وزارت پانی و بجلی کے ’غافل‘ حکام پر وزیراعظم برہم

اپ ڈیٹ 19 اپريل 2017

ای میل

وزیراعظم کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے—فوٹو: اے پی پی
وزیراعظم کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے—فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 7 ہزار میگاواٹ کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد وزیراعظم نوازشریف نے پیشگی پلاننگ نہ کرکے عوام کو پریشانی میں ڈالنے والے حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق وزیراعظم کو جب دیکھ بھال کے لیے بند کیے گئے پاور پلانٹس سے متعلق بتایا گیا تو انھوں نے سوال کیا ’موسم کی صورتحال اور ڈیموں میں پانی کی فراہمی کو دیکھتے ہوئے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کیوں نہیں کی گئی‘؟

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت پانی و بجلی کے حکام پر اس برہمی کا اظہار وزیراعظم نواز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے خصوصی اجلاس میں کیا، خیال رہے کہ گذشتہ 10 روز کے دوران یہ اس کمیٹی کا دوسرا اجلاس ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی طلب ساڑھے 21 ہزار میگاواٹ پہنچنے کے بعد بجلی کا شارٹ فال 9 ہزار میگاواٹ سے 10 ہزار میگاواٹ کے درمیان ہے جبکہ ڈیموں سے حاصل ہونے والی اضافی مقدار کے باعث بجلی کی پیداوار صرف 35 منٹ کے لیے زیادہ سے زیادہ 12 ہزار 700 میگاواٹ رہی۔

اس کے برعکس بجلی کی عمومی پیداوار 11 ہزار میگاواٹ کے آس پاس ہے اور ٹرانسفارمیشنل، ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کے بعد صارفین تک پہنچنے والی مقدار صرف 9 ہزار میگاواٹ رہ جاتی ہے۔

نتیجتاً شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 14 سے 16 گھنٹوں تک جاپہنچا ہے اور سسٹم میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے صارفین کو غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ برداشت کرنی پڑتی ہے۔

دوسری جانب دیہی علاقوں میں اس سے بھی بدتر صورتحال ہے جہاں لوڈشیڈنگ 20 گھنٹے تک تجاوز کرچکی ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں بجلی کا شارٹ فال 6 ہزار میگاواٹ تک جاپہنچا

تاہم ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ بجلی کی طلب ساڑھے 19 ہزار اور رسد ساڑھے 12 ہزار ہونے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ شارٹ فال 7 ہزار میگاواٹ ہے۔

ان عوامل کا جائزہ لیتے ہوئے وزیراعظم نے ’متعلقہ محکموں کی غفلت پر بےاطمینانی‘ کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے حکومت پاناما لیکس کا فیصلہ آنے سے قبل ایک پیچیدہ سیاسی صورتحال میں داخل ہوچکی ہے۔

کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں بجلی کی پیداوار میں کمی کے پیچھے کارفرما عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا، وزارت پانی و بجلی نے وزیراعظم کو بتایا کہ موسم کی شدت میں اچانک ہونے والے اضافے کی وجہ سے بجلی کی طلب میں اضافہ سامنے آیا ہے جبکہ ڈیموں میں پانی کی سطح ضرورت کے مطابق نہیں۔

وزارت نے امید کا اظہار کیا کہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا جس کے باعث ہائیڈرو پاور پیداوار میں بہتری ہوسکے گی۔

تاہم وزارت کے اس جواب نے نواز شریف کو مطمئن نہیں کیا، انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ’ہدایت دی کہ وہ حکام ذمہ داری پوری کریں جو پیشگی پلاننگ کرنے میں ناکام رہے تاکہ ایسی صورتحال دوبارہ پیش نہ آئے‘۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے موجودہ شارٹ فال کو کم کیا جائے اور لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کرتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو پہنچنے والی بے آرامی کا ازالہ جلد سے جلد ہونا چاہیئے اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں‘۔

ذرائع کے مطابق سابق سیکریٹری پانی و بجلی نے 6 ماہ قبل توانائی کی گردش کی تفصیلات کو بند کرتے ہوئے وزارت میں موجود ٹیلی ویژنز پر بجلی کی پیداوار اور استعمال کے متعلق معلومات کو روک دیا تھا۔

باخبر ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ حیرانگی کی بات ہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے مطلع کیے جانے کے باوجود وزارت نے اپریل کے دوران پاور پلانٹس کو ’طےشدہ مینٹی ننس‘ پر ڈالا جبکہ انہیں بجلی کی پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں سب سے بڑا چیلنج آپریشنل اسٹاف کے لیے ہوتا ہے جنہیں ٹرانسمیشن نظام میں موجود کمی کو پورا کرنے کے لیے بجلی کی سپلائی کو بند کرنا پڑتا ہے۔

مثال کے طور پر اُچ سے بیک وقت دو پاور پلانٹس کے انخلاء کے لیے ٹرانسمیشن لائن موجود نہیں جبکہ 3 سال قبل اُچ 2 پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کو غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق گذشتہ 3 سال کے دوران وزارت توانائی نے اپنی توجہ میڈیا مینیجمنٹ اور آرٹیکل لکھنے لکھانے پر مرکوز رکھی جبکہ اس عرصے کے دوران موسم کی صورتحال متناسب رہی تاہم پھر بھی ریکووریز اور لائن لاسز میں کوئی تبدیلی سامنے نہیں آئی۔