ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ تک جاپہنچا

اپ ڈیٹ 18 اپريل 2017

ای میل

اسلام آباد: ملک کے جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت 46 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ پہنچتے ہی بجلی کا شارٹ فال ایک بار پھر 6 ہزار میگاواٹ تک تجاوز کرگیا، جس کے نتیجے میں غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 16 گھنٹوں تک جا پہنچا۔

ملک کے بیشتر حصوں سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اہم شہری علاقوں میں 7 سے 9 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جبکہ دیہی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 10 سے 18 گھنٹے تک رہا۔

وزارت پانی وبجلی کے حکام کے مطابق پیر (17 اپریل) کو ملک میں بجلی کی طلب 19 ہزار میگاواٹ کے قریب رہی جبکہ کل پاور سپلائی ساڑھے 13 ہزار میگاواٹ تھی، یوں طلب اور رسد میں ساڑھے 5 ہزار میگاواٹ کا فرق سامنے آیا جسے فیڈرز بند کرکے پورا کیا گیا۔

تاہم آپریشن ایریا ذرائع کے مطابق بجلی کی کل پیداوار 12 ہزار 700 میگاواٹ تھی اور شارٹ فال تقریباً 6 ہزار 300 میگاواٹ کے برابر رہا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 6 سے 7 فیصد ٹرانسفارمیشنل اور ٹرانسمیشن نقصانات اور 17 سے 18 فیصد ڈسٹربیوشن لوسز کے بعد صرف 10 ہزار میگاواٹ بجلی صارفین تک پہنچ پائی۔

ذرائع کے مطابق پاور سسٹم کو مستحکم رکھنے کے لیے اس قدر گہرے خلاء کو پُر کرنا ایک مشکل کام بن چکا ہے اور زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فلیڈ اسٹاف کے پاس اور کوئی آپشن نہیں بچتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فریکوئنسی میں فرق کے باعث نظام کو مکمل بند ہونے سے بچانے کے لیے فیڈرز کی بندش ضروری ہوجاتی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ سبی، بھکر، رحیم یار خان اور خیرپور میں درجہ حرارت کا 47 ڈگری تک پہنچ جانا غیر معمولی ہے جبکہ اپریل میں ہی بہاولپور، بہاول نگر، لاڑکانہ، سکھر اور شورکوٹ میں پارہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک تجاوز کرگیا۔

دوسری جانب بڑے اور لوڈ سینٹرز جیسے کہ ملتان، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور جیکب آباد میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہا۔

ذرائع کے مطابق ہائیڈرو پاور منصوبے سے حاصل ہونے والی بجلی زیادہ سے زیادہ 2 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ عوامی سیکٹر کی کمپنیوں سے 2 ہزار 700 میگاواٹ پیداوار حاصل ہوتی ہے، جبکہ آزاد توانائی پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی پیداوار تقریباً 8 ہزار میگاواٹ کے برابر ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بڑے شہروں میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب میں متوقع اضافے کے باعث آئندہ 10 دن خاصے اہم ہیں جبکہ اس دوران ہائیڈرو پاور پلانٹس کی پیداوار اور کچھ یونٹس کی مینٹی ننس کے لیے طے شدہ بندش بھی کی جائے گی۔

تاہم چند نئے اور پرانے پلانٹس کے دوبارہ فعال ہونے کے سبب اگلے دس روز میں 16 سو سے 17 سو میگاواٹ بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہوسکے گی۔

نندی پور پاور پلانٹ سے 525 میگاواٹ، چشمہ نیوکلیئر سے 315 میگاواٹ اور زیر تعمیر بھکی پلانٹس سے 760 میگاواٹ بجلی کی فراہمی متوقع ہے، جس کے بعد غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوجائے گی اور معمول کے مطابق شہری علاقوں میں 4 سے 5 جبکہ دیہی علاقوں میں 6 سے 8 گھنٹے بجلی کی فراہمی بند رہے گی۔

بعد ازاں مئی کے پہلے ہفتے میں گڈو اور ساہیوال پاور پلانٹ کے دو یونٹس سے 13 سو میگاواٹ کا اضافہ ہوگا، حویلی بہادر شاہ کا ایک یونٹ جولائی تک 380 میگاواٹ اور دو مزید یونٹس سمیت ساہیوال سے اگست تک 1040 میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی۔

علاوہ ازیں ہائیڈرو پاور پلانٹس سے بھی پیداوار میں اضافہ ہوجائے گا۔

ستمبر اور اکتوبر میں بلوکی سے 760 میگاواٹ، پورٹ قاسم، بھکی سے 1460 میگاواٹ اور دسمبر تک حویلی بہادر کے چوتھے یونٹ سے بجلی کی پیداوار کا آغاز ہوجائے گا۔


یہ خبر 18 اپریل 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔