اسلام آباد: ماہرین آبی وسائل کے مطابق پاکستان کے پالیسی سازوں میں متوقع پانی کی قلت سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے سبب ملکی سیکیورٹی، استحکام اور ماحولیاتی پائیداری خطرے کا شکار ہے۔

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے سابق چیئرمین شمس الملک نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی رپورٹ 'ڈیولپمنٹ ایڈووکیٹ پاکستان' میں شامل پانی کے سیکیورٹی خدشات کو اجاگر کیا۔

شمس الملک کے مطابق پاکستان میں پانی سے متعلق پالیسی موجود نہیں اور اہم پالیسی ساز پاکستان کے آبی وسائل کے 'غائبانہ جاگیردار' بنے ہوئے ہیں، اس غائبانہ جاگیرداری نظام کے باعث پانی ان افراد کی جاگیر بن کر رہ گیا ہے جبکہ غریب اپنا حصہ حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

سابق چیئرمین واپڈا کا کہنا تھا کہ وزارتِ پانی و بجلی کی خواہش پر آبی وسائل کی ایک رپورٹ تیار کی گئی تھی تاہم بدقسمتی سے وفاقی کابینہ اس کا جائزہ لینے اور اسے منظور کرنے کے لیے وقت نہیں نکال سکی۔

مزید پڑھیں: 'قومی پانی کی پالیسی' منظوری کی منتظر

شمس الملک کے مطابق جاگیردارانہ نظام کی بدترین مثال سندھ میں دیکھنے کو ملتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں پختون برادری کہیں زیادہ مساواتِ انسانی پر یقین رکھتی ہے، عمومی طور پر جاگیردار نہیں چاہتے کہ غریب افراد معاشی طور پر مستحکم ہوسکیں لہذا پانی کا مسئلہ سیاسی رنگ اختیار کرچکا ہے۔

مختلف موسموں میں دریاؤں کے بہاؤ میں ہونے والی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں میں 84 فیصد تک رہنے والا پانی کا بہاؤ سردیوں میں صرف 16 فیصد ہوجاتا ہے جو کہ ایک اہم مسئلہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ربیع اور خریف فصلوں کے اعتبار سے موسم گرما میں پانی کی ضرورت 66 فیصد جبکہ موسم سرما میں 34 فیصد تک ہوتی ہے یوں گرمیوں میں 18 فیصد تک پانی زیادہ موجود ہوتا ہے مگر سردیوں میں 18 فیصد پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شمس الملک کے مطابق گرمیوں میں پانی کی اضافی مقدار سیلابوں کی وجہ بنتی ہے جس کے نتیجے میں سندھ کے میدانوں میں انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے اور موسم سرما میں پانی کی قلت ربیع کی فصل کی پیداوار کو متاثر کرتی ہے، مضبوط حکومت نہ ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ یوں ہی جاری ہے جو کہ پاکستان کی معیشت کے لیے نقصان کا باعث ہے۔

وزارت برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے فیڈرل واٹرمینیجمنٹ سیل کے ڈائریکٹر جنرل محمد طاہر انور کے مطابق مجموعی پالیسی کے ڈھانچے میں 18 ملین ایکڑ فٹ کے برابر بارش کے پانی اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کو نظرانداز کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: موسمی تبدیلی، پانی کی قلت سے صحرائی رقبے میں اضافہ

طاہر انور کے خیال میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دریاؤں، زیرزمین پانی، بارش کے پانی اور پہاڑوں سے آنے والے پانی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جائے تاکہ کم ہوتے پانی کے وسائل کا درست استعمال ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں آبی وسائل کے تحقیقاتی ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اشرف کا کہنا تھا کہ تمام اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک بنتا جارہا ہے تاہم اسٹیک ہولڈرز اور بالخصوص پالیسی سازوں میں اس بڑھتے ہوئے خطرے کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ سماجی اور معاشی شعبوں میں اس کے متوقع بدترین اثرات دیکھنے سے بھی قاصر ہیں۔

ڈاکٹر محمد اشرف کے مطابق 'پانی کی قومی پالیسی' کے ڈرافٹ کو منظور ہونا چاہیئے جو آبی وسائل کو محفوظ بنانے کے حوالے سے بہترین رہنمائی کرسکتا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کو بھی اس حوالے سے قومی پالیسی کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرنی چاہیئے۔


یہ خبر 6 فروری 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔