ای میل

یہ اسٹوپا کیا اُس سڈیرن کا ہے جو بے گناہ مارا گیا؟

ابوبکر شیخ

شاید میں یہ فیصلہ کبھی نہ کر سکوں کہ لوک کہانیاں حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں یا نہیں۔ مگر اتنا یقین ضرور ہے کہ تھوڑی ہی سہی سچائی تو ہوگی جس کی بنیاد پر یہ لوک کہانیاں صدیوں تک نسل در نسل سفر کرتی رہتی ہیں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے میری نانی اور میری خالہ کو کئی کہانیاں زبانی یاد تھیں۔ مئی اور جون میں جب دوپہر تپتی تو ہمارے محلے میں ہولناک سناٹا چھا جاتا، شدید دھوپ اور گرمی گھر سے باہر جیسے کسی لاوے کی طرح بہتی۔ تب گھر کی ٹھنڈک کا ایک رومانوی احساس سارے وجود میں گھر کر جاتا۔

دو ڈھائی گھنٹوں کے اس دورانیے میں مجھے کبھی نیند نہیں آئی۔ اور میں نانی اماں کی گود میں سر رکھ کر کہانیاں سنتا رہتا۔ جب زندگی نے مجھ سے کہا کہ اب بچپنا ختم، تب میں نے نانی اماں سے پوچھا،’کہانیاں بھی ختم؟‘

تب اُنہوں نے کہا، نہیں, کہانیاں تو حقیقتوں اور تمناؤں کی فصلوں کی طرح ہوتی ہیں، جن میں دُکھ اور سُکھ کی کیفیوں کے بیج بوئے ہوتے ہیں۔ وقت کی ہوا لگتی ہے تو یہ بیج ہوا کے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ جہاں ہوا نے چھوڑا وہیں اگ جاتے ہیں۔ یہ ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

رچرڈ ایف برٹن جب 1845 میں جب سندھ آئے تو اُنہوں نے کئی مقامی لوک اور نیم تاریخی کہانیوں کی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ آئیے ان میں سے ہی ایک تاریخی کہانی کے سفر میں ہم بھی اُن کے ساتھ چلتے ہیں۔

رچرڈ برٹن منظرناموں اور اُن میں شامل حقیقتوں کا مشاہدہ کرنے میں کمال حد تک مہارت رکھتے تھے۔ وہ سفر میں جو بھی دیکھتے وہ تحریری صورت میں آنے والے زمانوں کے لیے قلمبند کرتے تھے۔ چاہے وہ رہٹ کی آواز ہو، کسی پرندے کی اُڑان کی سرسراہٹ، طلوع آفتاب کی خوبصورتی یا پھر شام کی لالی میں چُھپی اُداسی ہو۔

نئی پھلیلی— تصویر ابوبکر شیخ
نئی پھلیلی— تصویر ابوبکر شیخ

نئی پھلیلی — تصویر ابوبکر شیخ
نئی پھلیلی — تصویر ابوبکر شیخ

نئی پھلیلی— تصویر ابوبکر شیخ
نئی پھلیلی— تصویر ابوبکر شیخ

نئی پھلیلی— تصویر ابوبکر شیخ
نئی پھلیلی— تصویر ابوبکر شیخ

برٹن سردیوں میں حیدرآباد سے پُھلیلی نہر میں کشتی پر سوار ہو کر ’سڈیرن جو ٹھل (اسٹوپا)‘ تک پہنچے۔ وہ لکھتے ہے، "یہاں پانی زمین کی سطح سے نیچے بہتا ہے اس لیے نئی پھلیلی کے کنارے آپ کو رہٹ چلتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ علاقہ مصر جیسا لگتا ہے، ابھی جاڑوں کے دن ہیں مگر پھر بھی آپ کو دریا کے دونوں کنارے سرسبز نظر آئیں گے باقی زمینیں ویران نظر آئیں گی۔ اکثر اچھی زرخیز زمینوں پر شکار گاہیں بنائی گئی ہیں۔ بڑے جنگلوں کی وجہ سے آپ کو کناروں سے حد نظر تک پورا علاقہ سرسبز نظر آتا ہے۔"

پُھلیلی کا بہاؤ اب ماضی کی طرح نہ سہی لیکن اس کے کناروں نے اپنی خوبصورتی کسی حد تک اب بھی سنبھال رکھی ہے۔ کناروں پر اب پھول کم ہی کھلتے ہیں البتہ کیکر کے درختوں کی چھاؤں اور آکاس بیل کا پیلا رنگ اب بھی کہیں کہیں کیکر کے درختوں پر نظر آ جاتا ہے۔ کم ہی سہی، گھاٹ اب بھی موجود ہیں جو دونوں کناروں پر بسے گاؤں کے لوگوں کو آپس میں ملاتے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی کشتیاں ہیں جو اس بہاؤ میں چلتی ہیں اور کبھی میتوں کو دوسرے کنارے پہنچاتی ہیں کیونکہ قبرستان دوسرے کنارے پر ان میتوں کو اپنی آغوش میں چھپانے کے منتظر ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ میں رات کو جب چاند پُھلیلی کے بہتے پانیوں پر چمکتا ہے تو گیتوں کا سُر اور ڈھول کی تھاپ ان کشتیوں سے ہوتی ہوئی پانی پر بہتی بڑی دُور تک سنائی دیتی ہے۔ عیدوں کی شامیں اور صبحیں تو کیا غضب کی خوبصورت ہوتی ہوں گی۔ فطرت سے خوبصورت اور کچھ بھی نہیں ہی۔

رچرڈ برٹن جب پُھلیلی کا یادگار سفر کر کے جب اس مقام پر پہنچے، اس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ، "ہم جب اس جگہ پر پہنچے جہاں سے پھلیلی کا دوسرا بہاؤ نکلتا ہے اور یہاں پر جو آثار دیکھے وہ ایک بڑے شہر ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ہم نے رات قیام کی، ہم اپنے بند خیمے کے اندر جلتی آگ سے کافی لطف اندوز ہو رہے تھے۔ خیمے کے باہر پہلے کُتوں کے بھونکنے کی آوازیں آئیں پھر دُور سے کہیں گدھوں کے ہینگنے کی آوازیں سنائی دیں، رات دیر سے گیدڑوں کی رونے کی آوازیں آنے لگیں۔"

پھلیلی کا پرانہ بہاؤ — تصویر ابوبکر شیخ
پھلیلی کا پرانہ بہاؤ — تصویر ابوبکر شیخ

پھلیلی کا پرانہ بہاؤ — تصویر ابوبکر شیخ
پھلیلی کا پرانہ بہاؤ — تصویر ابوبکر شیخ

برٹن صاحب نے یہاں سرد موسم میں رات گزاری تھی، جس وجہ سے شمال کی ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔ یہ آوازیں شمال کی طرف پھلیلی کے دوسرے کنارے پر آباد گاؤں ’نورائی‘ سے آرہی تھیں۔ وہ گاؤں اب بھی آباد ہے۔ بلکہ یہاں پُھلیلی کے دونوں کناروں پر دیگر گاؤں بھی آباد ہیں اور بہاؤ پر گھاٹ موجود ہے جہاں پانی پر سے آمد و رفت کے لیے کشتیاں چلتی ہیں۔

رچرڈ ایف برٹن کو سردی کی اس رات میں بہتے دریا کے کنارے آرام کرنے دیتے ہیں۔

میری بھی بڑی تمنا تھی کہ، میں بھی کشتی میں سفر کرتے ہوئے یہاں تک آتا مگر اب یہ ممکن نہیں رہا اس لیے اس تمنا کو دوسری ہزاروں تمناؤں کی طرح گٹھڑی میں باندھ کر سر پر رکھا اور نکل پڑے اُس ’سڈیرن‘ کی تاریخی کہانی کی تلاش میں۔

آپ اگر حیدرآباد سے ٹنڈو محمد خان کو جاتی سڑک پر گامزن ہوں تو مغرب میں گنجو ٹکر کا پہاڑی سلسلہ آپ کے ساتھ ہمسفر ہوتا ہے اور مشرق میں پھُلیلی کے بہاؤ آپ کے ساتھ چلتے ہیں۔ 22 کلومیٹر کے سفر کے بعد پھلیلی کا ایک بہاؤ ’پنجاری‘ آتا ہے جس کا مغربی کنارہ لے کر آپ جنوب کی طرف چلتے جائیں۔

پھر چند کلومیٹر کے فاصلے پر پنیاری نہر پر بنا ایک پرانہ اور خستہ حال پل آتا ہے اُس پر سے گزر کر آپ مشرق کی طرف چلتے ہیں، تو آگے سعید پور ٹکر کی ایک چھوٹی سی آبادی ہے جہاں سے آپ شمال کی طرف مُڑ جاتے ہیں۔ آپ کے مشرق میں چُونا پتھر کی بے رنگ پہاڑیاں پھیلی ہوئی ہیں تھوڑا آگے چل کر پہاڑیوں کا یہ مختصر سلسلہ اتنا مختصر ہو جاتا ہے کہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

پھر آگے مغرب کی طرف کچھ زرعی زمینیں ہیں اور پھر ایک چھوٹی سی نہر کو پار کرنے کے بعد جیسے مشرق کی طرف چلتے ہیں تو سامنے وہ جگہ ہے جہاں، رچرڈ برٹن نے سردیوں کی وہ رات گزاری تھی۔

ہم جب یہاں پہنچے تو تیز دھوپ پھیلی تھی اور ایک مٹی کا خستہ مینار ہے جو صدیوں سے یہاں کھڑا ہے۔ ہینری کزنس لکھتے ہیں، "میدان میں جہاں سے پھلیلی کا ایک اور بہاؤ نکلتا ہے (اُس زمانے میں جو پُھلیلی نہر سے دوسرا بہاؤ نکلتا تھا اُس کے آثار ابھی تک چند کلومیٹرز تک نظر آتے ہیں) وہاں میلوں پر محیط ایک قدیم شہر کے آثار موجود ہیں۔

روایات سے پتہ چلتا ہے کہ کسی زمانے میں یہ بڑا آباد شہر تھا۔ یہاں جب اسٹوپا کی کھدائی کی گئی تو اس اسٹوپا کی اونچائی 137 فٹ تھی اور اس اسٹوپا کے آنگن کی لمبائی شمال سے جنوب کی طرف 98 فٹ 16 انچ اور مغرب سے مشرق کی طرف چوڑائی 76 فٹ 9 انچ تھی۔ یہاں دیگر چھوٹے بڑے ٹیلے بھی تھے مگر اب ان کا وجود باقی نہیں رہا۔"

بدھ اسٹوپا، سڈیرین جو ٹھل — تصویر ابوبکر شیخ
بدھ اسٹوپا، سڈیرین جو ٹھل — تصویر ابوبکر شیخ

بدھ اسٹوپا، سڈیرین جو ٹھل — تصویر ابوبکر شیخ
بدھ اسٹوپا، سڈیرین جو ٹھل — تصویر ابوبکر شیخ

بدھ اسٹوپا، سڈیرین جو ٹھل— تصویر ابوبکر شیخ
بدھ اسٹوپا، سڈیرین جو ٹھل— تصویر ابوبکر شیخ

ڈاکٹر غلام علی الانا تحریر کرتے ہیں کہ، "بھنڈارکر نے جب یہاں اس سائٹ کی کھدائی کی تو یہاں سے ’ڈاگوبا‘ بنا تھا جو زمین کی نچلی تہہ میں موجود تھا۔ یہ ایک سمادھی یا چھوٹی قبر کی طرز پر تھا۔ اس کی اونچائی 6 سے 9 فٹ تھی اور سارا مٹی کی کچی اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔

ڈاگوبا کے متعلق، بھنڈارکر کا خیال ہے کہ، اسے محفوظ رکھنے کے لیے لکڑی کی چھت بنائی گئی ہوگی۔ ’کزنس‘ کے مطابق، ممکن ہے کہ گوتم بُدھ کی ہڈیاں اس ڈاگوبا کی تہہ میں رکھی گئی ہوں۔ جھونا گڑھ کے ’بوریا اسٹوپا‘ میں سے گوتم بدھ کی ہڈیوں کا پاؤڈر ایسی کیفیت میں ملا تھا جیسا یہاں سے ملا تھا۔ اس لیے یہ اسٹوپا راجہ کنشک کے زمانے کا ہو سکتا ہے اور اس کی تعمیر پہلی صدی عیسوی میں ہوئی ہوگی۔"

ہینری کزنس تو یہاں تک کہتے ہیں کہ، "ماضی میں جنوبی سندھ، بدھ مت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ راجا کنشک کشمیر کے راجاؤں سے زیادہ مقبول اور مشہور تھے اور سندھ کے جنوب تک ان کی حکمرانی تھی، اُنہوں نے اپنی فوج کا دائرہ یہاں تک یعنی دریائے سندھ کے ڈیلٹا اور سمندر تک پھیلایا اور یہاں بہت سارے اسٹوپاؤں کی تعمیر کروائی ہوگی۔

میں اس اسٹوپا کو اس لیے اہمیت دے رہا ہوں کہ، ایک تو اس کی اونچائی دیگر اسٹوپاؤں سے زیادہ ہے اور دوسرا، یہ دو حصوں میں بنایا گیا ہے۔ پہلا حصہ دوسرے سے بڑا اور وسیع ہے۔ یہ تعمیر بدھ مت کی درسگاہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو تیسری صدی میں دور دور تک ایک مشہور تھی۔ تسیانگ نے اس اسٹوپا کی مورتیوں کو گن کر اسے ایک بڑی درسگاہ کہا تھا۔ مگر یہاں اس عظیم درسگاہ نے وقت کے ساتھ اتنی بربادی دیکھی ہے کہ ان آثاروں سے زیادہ کچھ ملنے کی توقع رکھنا عبث ہی ہوگا۔"

اب اُس کہانی کو سنتے ہیں جس کہانی کی وجہ سے ہم تپتی دھوپ میں یہاں آ کر پہنچے ہیں۔ مجھے مقامی لوگوں نے جو کہانیاں بتائیں وہ کچھ عجیب و غریب تھیں، مگر ہم 173 برس پہلے رچرڈ برٹن کی بتائی ہوئی کہانی کو سنتے ہیں۔

"راجا رام اپنے وقت کا اس علاقے کا ایک بڑا بادشاہ تھا۔ اُنہوں نے وہ سارے کام کیے جو ایک بادشاہ کو کرنے چاہیئں۔ یوں انہوں نے شادیاں بھی کچھ زیادہ ہی کیں۔ اس لیے اُن کا خاندان بھی کافی بڑا تھا۔ پھر اتفاق یہ ہوا کہ، راجا رام کا بڑا بیٹا سڈیرن جب جوان ہوا تو اس کی ماں مرگئی۔ خیر بادشاہ ایک نئی نویلی دلہن اپنے محل میں لے آئے۔

راجہ رام کی بیوی بہت خوبصورت تھی اور 'سڈیرن' سے دل ہی دل میں محبت کرتی تھی۔ ایک دن سڈیرن تیراندازی سیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک تیر سوتیلی ماں کے کمرے میں گرا۔ وہ تیر لینے کمرے میں گیا تو رانی نے اپنے دل کا حال سنایا۔ مگر سڈیرن نے کہا کہ، آپ میری ماں کی جگہ پر ہیں، یہ خرافات دل سے نکال دیں۔

اپنی ناکامی دیکھ کر رانی نے انتقام لینے کا سوچا۔ بادشاہ اکثر شکار پر رہتے تھے، راجہ رام جیسے ہی شکار سے لوٹے تو رانی نے راجا کو بتایا کہ آپ کے بڑے بیٹے نے مجھے بُری نظروں سے دیکھا ہے۔ راجا یہ بات سُن کر طیش میں آ گئے اور تلوار میان سے نکال کر شہزادے کو قتل کے ارادے سے نکل پڑے۔ شاہی باغ میں شہزادہ تیراندازی سیکھ رہا تھا، جب اپنے باپ کو غصے میں آتے دیکھا تو حالات کو بھانپ لیا مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔

شہزادے نے سوچا کہ میرا باپ مجھے قتل کرنے کے بعد پچھتائے گا اس لیے اس نے بھگوان سے وینتی (عرض) کی کہ، "اے بھگوان مجھے مار دے کہ میرا باپ اس الزام سے بچ جائے۔" اور سڈیرن وہیں مر گیا۔ جب بادشاہ نے یہ منظر دیکھا تو بڑا پشیمان ہوا اور اپنے بیٹے کی بے گناہی کا اسے یقین ہو گیا۔ محل میں آ کر رانی کو قتل کرنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا حکم دیا اور رانی کو یہاں دفن کر دیا گیا۔ جوان بیٹے کی موت نے راجہ رام کو زیادہ جینے نہیں دیا اور وہ بھی بیٹے کے غم میں جلد ہی مر گیا۔ انہیں بھی یہاں پر دفن کردیا گیا۔"

بدھ اسٹوپا کی آثار قدیمہ سائٹ پر تعمیر کیے گئے گھر— تصویر ابوبکر شیخ
بدھ اسٹوپا کی آثار قدیمہ سائٹ پر تعمیر کیے گئے گھر— تصویر ابوبکر شیخ

بدھ اسٹوپا کی آثار قدیمہ سائٹ پر اگائے جانے والے کھیت— تصویر ابوبکر شیخ
بدھ اسٹوپا کی آثار قدیمہ سائٹ پر اگائے جانے والے کھیت— تصویر ابوبکر شیخ

کہتے ہیں کہ اس اسٹوپا کے مشرق میں راجا رام اور اُس کی رانی کی چھوٹے چھوٹے گنبدوں والی ڈیوریاں (ڈیوری اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں ہندو انسانی جسم کی راکھ کو دفن کرتے ہیں۔) تھیں۔ جن پر ہر برس دور دور سے لوگ آتے ان ڈیوریوں کے اُلٹے سیدھے پھیرے لگا کر پتھر مارتے جس سے اُن کی نفرت کا اظہار ہوتا کہ ایک بے گناہ نوجوان کو محض ایک شک کی بنیاد پر وقت سے پہلے مار دیا گیا۔

کچھ محققین کے مطابق اس کہانی نے نیرون کوٹ کے قدیم قلعے کی چاردیواری کے اندر جنم لیا تھا۔ (حیدرآباد کا موجودہ پکا قلعہ اس قدیم قلعے کی بنیادوں پر بعد میں تعمیر کیا گیا)۔ نیرون بادشاہ (راجا رام) کے خاندان کی خاک نیرون کوٹ سے جنوب کی جانب دریائے سندھ کے کنارے اس بدھ مت کے اسٹوپا والی جگہ پر دفن کی جاتی تھی۔

پھلیلی کا بہاؤ اسی قدیم قلعے کے قریب سے گذرتا تھا لہٰذا نیرون کوٹ (حیدرآباد) سے یہاں اسٹوپا تک آنا کچھ مشکل نہیں ہوتا ہوگا۔ بلکہ یہ تفریح کا ایک اچھا موقعہ ثابت ہوتا ہوگا۔

پھلیلی کے قدیم بہاؤ کے کنارے اس اسٹوپا کے آس پاس اُس سڈیرن کی خاک کی ڈیوری ضرور ہوگی جو بے گناہ تھا۔ میں نے مقامی لوگوں سے بہت پوچھا لیکن جواب یہ آتا،"یہ اسٹوپا اُس سڈیرن کا ہے جو بے گناہ مارا گیا۔" مجھے پتہ ہے اس جواب کا پہلا حصہ غلط اور دوسرا حصہ بالکل صحیح ہے۔ کیونکہ اسٹوپا کا ’سڈیرن‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر پھر بھی لوگ بدھ مت کے اس اسٹوپا کو اُس نام سے منسوب کرتے ہیں جو یقیناً بے گناہ تھا۔ شاید اس بے گناہی نے سڈیرن کو اب تک کسی نہ کسی حوالے سے زندہ کیے رکھا ہے۔

میں جب اس قدیم اسٹوپا پر سے چہار سو دیکھتا ہوں تو ہر جگہ کھُدائی کی ہوئی نظر آتی ہے۔ لوگ اس اہم مقام پر اپنی مرضی سے فصلیں اُگا رہے ہیں، یہ تاریخی مقام مسلسل سکڑتی جا رہی ہے۔ جس کو جب جی میں آتا ہے جہاں آتا ہے آثاروں کو کھودتا ہے اور جو قدیم نوادرات ملتی ہیں وہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

اسٹوپا کے ارد گرد مقامی افراد قیمتی نوادرات کے لیے جگہ جگہ کھدائی کر رہے ہیں — تصویر ابوبکر شیخ
اسٹوپا کے ارد گرد مقامی افراد قیمتی نوادرات کے لیے جگہ جگہ کھدائی کر رہے ہیں — تصویر ابوبکر شیخ

سائٹ پر کی گئی مقامی لوگوں کی کھدائی اور اس میں ملنے والے نوادرات — تصویر ابوبکر شیخ
سائٹ پر کی گئی مقامی لوگوں کی کھدائی اور اس میں ملنے والے نوادرات — تصویر ابوبکر شیخ

1998 میں میں جب یہاں آیا تھا۔ تب بھی حالت کوئی اتنی اچھی نہیں تھی مگر اتنی بھی بُری نہیں تھی جتنی کہ اب ہے۔ آثار قدیمہ کے مقام پر لوگوں نے زمینیں آباد کردی ہیں۔ اسٹوپا سے خالص سفید دریا کی چکنی مٹی کی اینٹوں کو آس پاس کے گاؤں والے نکال نکال کر لے جاتے ہیں۔

ہاں البتہ محمکہ آثار قدیمہ نے اینٹوں اور سیمنٹ کی ایک بورڈ نما دیوار بنادی ہے جس پر وہ اس سائیٹ کے متعلق کچھ معلومات درج کرنا چاہتے ہوں گے مگر لوگوں نے بتایا کہ بہت عرصہ گزر چکا ہے اور اب یہ بنی دیوار گرنے لگی ہے مگر تحریر کرنے والا کوئی نہیں آیا۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو کسی راستے پر نشاندہی کرنے والا ایک سائن بورڈ تک نظر نہیں آئے گا۔

بس آپ اگر وہاں جانا چاہتے ہیں تو چلے جائیں، آپ کو روکا کس نے ہے؟ لوگوں سے پوچھتے جائیں کبھی نہ کبھی تو پہنچ ہی جائیں گے!

چونکہ مذکورہ قدیم لوک کہانی کا انجام دردناک تھا۔ اس طرح کی محسوسات رچرڈ برٹن صاحب کو بھی ہوئی تھیں اور اتفاق یہ ہے کہ ہم جب اس لوک کہانی سے منسوب مقام سے واپس جا رہے ہیں تو ہماری کیفیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

افسردہ ہم بھی ہیں اور سوچتے ہیں کہ سڈیرن کو جو سزا ملی وہ گناہ کی نہیں بے گناہی کی تھی اور اس تاریخی اسٹوپا کو برباد کرنے کی جو سزا مل رہی ہے وہ گناہ کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری غیر ذمہ داری اور اس تاریخی مقام کی بے گناہی کی وجہ سے مل رہی ہے۔


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔

ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔