صدور کی جانب سے مقامی کاروباری افراد کے لیے چین کی ویزا پالیسی میں آسانی پیدا کرنے کےحوالے سے بھی بات کی گئی۔


یہ خبر 2 جنوری 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔