خواجہ سرا اور معذور افراد کا بھی مردم شماری میں اندراج ہوگا

اپ ڈیٹ 16 مارچ 2017

ای میل

اسلام آباد: لاہور ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ادارہ شماریات کو 15 مارچ سے ملک کے 63 اضلاع میں جاری مردم شماری کے دوران خواجہ سراؤں اور معذور افراد کو شمار کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالتی احکامات کے بعد ادارہ شماریات نے مردم شماری کے پرانے فارمز پر ہی معذوروں اور خواجہ سراؤں کو شمار کرنے کا فارمولہ تیار کرلیا۔

مردم شماری کے عملے کو دیئے گئے پرانے فارم میں خواجہ سراؤں اور معذوروں کا خانہ نہیں ہے، تاہم عدالتی احکامات کے بعد خواجہ سراؤں کے لیے جنس کے خانے میں 6 کا ہندسہ استعمال کیا جائے گا۔

مرد معذور افراد کے لیے 4، جب کہ معذور خواتین کے لیے 5 کا ہندسہ استعمال کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائی کورٹ نے بھی 15 مارچ کو خواجہ سراؤں اور معذوروں کو مردم شماری میں شمار کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ اس حوالے سے 17 مارچ کو سندھ ہائی کورٹ میں بھی درخواست پر سماعت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے 63 اضلاع میں مردم شماری

سپریم کورٹ نے مردم شماری کے فارم میں معذور افراد کا آپشن شامل نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے ادارہ شماریات سے پوچھا کہ بتایا جائے کہ معذور افراد اور خواجہ سراؤں کو شمار کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟

ادارہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ مردم شماری کا فارم پہلے تیار کیا گیا تھا اور عدالتی احکامات بعد میں ملے تھے، تاہم مردم شماری کے 3 ماہ بعد ایک نئے گرین فارم کے ذریعے معذور افراد کا اندراج کیا جائے گا۔

ادارہ شماریات کے جواب پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ آپ کو کیا مجبوری ہے کہ آپ پنک اور گرین فارم اکٹھے کر رہے ہیں، دنیا بھر میں اس طرح کا ڈیٹا مردم شماری کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے۔

ادارہ شماریات کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وقت اور افرادی قوت کی کمی کے باعث بیک وقت تمام ڈیٹا نہیں لے سکتے، جب کہ فنڈز کی بھی کمی ہے اور مردم شماری کے فارمز بھی 10 سال پرانے ہیں۔

مزید پڑھیں: ملک میں 19 سال بعد چھٹی مردم شماری

عدالت نے 10 سال پرانے مردم شماری کے فارمز کے حوالے سے ادارہ شماریات کے سربراہ سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے 2012 میں خواجہ سراؤں کو مردم شماری میں شمار کرنے کا حکم دیا تھا، تو نئے فارمز کیوں نہیں چھپوائے گئے؟

عدالتی استفسار پر خاطر خواہ جواب نہ دینے پر عدالت نے ادارہ شماریات کو ہدایات کیں کہ پرانے مردم شماری کے فارم میں ہی جنس کے خانے میں خواجہ سراؤں کے لیے 6 کا ہندسہ، معذور مرد کے لیے 4 اور معذور خواتین کے لیے 5 کا ہندسہ استعمال کرکے ان کی شماری کریں۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس میاں ثاقب نثار نے کی، جب کہ بینچ میں جسٹس اعجازالحسن بھی شامل تھے۔

عدالت نے ادارہ شماریات کو معذوروں اور خواجہ سراؤں کا اندراج کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹادی۔