سائبر قانون کے تحت پہلی خاتون کی گرفتاری

26 مارچ 2017

ای میل

سیالکوٹ: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پہلی مرتبہ سائبر کرائم قانون کے تحت ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے، خاتون پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے بیرون ملک مقیم ایک شخص کو بلیک میل کرنے میں ملوث ہیں۔

ایف آئی اے کے سینئر افسر کے مطابق 37 سالہ سعدیہ مرزا کو لندن کے رہائشی احسن رانا کو بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

احسن رانا کے بھائی کی جانب سے ایف آئی اے کو دی گئی شکایتی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ سعدیہ مرزا نے ان کے بھائی کو فیس بک پر پیغام بھیجا اور ان سے رقم کا مطالبہ کیا۔

ایف آئی اے کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق سعدیہ مرزا پر احسن رانا کو' دھمکی آمیز، توہین آمیز اور فحش پیغامات' بھیجنے کا الزام ہے۔

کیس کی تحقیقات اور خاتون کی گرفتاری انسپکٹر حمیرا کنول کی سربراہی میں بنائی گئی ایف آئی اے کی ٹیم نے کی جبکہ مقدمے میں الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کی ذیلی شق ایک اور دفعہ 24 کی ذیلی شق بی اور سی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ایف آئی اے کے سینئر افسر نے یہ بھی بتایا کہ سیالکوٹ کی رہائشی ملزمہ کو گرفتاری کے بعد ریمانڈ پر مقامی تھانے میں منتقل کردیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ 26 مارچ 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی