دبئی چلو: پاکستان سے ہجرت انتخاب یا مجبوری

اپ ڈیٹ 18 جنوری 2017

Email


ایک زمانہ تھا جب "چلو چلو دبئی چلو!" کے نعرے نے بڑی مقبولیت پائی۔ جسے دیکھو بقچہ اٹھائے، ملک خداداد سے نالاں، قسمت سنوارنے ، زندگی بنانے دبئی، متحدہ عرب امارات اورسعودی عرب کا رخ کرتا تھا۔

وقت کا پہیہ گھوما ،زمانے نے کروٹ لی، انسانی تخیل کی پرواز نے لمبی اڑان بھری اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ، عرفِ عام میں 'ولایت' کا رخ کرنے لگی۔

بچپن میں ایک سہیلی تھی، تین بہنوں میں سب سے چھوٹی۔ من موہنی صورت والی۔ اس کے ابا پڑھنے ولایت گئے اور ایسے گئے کہ کبھی واپس نہ پلٹے۔ پر اب تو معاملہ ہی دوسرا ہے۔ ہجرت شوق نہیں مجبوری بن گئی ہے۔ گو دیس کے مقابلے میں پردیس میں زندگی خار زار ہے، نہ نوکریاں آسانیاں سے ملتی ہیں، نہ گھر پر نوکر چاکر کا سکھ نصیب ہوتا ہے، کیسے کیسے وہاں جا کر ایسے ویسے بن جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ نئے سرے سے نئے ملک کے رواج کے مطابق تعلیم حاصل کرنا اور ہنر سیکھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔

پڑھیے: کیا بنگلہ دیشی پاکستانیوں سے آگے نکل گئے ہیں؟

ان ترقی یافتہ ممالک میں رنگ و نسل اور عمر و ہنر کے حساب سے مقابلہ ہمہ و قت سخت اور وقت کم رہتا ہے۔ یہی معاملہ بینکار رضا اور ان کی اہلیہ کے ساتھ ہوا، جو ایک پرتعیش زندگی گزارنے کے باوجود پاکستان کے سیاسی او ر معاشرتی حالات سے نالاں ہو کر اپنے بچوں سمیت آسٹریلیا منتقل ہوگئے اور دو سال گزرنے کے باوجود اب تک نہ تو اپنے شعبے میں نوکری حاصل کر پائے، نہ وہ پر سکون زندگی جس کے خواب انہوں نے ملک میں دیکھے تھے۔ لیکن اپنی تمام تر قربانیوں اور تکالیف کو وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کا صدقہ سمجھ کر بخوشی سہہ رہے ہیں۔

35 سالہ ماہر نفسیات عمارہ نے حال ہی میں کینیڈا کے راستے کھلنے پر اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنے کی ٹھانی اور اس دور دراز برفیلے دیس میں جا کر بس گئیں جہاں انہیں کچھ اور ملے نہ ملے بحیثیت ایک غیر شادی شدہ خاتون، معاشرتی دباؤ اور خاندان کے بے جا طعنوں سے نجات ضرور مل گئی ہے۔

حکومت پاکستان کے جنوری 2016 میں کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق، قریباً 7.8 ملین پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا اوسطاً 4 فیصد بنتا ہے۔ ان بیرون ملک پاکستانیوں میں سے ایک بڑی تعداد مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 1971 سے 2015 کے درمیان تقریباً 80 لاکھ پاکستانیوں نے قریباً پچاس کے قریب ممالک میں رخت سفرباندھا جن میں سرِفہرست سعودی عرب، متحدہ عرب عمارات، بحرین، کویت، عمان، قطر، برطانیہ، امریکا اور کینیڈا ہیں۔

نائمہ علی 40 برس کی ہیں۔ ایک ممتاز پاکستانی بینک کی اعلیٰ نوکری چھوڑ کر وہ حال ہی میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکا جا بسیں۔ وجہ جاننے پر یوں گویا ہوئیں "امریکہ میںِ زندگی قدرے محفوظ اور بچوں کا مستقبل روشن ہے۔ ان کے پاس کام کرنے اور تعلیم کے ان گنت مواقع موجود ہیں جو کہ میری ہجرت کا اصل مقصد ہے۔"

پڑھیے: تارکینِ وطن کب تک 'خود غرض' کہلائیں گے

تاحال نائمہ ایک انڈین ہوٹل میں کام کر رہی ہیں اور اکثر اپنے خاندان، خصوصاً ماسی کو یاد کرکے روتی ہیں۔ تاہم ان کے نزدیک زندگی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ علی جو کہ نائمہ کے شوہر ہیں، ان کے لیے یہ فیصلہ نسبتاً اور بھی مشکل تھا۔ خصوصاً اس تناظر میں کہ وہ پاکستان میں ایک نجی ادارے میں آئی ٹی ہیڈ کی حیثیت سے عمدہ مراعات حاصل کر رہے تھے اور اب امریکا میں سیکورٹی گارڈ کے طور پر روزگار کمانے میں مصروف ہیں۔ عمیر کے بقول ہجرت کی کڑوی گولی اپنے ملک میں فرقہ وارانہ تعصب اور ٹارگٹ کلنگ کی کی وجہ سے نگلنی پڑی جس کا شکار ان کے اپنے بھائی اور کزن ہو چکے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ کو ئی بھی شخص اپنا گھر، ملک اور خاند ان چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن جب وطن میں رہنے کی قیمت عدم تحفظ اور ہمہ وقت خوف کی صورت میں دینی پڑے، جب اپنے ہی دیس میں آپ کو رنگ، نسل، فرقے، مذہب، مسلک اورزبان کے نام پر غیر کر دیا جائے اور مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے کی پاداش میں آپ کو جان کے لالے پڑ جائیں تو ایسے میں اپنے پیاروں کی خاطر رخت سفر باندھنا ہی پڑتا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان تارکین وطن کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہبود سے متعلق شعبے کے 2016 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک سال میں ملک چھوڑنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سال 2015 میں تقریباً دس لاکھ پاکستانیوں نے تلاش معاش کے غرض سے ملک سے ہجرت کی ۔ ان پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہنرمند افراد کی تھی جنکی تعدادایک اندازہ کے مطابق سالانہ 40 سے 50 ہزار کے قریب ہے۔

پڑھیے: یورپ کی میٹھی جیل

ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ اکثر بہتر روزگار کے مواقع اور معاشی آسودگی کے لیے دیار غیر کی راہ اختیار کرتے ہیں اوردربدری کی صعوبتیں ایک پرسکون اور روشن مستقبل کی چاہ میں اٹھاتے ہیں۔

اس حوالے سے بحرین میں مقیم ابصار کا کہنا ہے کہ پاکستانی نو جوانوں کی ساری زندگی روٹی، کپڑا اور مکان کی تگ ودومیں گزر جاتی ہے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کی عدم موجودگی میں اعلٰی مقصد حیات کی کو شش خیال خام لگتا ہے۔ جبکہ بیرون ملک معمولی نوکریاں کر کے بھی فرد واحد اپنی اور اپنے اہل خانہ کی باعزت طریقے سے کفالت کر سکتا ہے۔ ان ممالک میں ایک عام آدمی کو علاج معالجے اورتعلیم کی وہ سہولیات حاصل ہیں جو ہمارے یہاں محض امرا ء کے لیے مخصوص ہیں۔

ایسے میں اپنے وطن، اپنے پاکستان میں معاشی اورمعاشرتی انصاف کے ساتھ ایک پر سکون اور آسودہ زندگی کی خواہش ہر تارک وطن کے دل میں بستی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ کبھی تو وہ دن آئے گا جب وہ اپنے گھر پورے یقین کے ساتھ لوٹے گا۔

تادم تحریر تو یہ آس دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے جس کے پورے ہونے کی مو جودہ ملکی پس منظر میں کوئی صورت نظر نہیں آتی۔