تحریر کو مفت کا مال سمجھنے والوں کے نام

اپ ڈیٹ 03 جنوری 2017

Email


قومی اخبارات نے سوشل میڈیا کو اپنی چراگاہ بنا رکھا ہے۔ جہاں کچھ پسند آیا، اٹھایا اور بلا اجازت و بلا معاوضہ چھاپ دیا۔ — فوٹو mktang/Shutter Stock
قومی اخبارات نے سوشل میڈیا کو اپنی چراگاہ بنا رکھا ہے۔ جہاں کچھ پسند آیا، اٹھایا اور بلا اجازت و بلا معاوضہ چھاپ دیا۔ — فوٹو mktang/Shutter Stock

پچھلے دنوں ملک کے ایک مشہور و معروف قومی اخبار کے ایک بڑے صاحب کا فون آیا، انہیں ڈان نیوز پر شائع ہونے والا میرا ایک بلاگ بہت پسند آیا تھا۔ یقین جانیے، بے انتہا خوشی ہوئی کہ میری تحریر اساتذہ کو اچھی لگی اور کسی سینیئر سے بھی توصیف سننے کو ملی۔

کہنے لگے کہ اس انگریزی اخبار میں اردو کو کون پڑھتا ہوگا، آپ ہمارے اخبار کے لیے لکھیے۔ میں نے کہا ضرور، میرا دل بھی للچایا کہ اتنے بڑے اخبار میں میری تحریر شائع ہوگی تو کیا ہی بات ہوگی وغیرہ وغیرہ۔ ان سے ملاقات طے ہوئی اور ان کے دفتر جا پہنچا۔

وہ بہت مصروف تھے، لیکن بہت خوشدلی سے ملے۔ ساری باتیں طے ہو گئیں سوائے معاوضے کے۔ لکھنے والوں میں وضع داری عام لوگوں سے کچھ زیادہ ہوتی ہے، اس لیے باوجود خواہش کے پوچھ نہ پایا کہ آپ کا یہ عظیم الشان اخبار معاوضہ کیا دے گا؟

اس بارے میں سوچتا رہا، سوچتا رہا، پھر ایک دن ان کو پیغام لکھ بھیجا کہ آپ کے ہاں کسی معاوضے کا اہتمام بھی ہوتا ہے کہ نہیں؟ دو ایک ہفتے گزر گئے لیکن جواب ندارد، اور امید بھی نہیں کہ جواب آئے گا، کیوں کہ ہمارے ہاں قومی اخبارات کا وطیرہ ہے کہ عام لکھنے والوں کو معاوضہ دینے کے روادار نہیں۔ کچھ ایک دو اخبارات اعزازیہ عنایت کرتے ہیں جس سے اونٹ کے منہ میں زیرے والی ضرب المثل بنتی ہے۔

پڑھیے: کاپی رائٹ، صحیح یا غلط

مجھ سمیت اکثر لوگ اخبارات اور میڈیا ہاؤسز کے مالکان کے خلاف بات کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے کیوں کہ یہ ایک منٹ میں آپ کا خلاصہ کھول کر رکھ دیں۔ آپ نے پانچویں چھٹی جماعت میں جو خاموش عشق کیے ہیں، ان کی داستانیں تک کھود لاویں ہیں، جبکہ ان اخبارات کے لیے کام کرنے والے 'تحقیقی صحافی' اور 'سینیئر صحافی' وغیرہ بھی فلموں کے ان کرداروں کی ہی طرح ہیں جو سیٹھ کے غنڈوں کا کردار ادا کرتے ہیں، جن کا کام کسی کمزور پر ظلم کرنا ہوتا ہے۔ اپنی ذات کو سائے تلے رکھنا، بچائے رکھنا اور صرف اپنے مفادات کی حفاظت کرنا ہی ان کا اولین کام ہوتا ہے۔

ابھی اسی رواں ہفتے فیصل آباد سے ایک دوست نے ایک اخبار کی تصویر بھیجی کہ اس میں آپ کا مضمون چھپا ہے، ایسا مضمون جو میں نے انہیں بھیجا ہی نہیں۔ یہ مضمون ڈان نیوز میں شائع ہوا ہے جہاں سے یہ اس اخبار نے چُرا لیا، کیوں کہ یہ جن تصاویر کے ساتھ چھپا ہے وہ میرے اپنے بلاگ پر بھی نہیں چھپیں بلکہ صرف ڈان نیوز پر ہی چھپی ہیں۔ عبارت کا ابتدائی حصہ بھی کاٹ دیا گیا، لیکن شکر ہے کہ میرا نام باقی ہے، وگرنہ تو کسی کو کان و کان خبر نہ ہوتی کہ کس کی تحریر ہے۔

مزے کی بات تو یہ ہے کہ بہ یک وقت 11 شہروں سے اشاعت کے دعوے دار اس اخبار نے یہ مضمون اپنے فیصل آباد ایڈیشن میں شائع کیا ہے، جو کہ انٹرنیٹ پر دستیاب نہیں ہے۔ یعنی اگر آپ یا آپ کے احباب ایسے اخبارات خریدتے نہیں ہیں، اور یہ انٹرنیٹ پر بھی موجود نہیں، تو یہ نہایت آرام سے کسی بھی دوسرے ملکی و غیر ملکی اخبار، ویب سائٹ، جریدے، ٹی وی چینل کا مواد چرا چرا کر اپنے اخبار کا پیٹ باقاعدگی سے بھر سکتے ہیں، اور کسی کو شبہ تک نہیں ہونے والا کہ پسِ پردہ معاملہ کیا ہے۔

ابھی کچھ دیر پہلے ایک دوست نے بتایا کہ انہوں نے اپنا ایک مضمون ایک انگریزی اخبار کو بھیجا، جو ایک ماہ بعد تھوڑی سی رد و بدل کے بعد کسی اور نام سے کسی دوسرے اخبار میں چھپا تھا۔ یعنی ایسا ہونا بھی بعید از قیاس نہیں ہے۔ اس سے پہلے ہمارے بلاگر دوست مصطفیٰ ملک کی ایک تحریر ایک مشہور پاکستانی اخبار کی ایڈیٹر صاحبہ نے اپنے نام سے چھاپی تھی۔ اس ماحول میں تحریر چوری ہونے کے بعد بھی آپ کے نام سے ہی شائع کی جائے، تو بھی غنیمت ہی لگتا ہے۔

پڑھیے: انمول الفاظ کوڑیوں کے دام

چند دن پہلے ہی ایک ویب سائٹ نے میری ایک اور تحریر جو ڈان نیوز میں شائع ہوئی تھی، میرے بلاگ سے کاپی کر کے اپنی ویب سائٹ پر لگائی ہے۔ اجازت وغیرہ کا چکر ہی کیا، بس جو مزاج یار میں آئے کیوں کہ قومی اخبارات نے سوشل میڈیا کو اپنی چراگاہ بنا رکھا ہے۔ جہاں کچھ پسند آیا، اٹھایا اور چھاپ دیا۔

پاکستانی میڈیا جس کسوٹی پر دنیا کو پرکھتا ہے، اے کاش کہ خود بھی اسی ترازو میں خود کو ڈالے۔ کیا یہ کھلا استحصال نہیں؟ کیا یہ ڈاکہ زنی کی واردات نہیں؟ کیا تحریر کی چوری پر کوئی تعزیر نہیں ہوتی؟

اگر یہ خیراتی ادارے ہیں تو تحاریر مفت لے جائیں، لیکن اگر آپ اپنے اخبار سے کروڑوں کا منافع کماتے ہیں تو لکھنے والوں کو اُس آمدن میں سے حصہ دینے سے کیوں کتراتے ہیں جو آپ کو یہی تحاریر کو بیچ کر حاصل ہوتی ہے؟

دنیا میں کاپی پیسٹ اور لنکنگ کے کئی اصول وضع ہیں۔ دنیا میں بڑے بڑے اخبارات نے اپنی خبر کے نقل کیے جانے کے اصول وضع کر رکھے ہیں۔ آپ صرف کسی کا نام دے کر، یا دوسرے پر احسان کرتے ہوئے "بشکریہ" لکھ کر خبر اٹھا نہیں سکتے۔ اس کے لیے آپ کو لکھنے والے سے یا ادارے سے، یا پھر دونوں سے تحریری اجازت نامہ لینا ہوتا ہے۔

اکثر صورتوں میں اس اجازت نامے کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے۔ کچھ صورتوں میں آپ لنک دے کر کسی جگہ سے کاپی کر سکتے ہیں، مگر ہاں تب، جب آپ ایک غیر منافع بخش ادارہ چلا رہے ہوں، لیکن اگر آپ ایک منافع بخش کمپنی چلا رہے ہیں تو آپ کسی صورت بلااجازت و بنا معاوضہ تحریر نہیں اٹھا سکتے۔

پاکستان کے کئی اخباری ایڈیٹرز اس امر کو جائز سمجھتے ہیں۔ کسی دوسرے اخبار سے خبر اٹھا لینا پاکستانی ماحول میں بالکل بھی برا نہیں سمجھا جاتا۔ ایسے لوگ کم پڑھے جانے والے مصنفین یا بلاگرز کی تحاریر چھاپ کر کسی ندامت کے بجائے فخر محسوس کرتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کا بھلا کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ہمارے بلاگرز، کالم نگاروں، لکھنے والوں میں بھی اس آگاہی کی کمی ہے کہ وہ اپنی تحریر سے فوائد کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔ لکھنے والوں میں سے زیادہ تر افراد ایسے ہیں کہ جن کی تحریر اگر دوسرے اخبار یا ویب سائٹ پر شائع ہو، تو وہ اسے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی سمجھنے کے بجائے اپنی شہرت سمجھ کر خوش ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے پرائے مواد پر قائم اداروں کا حوصلہ بڑھتا ہے۔

پڑھیے: چوری کرتے ہوئے ہاتھوں میں چراغ

اس ماحول میں جب سیڑھی پر چڑھنے کا طریقہ کار ہی ایک ہو تو کوئی نہ کوئی بغل بچہ کبھی کبھی نہ پکا صحافی یا ایسا صحافی جو لکھنے سے پیسے کما سکے بن ہی جاتا ہے۔ پھر اس طرح وقت کی بھٹی میں کوئلہ بنے ہوئے استاد لوگ مارکیٹ لیڈر بنتے ہیں تو سب کو اسی طرح ہی تربیت دیتے ہیں جیسے کہ ان کی اپنی تربیت کی گئی تھی۔

پاکستانیوں کو اخلاقیات کا درس دینے والے ادارے کیا خود بھی کسی اخلاقی حد کے پاسدار ہیں؟ کیا جو صحافی صبح و شام ان اداروں میں کام کر رہے ہیں ان کو اپنے خون پسینے کا پورا معاوضہ مل پاتا ہے؟ ایسے درجنوں گلے میرے دل میں پرورش پاتے ہیں۔

اہلِ ہنر ہر دور میں آشفتہ حال رہے ہیں، لیکن اہلِ ہنر کا استحصال اور اس پر گہری خاموشی، اس سے گھناؤنا جرم کیا ہو گا؟ میرا رزق ابھی اس پیشے سے وابستہ نہیں مگر جن کی روزی روٹی ہی لکھنا ہے ان گھروں پر کیا بیتتی ہوگی؟

میں نے پچھلے دنوں سفری بلاگ لکھنے کا آغاز کیا۔ ایک ایک سفر کی ایک ایک تصویر اپنی قیمت رکھتی ہے۔ اگر آپ نے پراگ کے چارلس برج کی اچھی تصویر لینی ہے تو آپ کو اس پل کے کونے پر ایک برجی پر اوپر جانا ہو گا، اس کی قیمت پندرہ یورو ہوگی۔ شہرِ فاطمہ پر بلاگ ہم نے لزبن سے ڈیڑھ دو گھنٹے تک ڈرائیو کر کے تیار کیا تھا۔ اوسلو کے ایئر پورٹ سے سینٹرل اسٹیشن تک جانے کا خرچ عوامی ٹرانسپورٹ پر بھی پانچ ہزار روپے کے قریب ہو گا۔

کیا عوام کی آواز ہونے کا دعویٰ کرنے والے ان مشہور اخبارات نے کبھی سوچا ہے کہ جو خونِ جگر اس تحریر کو لکھنے پر صرف ہوتا ہے، اس کا معاوضہ کیا ہے؟ کبھی آپ بھی سوچیے، لوگوں کو سوچنے کی دعوت دینے سے ذرا پہلے۔