میرے منٹو کو کوئی بُرا نہ کہے!

اپ ڈیٹ 04 فروری 2017

ای میل

وہ بازارِ حسن کی گلیوں میں گھوما پھرا۔ اُن در و دیوار سے دل اور درد دل کے دھنیں مرتب کیں جہاں شرفا بدن اور لذت کی چاہ میں آتے ہیں۔ تنگ کمروں، اداس کھڑکیوں اور اجڑے آنگنوں میں زندگی کے دن اور رات تلاش کیے۔

خاموش چہروں پر لکھی ان کہی کہانیوں، بناوٹی مسکراہٹ میں چھپی گہری نفرتوں اور سرگوشیوں میں لپٹے سودوں سے دوستیاں کیں۔ شدت، فرار اور بے تابی کو برہنہ کیا اور پھر ان سب کے لہو سے قرطاس ابیض کو رنگین کردیا۔

یوں، سماج کا حساس ترین عنوان ہی سہی، انسانی نفسیات، جنسی الجھنیں اور طوائف کا کوٹھا موضوع سخن بن گیا۔ جو ذوق رکھتا ہے پڑھ لے، جسے تامل ہے وہ گریز کرے مگر میرے منٹو کو کوئی بُرا نہ کہے! وہ منٹو جو عمر بھر غم سمیٹتا، زخم پالتا اور نشے میں چور کراہتا رہا، بڑی مشکل سے سویا ہے۔ اسے سونے دیں! درست کہ کہیں کہیں اس کی زبان بہکی، الفاظ سیلانی ہوئے اور تقدیس مشرق کا پاس نہ رہا۔ یہ بھی درست کہ صرف انہی اوصاف پر ایک طبقے نے اسے اپنا استعارہ بنالیا۔

پڑھیے: فحش کون: منٹو یا معاشرہ؟

مگر اسکا موضوع، تلخی، منظرنگاری، قوت تحریر، بے باکی اور بے ساختگی ان تمام ثانوی اعتراضات پر بھاری ہیں۔ اسے فحش نگاری تک محدود کردینا زیادتی ہے۔ وہ ایسا زندہ افسانہ نگار ہے جس کے کردار سماج میں جابجا بکھرے پڑے ہیں۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اردو افسانے کا ذکر اس وقت تک نامکمل ہے جب تک اس میں منٹو کو شامل نہ کرلیا جائے۔

فحش نگاری کے ہنگامے نے اسے محدود کر دیا حالانکہ اس کے کئی بہترین افسانے ہندوستان کی جنگِ آزادی، جدوجہد اور تقسیم کے گرد گھومتے ہیں۔ اس نے سیاسی و معاشی اتار چڑھاؤ کے انسانی نفسیات پر اثرات کا گہرا مشاہدہ کیا اور انہیں جوں کا توں بیان کردیا۔لیکن ہتک، کھول دو، کالی شلوار اور ٹھنڈا گوشت کا شور اٹھا تو اسکی دھول میں کئی شاہکار افسانے دب گئے۔

وہ عہد نظریاتی صف بندی کا بھی تھا، جس میں صرف منٹو ہی نہیں، کئی دیگر ادیب بھی بے رحمی سے کچلے گئے۔ ماہرالقادری بھی تھے جنہوں نے الفاظ کو ایسی جادوگری سکھائی کہ وہ پرواز پر نکل پڑے، نسیم حجازی بھی جنہوں نے تاریخ اور رومان کو ایسے یکجا کیا جیسے باغ و بہار۔

شورش کاشمیری بھی جنہوں نے صحافت کو بات کہنے کا انداز دیا۔ اشفاق احمد بھی جنہوں نے معرفت کو نیا زاویہ بخشا۔ قدرت اللہ شہاب بھی جنہوں نے اقتدار کی غلام گردشوں کو لفظوں کے نخلستان میں بند کر دیا اور ممتاز مفتی بھی جنہوں نے مقدسات میں بے تکلفی کا دلکش رجحان متعارف کروایا۔

ان تمام صاحبانِ قلم نے جو دیکھا اور محسوس کیا، انہیں لفظوں کی تعبیر دے دی۔ یہ وہ آئینہ تھے جس میں سماج نے اپنا اصلی چہرہ دیکھا۔ ممکن ہے کہ کہیں توازن قائم نہ رہا ہو مگر ادب میں یہ کب شرط ہے۔ افسوس کہ دائیں بائیں کی رقابت میں ادیب بٹ گئے۔ ایک طبقے نے کسی کو مسند پر بیٹھایا اور تاج پوشی کی تو دوسرا طعنے تشنے کرتا زبان بندی کے لیے نکل آیا۔

قریب دو سال ہوتے ہیں کہ کسی بھری محفل میں "ایک محبت سو افسانے" کا ذکر زبان پر آ گیا، پھر کیا تھا کہ طوفان بدتمیزی نے مکالمے کا راستہ روک دیا۔ بہتان یہ تھا کی بابے نے قدامت پسندی اور شدت پسندی کی آبیاری کی۔ کل کی بات ہے کہ ایک دوسری نشست میں "بارش" کو خودسوزی کا محرک بتایا گیا، کوئی پوچھے کہ نویں کے بچے کا منٹو سے کیا تعلق۔

پڑھیے: منٹو کا لکشمی مینشن

ممکن ہے کہ نوجوانی کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے والے بچے ڈائجسٹ کی سستی کہانی پڑھ کر یا کوئی بدیسی فلم دیکھ کر کسی کمزور لمحے میں کوئی غلطی کر بیٹھیں مگر یہ اہتمال بھلا کیسے کیا جاسکتا ہے کہ کوئی صاحب سنجیدہ افسانہ پڑھ کر اٹھیں تو خود کو اپنی استانی کی محبت میں گرفتار پائیں۔

منٹو خود بھی ایسی تہمتوں پر خاموش نہیں رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ معاشرے کے تاریک پہلوؤں سے پردہ اٹھاتی تلخ کہانیوں میں اگر کسی کو جنسی لذت نظر آتی ہے تو یقیناً وہ ذہنی طور پر بیمار ہے۔

انہوں نے کئی بار لکھا کہ اسے لفظوں کے پیچھے چھپنا نہیں آتا اور نہ ہی وہ کسی ایسی بناوٹ کا قائل ہے جو سیاہی کو سفیدی میں تبدیل کر دے۔ پھر منٹو کے یہاں ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے مقصد کی ترقی پسند سوچ بھی نمایاں تھی۔

ہر ایک کا اپنا مدرسہ ہائے فکر ہے۔ یقیناً سوچ الفاظ میں اترتے ہیں، نقطہ نظر جملوں کا مرکزی خیال بنتے ہیں اور نظریہ کبھی دانستہ اور کبھی بے خیالی میں بند کا حاصل ہوتا ہے، مگر فن شناس لوگ تخلیق سے وہ موتی اور گُہر چنتے ہیں جن پر ہم سب کا حق ہے مگر ضروری ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر ڈھونڈا جائے۔

کسی نے کہا ہے کہ ادیب سانجھے ہوتے ہیں، ان کی سوچ بھلے نہ لیں مگر ان کی باتوں کا حُسن ضرور سمیٹیں۔ منٹو بھی اسی سلوک کا مستحق ہے۔