5 جی زندگی میں کیسے انقلاب برپا کرے گی؟

اپ ڈیٹ 05 مارچ 2017

ای میل

— فوٹو بشکریہ ہیواوے
— فوٹو بشکریہ ہیواوے

جدید ترین سیلولر فائیو جی ٹیکنالوجی آئندہ برسوں میں عام صارفین کے لیے متعارف کرائی جانے والی ہے مگر اس کی آزمائش دنیا کے کئی حصوں میں ہورہی ہے۔

اور اس کا مظاہرہ بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران بھی جہاں اس نئی ٹیکنالوجی کے فوائد کو سامنے لایا گیا۔

موبائل ورلڈ کانگریس میں سام سنگ نے فائیو جی ہوم روٹرز کے ٹرائل کیے تھے جس کی رفتار 4 گیگا بائٹس فی سیکنڈ تھا، جس کا مطلب ہے کہ پچاس جی بی کی فائل محض منٹ جبکہ سو جی بی کی فلمیں چار منٹ میں ڈاؤن لوڈ کی جاسکیں گی۔

آسان الفاظ میں آپ ایک منٹ میں فل ایچ ڈی کی دس سے پندرہ فلمیں اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے۔

اس کے حوالے سے ابتدائی تحقیق اور ڈویلپمنٹ کافی عرصے سے ہورہی ہے اور یہ ہمارے ارگرد ہر ڈیوائس کو ایک دوسرے سے کنکٹ کردے گی۔

اور ہاں یہ موجودہ موبائل انٹرنیٹ کنکشن سے سو گنا جبکہ گھروں کے براڈ بینڈ کنکشن سے دس گنا تیز ہوگی۔

مگر صرف رفتار ہی نہیں فائیو جی ایسے فیچرز کے ساتھ ہوگی جو کہ ٹیکنالوجی کی دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔

ویسے تو کہا جارہا ہے کہ اس کے آنے میں کم از کم تین سے چار سال لگ سکتے ہیں مگر یہ توقع سے پہلے بھی سامنے آسکتی ہے۔

یہاں آپ جان سکیں گے کہ فائیو جی سے آپ کیا کچھ کرسکیں گے۔

کہیں سے بھی سرجری

رفتار سے ہٹ کر فائیو جی کا سب سے بڑا فائدہ ایک ڈیوائس کی نیٹ ورک سے پنگنگ اور ریسپانس کا وقت مختصر ہونا ہے، فور جی ایل ٹی ای میں یہ مسئلہ موجود ہے مگر فائیو جی نیٹ ورک میں اس سے چھٹکارا پالیا جائے گا اور اس طرح کسی سرجن کے لیے ضروری نہیں ہوگا کہ مستقبل میں وہ آپریشن کے لیے مریض کے ساتھ کمرے میں ہو، بلکہ وہ وی آر ہیڈ سیٹ اور خصوصی دستانوں کے ذریعے ایک روبوٹ ہاتھ کو کنٹرول کرکے آپریشن کو دنیا کے کسی بھی کونے سے کرسکیں گے، جس کا تجربہ کنگز کالج لندن کی ٹیم کررہی ہے۔

میلوں دور سے چیزوں کو چھونے کا احساس

سرجری سے ہٹ کر کنگز کالج لندن کی ٹیم ہیپٹک فیڈ بیک پر بھی کام کررہی ہے جس کے ذریعے صارفین اپنے تجربے کے احساس کو ٹرانسمیٹ کرسکیں گے، ویڈیو کے مناظر اور ساﺅنڈ کو زیادہ دور تک پھیلا سکیں گے۔

خودکار ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیاں

ویسے تو اس وقت گوگل اور دیگر کمپنیاں خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیت رکھنے والی گاڑیوں پر سرمایہ کاری کررہے ہیں مگر بیشتر کا ماننا ہے کہ ایسی مکمل خودکار سواریاں فائیو جی نیٹ ورک کے بغیر ممکن نہیں۔ فوری ردعمل ظاہر کرنے والا نیٹ ورک اور اس کی کوریج گاڑیوں کو دیگر سواریوں اور شہر بھر میں نصب سنسرز سے رابطے میں مدد دینے والے عناصر ہیں جس سے حادثے کا امکان ختم ہوجائے گا۔

ڈرونز

اسی طرح فائیو جی ڈرونز کی صنعت کی حقیقی اہلیت کو بھی سامنے لاسکے گی، ماہرین کے مطابق مثال کے طور پر ایک ڈرون ویڈیو کیمرے کے ساتھ کسی جگہ پرواز کرتا ہے، تو اس نیٹ ورک کی مدد سے اسے بہتر طریقے سے کنٹرول کرکے ایچ ڈی ویڈیو حاصل کی جاسکے گی۔

براڈ بینڈ

فائیو جی واضح طور پر روایتی انترنیٹ سروسز کا متبادل ثابت ہوگی اور یہ امریکا میں تو بہت جلد ہونے والا ہے کیونکہ وہاں کمپنیاں نے ٹرائلز کے لیے سرمایہ کاری شروع کردی ہے۔ ویسے تو موبائل فونز میں فائیو جی بتدریج سامنے آئے گی مگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اگلے سال فائیو جی فون لانے کے لیے تیار ہیں۔