موسمی تبدیلی، پانی کی قلت سے صحرائی رقبے میں اضافہ

14 جنوری 2017

ای میل

اسلام آباد: ملک میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت اور موسمی تبدیلی ہر سال صحرا میں کئی ایکڑ رقبے کے اضافے کا باعث بن رہی ہے جبکہ زیر زمین پانی کی سطح میں بھی بتدیج کمی واقع ہورہی ہے۔

ملک میں صحرا کے اضافے کو روکنے اور بنجر زمین کو زرخیز کرنے کیلئے موسمی تبدیلی کی وزارت کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں تجاویز پیش کرنے کیلئے متعدد اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔

صحرا میں اضافے سے مراد زرخیز زمین کا بنجر ہوجانا ہے اور ایسا قحط سالی، جنگلات کی کٹائی اور زراعت کے نامناسب طرز عمل اپنانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اجلاس کی صدارات کرتے ہوئے موسمی تبدیلی کی وزارت کے سیکریٹری سعید ابو احمد عاکف نے صحرا بنانے کے عمل اور پاکستان میں جنگلات کی کٹائی کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے اور اقوام متحدہ کے پروگرام کے ذریعے 800000 ایکٹر اراضی کو 2020 تک زرخیز بنانے پر زور دیا، موسمی تبدیلی کی وزارت، صوبائی حکومتوں اور مقامی کمیونٹی مشترکہ اقدامات کے ذریعے اس پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گی۔

اقوام متحدہ کے مذکورہ پروگرام کو پائیدار زمین کے انتظام کا پروگرام یا Sustainable Land Management Programme (ایس ایل ایم پی) کا نام دیا گیا ہے اور 2015 میں اس پروگرام کی نگرانی کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جاچکی ہے۔

سیکریٹری کا کہنا تھا کہ 'اس پروگرام کے ذریعے زمین کے وسائل کے بہتر انتظام، ملک میں غربت میں کمی، بہتر ذریعہ معاش، غذائی تحفظ اور بہتر معاشی نظام کیلئے طویل کوششیں کی جائیں گی۔

جوائنٹ سیکریٹری اسحاق علی نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان کے ان علاقوں کو، جو صحرا بن گئے ہیں یا جن کے صحرا بن جانے کا خدشہ ہے، زراعت کا جدید نقطہ نظر اور ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔

اجلاس کے بعد ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے ایس ایل ایم پی کے نیشنل کوآرڈینیٹر حامد مروت کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال متعدد علاقوں میں نظر آرہی ہے، جن میں چکوال، خوشاب، بکھر، لکی مروت، ڈی آئی خان، تھرپارکر، سانگھڑ، عمر کورٹ، پشین، قلعہ عبداللہ، لسبیلہ اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان علاقوں میں پینے کا صاف پانی موجود نہیں اور زیر زمین پانی کی سطح 1000 فٹ سے بھی کم ہو چکی ہے، بورنگ کی وجہ سے پانی کی سطح مزید کم ہورہی ہے اور ایک موقع آتا ہے کہ بورنگ بھی کام نہیں کرتی'۔

انھوں نے بتایا کہ 'ہم نے 14 اضلاع میں چھوٹے ڈیم بنانے اور سال بھر پارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ زمین کو زرخیز کرنے اور لوگوں کو روز گار دینے کیلئے اقدامات کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ورنہ لوگ درخت کاٹنے لگے گئے'۔

حامد مروت کا کہنا تھا کہ صحرا بننے کے عمل سے مزید مشکلات پیدا ہورہی ہیں، انھوں نے مزید ڈیموں کی تعمیر اور موجودہ ڈیموں میں مزید پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے پر زور دیا، جیسا کہ صفائی کے ذریعے تربیلہ میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی مقدار 25 فیصد بڑھائی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ پودے لگانے کیلئے مقامی کمیونیٹیز کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

یہ رپورٹ 14 جنوری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی