ثبوت آخر کس کی ذمہ داری ہیں؟

اپ ڈیٹ 15 جنوری 2017

Email


سابق چیف جسٹس، جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کے سامنے جو مدعا سب سے غور طلب رہا ہے وہ یہ کہ عدالت میں ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری یا بارِ ثبوت کس پر ہے؟

پانچ رکنی بینچ کی سماعت میں دیکھا گیا ہے کہ جس فریق کے دلائل ہوتے ہیں، اُس دن میڈیا پر بھی انہی دلائل کی روشنی میں دونوں فریقین بیان بازی کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ شام کو ہونے والے ٹاک شوز میں وہی دلائل نواز لیگ اور تحریک انصاف کے رہنما، وکیل بن کر پیش کرتے ہیں اور اینکر صاحبان، تجزیہ کاروں کی مدد سے ججز کا کردار نبھاتے ہیں۔

پڑھیے: پاناما لیکس پر میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت

سماعت کے دوران یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کبھی بارِ ثبوت سپریم کورٹ میں پانچ درخواستیں دائر کرنے والے درخواست گذاروں پر ڈالا جاتا ہے اور کبھی شریف خاندان پر لندن فلیٹس خریدنے اور سرمائے کی پاکستان سے منتقلی کے ثبوت عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ لیکن ابھی تک کی سماعتوں کے بعد عوام سمجھنے سے قاصر ہے کہ عدالت کے سامنے ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف نے احتجاج اور میڈیا کے ذریعے وزیراعظم سمیت شریف خاندان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تو متعدد بار کیا اور متعدد بار تحریک انصاف کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف ثبوت بھی میڈیا پر دکھائے گئے۔ مگر یہ ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے گئے۔ جس سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے عدالت، میڈیا ہے اور میڈیا، عدالت۔

تحریک انصاف نے جو ثبوت عدالت میں پیش کرنے ہوتے ہیں وہ میڈیا پر پیش کرتی ہے اور جو دلائل عدالت میں دینے والے ہوتے ہیں انہیں میڈیا میں پیش کیا جاتا ہے۔

پاناما لیکس کیس کی سماعت کرنے والا سابق بینچ اور موجودہ بینچ دونوں فریقن کو عدالت کے سامنے ثبوت پیش کرنے کے بارے میں متعدد بار کہہ چکے ہیں۔ جس کے جواب میں نواز لیگ کبھی قطری شہزادے کا خط پیش کر دیتی ہے اور تحریک انصاف وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین کے انٹرویوز کے علاوہ وزیر اعظم کی اسمبلی میں کی گئی تقریروں کو پیش کردیتی ہے۔

اس کے علاوہ اگر دورانِ سماعت جرح کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ معزز ججز کسرِ نفسی سے کام لے رہے ہیں۔ جیسے ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔

پڑھیے: سرےمحل سے پاناما لیکس تک:سیاستدانوں کےنادر بیانات

پاکستانی تاریخ میں اہم ترین کیس کا فیصلہ معزز بینچ تو جلد کرنا چاہتا ہے۔ مگر پاکستان میں رائج عدالتی نظام کی وجہ سے نہ تو عدالت فریقین کی طرف سے پیش کردہ ثبوتوں کی جانچ پڑتال کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی فریق کے پیش کردہ ثبوتوں کو رد کر سکتی ہے۔ ثبوت فراہم کرنے اور انہیں غلط یا جعلی ثابت کرنے کی زمہ داری بھی دوسرے فریق کی ہے۔ نہ کہ معزز ججز کی۔

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ایڈورسریل (Adversarial) عدالتی نظام رائج ہے۔ جس کے مطابق کسی بھی تنازع (مدعے) میں ملوث فریقین کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دوسرے فریق کے خلاف خود ثبوت ڈھونڈ کر عدالت کے سامنے پیش کریں۔

جبکہ دوسرے انکوئزیٹوریل (Inquisitorial) عدالتی نظام میں عدالت خود سے سرگرم عمل ہو کر سچ کی کھوج میں فریقین کے دعووں کی تحقیقات کر سکتی ہے۔

پاکستان میں رائج عدالتی نظام (Adversarial) کے مطابق سپریم کورٹ بنیادی طور پر شریف خاندان اور پانچ درخوست گذاروں کے درمیان ریفری کا کردار نبھاتے ہوئے فراہم کردہ ثبوتوں اور پیش کردہ دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی، لیکن خود سے سرگرم ہو کر پیش کردہ ثبوتوں کی جانچ پڑتال اور پیش کردہ دلائل کی تصدیق نہیں کرسکتی۔

لہٰذا عدالت کے سامنے ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری تحریک انصاف کی ہے اور شریف خاندان کو اپنے اوپر لگے الزامات کا صرف دفاع کرنا ہے۔ چاہے وہ قطری شہزادے کے پیش کردہ خط سے متعلق ہوں یا پھر وکلاء کے پیش کردہ دلائل سے متعلق ہوں۔

اس کے علاوہ کسی بھی فریق کی طرف سے پیش کیے جانے والے ثبوتوں کو دوسرے فریق کی طرف سے جعلی یا غلط ثابت کرنے کی صورت میں عدالت پیش کردہ ثبوتوں کو رد کرتے ہوئے مزید ثبوت پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

پڑھیے: 'پاناما لیکس تحقیقات کی سربراہی فوج کرے'

سپریم کورٹ میں شریف خاندان کے خلاف دائر کردہ پانچ درخواستیں پاکستان تحریک انصاف، عوامی مسلم لیگ، جماعت اسلامی، ایڈووکیٹ طارق اسد اور بیرسٹر ظفراللہ خان کی طرف سے دائر کی گئیں ہیں۔ جن میں عدالت سے مندرجہ ذیل استدعات کی گئیں ہیں۔


پاکستان تحریک انصاف


پی ٹی آئی نے دائر کردہ درخواست میں استدعا کی ہے کہ عدالت سیکریٹری داخلہ کو پابند کرے کہ وہ وزیراعظم سمیت ان کے خاندان کے افراد، جن کے نام پاناما لیکس میں آئے ہیں، کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالیں۔ درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت شریف خاندان اور وزیر اعظم کے ٹیکس گوشواروں اور ظاہر کردہ اثاثوں کی تحقیقات کے لیے ایف بی آر کو حکم دے۔


جماعت اسلامی


امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت، پاکستان سے باہر آف شور کمپنیوں میں ناجائز طریقوں سے کی گئی سرمایہ کاری کو پاکستان واپس لائے اورمجرموں کو گرفتار کیا جائے۔


عوامی مسلم لیگ


شیخ رشید احمد کی عدالت سے استدعا ہے کہ شریف خاندان اور وزیر اعظم پر پاناما لیکس میں لگنے والے الزامات کے لیے میمو گیٹ کمیشن کے طرز پر تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔


ایڈووکیٹ طارق اسد


ایک اور دائر کردہ درخواست میں ایڈووکیٹ طارق اسد کی طرف سے استدعا کی گئی ہے کہ شریف خاندان اور وزیر اعظم کی آف شور کمپنیز میں مبینہ سرمایہ کاری کی تحقیقات کے لیے ایک اعلٰی سطحی عدالتی کمیشن بنایا جائے۔


بیرسٹر ظفراللہ خان


پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق دائر کردہ پانچویں درخواست میں وطن پارٹی نے استدعا کی ہے کہ عدالت تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیٹی یا پینل تشکیل دینے کا حکم دے۔

پڑھیے: پاناما پیمپرز: کس نے کیا کہا؟

اب اگر ان پانچ درخواستوں کو دیکھا جائے تو جماعت اسلامی کی درخواست میں ان تمام افراد کے خلاف تحقیقات کرنے کی استدعا کی گئی ہے جن کا نام پاناما لیکس میں آیا ہے۔ ان میں شریف خاندان کے افراد تو شامل ہیں لیکن وزیر اعظم نہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین، علیم خان اور حتٰی کہ عمران خان کے خلاف بھی جماعت اسلامی تحقیقات چاہتی ہے۔

عوامی لیگ کے سربراہ اور ایڈووکیٹ طارق اسد نے اپنی درخواستوں میں تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کو کہا ہے۔ لیکن اس کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان عمران خان بہت پہلے ہی کر چکے ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی یا پینل تشکیل دینے کی درخواست پر اگر فیصلہ دے بھی دیا جائے تو تحریک انصاف اسے بھی ماننے سے انکاری ہوگی، کیونکہ تحریک انصاف تو اس پارلیمنٹ کو ہی نہیں مانتی تو پھر پارلیمانی کمیٹی یا پینل کو کیسے مانے گی۔

لہٰذا ایسی صورتحال میں عدالتی بینچ بندھے ہاتھوں کے ساتھ پاناما لیکس کی سماعت پر سماعت کرتا جا رہا ہے جبکہ دونوں فریقین بھی بعض اوقات ایسے دلائل پیش کرتے ہیں جن سے لگتا ہے کہ تحریک انصاف کے وکیل، شریف خاندان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اور شریف خاندان کے وکلا تحریک انصاف کا۔

پاناما لیکس کی سماعت کے دوران دونوں فریقین کی طرف سے وکلاء بھی تبدیل کیے گئے جو کہ دونوں فریقین کی گھبراہٹ اور پشیمانی کا ثبوت ہے۔ لیکن روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی سماعتوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ فیصلہ آنے میں کافی وقت لگ جائے گا۔ جس کا فائدہ حکمران جماعت اور نقصان تحریک انصاف کو ہوگا جو کل ہی فیصلہ اور اگلے دن انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے۔