صوبائی حکام کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کو نظر بند کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں اور مرکز کے باہر پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق پنجاب میں جماعت الدعوۃ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا گیا ہے اور لاہور کی سڑکوں پر لگے جماعت الدعوۃ کے بینرز اتار دیے گئے ہیں۔

امیر جماعت الدعوۃ حافظ سعید کو نظر بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوتے لاہور کے علاقے مریدکے میں واقع مرکز کے باہرپولیس کی بھاری نفری کو تعینات کردیا گیا ہے۔

جماعت الدعوۃ کے سیکرٹری اطلاعات ندیم اعوان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 'پولیس کی بھاری نفری جماعت الدعوۃ کے مرکز پر پہنچی اور ہمیں اطلاع دیا کہ حافظ سعید کو نظر بند کیا جائے گا'۔

ندیم اعوان کا کہنا ہے کہ پولیس کے مطابق ان کے پاس حافظ سعید سمیت دیگر پانچ افراد کے گرفتاری کے وارنٹ موجود ہیں۔

صوبائی محکمہ داخلہ کی ہدایت پر جماعت الدعوۃ کے دفاتر سے تنظیم کے پرچموں کو اتار کر ان کی جگہ قومی پرچم لہرا دیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق حافظ سعید لاہور کے علاقے چوبر جی میں قائم قدسیہ مسجد میں موجود ہیں جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ سعید کو جوہر ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ پر منتقل کرکے اس کو سب جیل قرار دیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1977 کے سیکشن (1)EEE-11 کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔

دوسری جانب ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی نے حکومت کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ کے نام کو فورتھ شیڈول میں رکھنے کی تجویز دی تھی

مزید پڑھیں: ’حافظ سعید کونسے انڈے دیتا ہے جو ہم اسے پال رہے ہیں‘

واضح رہے کہ ہندوستان نے 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملے کا ذمہ دار حافظ سعید کو ٹھہرا تے ہوئے پاکستان سے ان حملوں کے ذمہ داریوں خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا جس کی توثیق امریکا نے بھی کی تھی۔

امریکا نے حافظ سعید پر ممبئی حملوں میں میں کردار ادا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی، ممبئی حملوں میں 6 امریکی شہریوں سمیت 166 افراد مارے گئے تھے۔

تاہم حافظ سعید متعدد بار 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں میں کسی بھی کردار کی تردید کرتے رہے ہیں۔

ندیم اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت حافظ سعید کے خلاف کارروائی یا پابندیوں کے لیے امریکا کے دباؤ کا شکار تھی اور 'یہ حکومت دباؤ کا شکار ہوچکی ہے'۔