سیاسی نوعیت کے مقدمات سے کچھ زیادہ ہی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں، پانامہ لیکس کے مقدمے میں درخواست گزاروں اور مخالف فریقین کو بھی اسی طرح بہت سی امیدیں تھیں۔

تحریک انصاف کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ وزیرِ اعظم کو گھر بھیج دے گی، مسلم نواز کے قائدین یہ کہہ رہے تھے کہ ساری درخواستیں خارج ہو جانی ہیں اور وزیراعظم کو کلین چٹ مل جائے گی، لیکن یہ فیصلہ دونوں جماعتوں کے حق میں بھی آیا ہے جبکہ مخالفت میں بھی۔ فیصلے میں اختلاف کی وجہ سے وزیر اعظم فوری نااہلی سے بھی بچ گئے لیکن تلاشی دینے پر بھی مجبور ہوچکے ہیں۔

فیصلے کے دن صرف حکومتی جماعت مٹھائی کے ٹوکرے لے کر سپریم کورٹ نہیں پہنچی تھی، کچھ ٹوکرے تحریک انصاف والوں کی گاڑیوں میں بھی تھے، بس ایک اور جج اگر بینچ کے سربراہ کا ساتھ دیتے تو شاید یہ مٹھائیاں گاڑیوں میں سے نکل آتیں۔

اس فیصلے کے بعد حکومتی جماعت کا جوش و خروش دیدنی تھا، عدالتی احاطے کے اندر سے شدید نعرے بازی شروع ہو گئی، لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مقدمہ ختم نہیں ہوا، وزیراعظم کو خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے کچھ مہلت ملی ہے۔ آنے والے دو ماہ میں تحقیقات ہوگی، اس کے بعد اس رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ نئے سرے سے چلے گا۔ اگر مقدمہ ختم ہی نہیں ہوا تو پھر مٹھائی کا خرچہ تو گلے میں ہے۔

اس مقدمے نے نومبر 2016 میں سپریم کورٹ کی دہلیز پر قدم رکھا تھا اور سمجھیے کہ ابھی تک وہیں پر ہی ہے، وزیراعظم الزامات سے بری الذمہ قرار نہیں پائے۔ سپریم کورٹ کے دو جج صاحبان نے ان الزامات کی تہہ تک پہنچ کر وزیر اعظم کو نااہل کردیا ہے لیکن باقی تین ججز نے ان الزامات پر خود سے تحقیق کرنے کے بجائے حکومتی اداروں سے تحقیقات کروانے کا حکم صادر کیا ہے۔

نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، پارلیمنٹ، الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ میں پاناما لیکس کا حل نہ نکلنے پردرخواست گزاروں نے مایوس ہو کر سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ لیکن یہ مقدمہ رولر کوسٹر کی طرح گھوم پھر کر وہیں آکر کھڑا ہوا ہے جہاں سے شروع ہوا تھا۔

گلف اسٹیل مل کی خریداری، پیسوں کی ٹریل، لندن فلیٹ، آف شور کمپنیوں کی ملکیت، بیٹوں کے دیے گیے تحائف، اور اسی قسم کے سوالات عدالت سے گھوم پھر کر بھی جوابات کے متلاشی ہیں۔

‘ایسا فیصلہ دیں گے کہ بیس برس تک بھی لوگوں کو یاد رہے گا‘ یہ آبزرویشن دیتے وقت لارجر بینچ کے سربراہ کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ ان سے اتفاق کرنے والا اس بینچ میں ایک ہی جج ہے، جبکہ اکثریت مکمل طور پر وہی فیصلہ نہیں دیں گے جو ان کا فیصلہ ہوگا۔

یکم نومبر 2016 سے لے کر 20 اپریل 2017 تک پاناما لیکس کا مقدمہ سپریم کورٹ کے مختلف عدالتی کمروں کے چکر لگا کر اب پھر اسی انتظامی مشینری کے سپرد ہونے جا رہا ہے جس کے لیے عدالت عظمیٰ خود یہ کہہ چکی ہے کہ ادارے ناکام ہو چکے ہیں، اگر حکومتی ادارے اپنا کام کرتے تو ہمیں اس قسم کے معاملات میں الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایسی تحقیقات پر خدشات کا اظہار اس لیے کیا جا رہا کہ کہیں حکومت اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے تحقیقات میں رکاوٹ نہ ڈالے یا من پسند نتائج نہ حاصل کرلے، اس لیے تو یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ جس مقدمے میں مواد اور دستاویزات کے پلندے سپریم کورٹ پڑھ کر کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی اور 155 گھنٹوں کے دلائل سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اسی مقدمے سے حکومت کے ماتحت اداروں کے ماتحت افسران ایسا کیا نکالیں گے؟

یہ سوال انتہائی اہم ہے، پاناما مقدمے پر سب سے زیادہ عوامی انداز میں تبصرہ یہ ہی سننے کو ملا کہ اب آئی جی کی تفتیش سپاہی کرے گا۔ لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ اگر ایسی ویسی تحقیقات کروانی ہوتی تو پھر حکومت کو یہ حکم دیا جاتا، اب تحقیقات کا سارا بوجھ عدالت نے اپنے سر پر لے لیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار نے مقدمے میں وزیر اعظم پر فرد جرم لگا کر انہیں نااہل کر دیا ہے، یہ دونوں جج مستقبل کے چیف جسٹس ہیں۔ باقی تین ججوں نے بھی وزیراعظم کو کوئی کلین چٹ نہیں دی، لیکن کچھ عرصے کے لیے ریلیف ضرور دی ہے، پاناما مقدمے کا جو اکثریتی فیصلہ آیا ہے اس کو بھی محفوظ فیصلہ سمجھا جائے، کیونکہ ہار جیت کا فیصلہ تو دو ماہ کے بعد ہونا ہے۔

یہ فیصلہ حکومت کے لیے کچھ سکھ کا سامان ضرور لایا ہے، ورنہ دو دن پہلے تمام قیادت کی باڈی لینگوئج سے لگ رہا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی شکست تسلیم کر لی ہے، سب کے سب خاموشی اور مایوسی کا سمندر ساتھ لے کر چل رہے تھے، لاہور میں فیصلے سے دو دن پہلے جو ’حاضر حاضر لہو ہمارا‘ والے بینر آویزاں تھے وہ اندر کا خوف نہیں تو اور کیا تھا؟ لیکن جیسے ہی انہیں میاں صاحب کی نااہلی سے بچنے کی خبر ملی تو ان کی جان میں جان آگئی۔

میاں نواز شریف کے حق میں آئے فیصلے نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف مقدمہ یاد دلا دیا ہے، دونوں مقدمات میں وزیراعظم فریق اول تھے لیکن مقدمات میں کافی فرق تھا، یوسف رضا گیلانی پرمنی لانڈرنگ، غیر قانونی اثاثہ جات اور بے نامی جائیداد بنانے کا کوئی الزام نہیں تھا، ان کے خلاف جو مقدمہ بنا وہ سپریم کورٹ کی کوکھ سے نکلا تھا۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ملک کے چیف ایگزیکیٹو کو سربراہ مملکت کے سامنے لاکر کھڑا کردیا تھا، چوہدری افتخار کی عدالت نے وزیراعظم کو حکم دیا کہ آئین میں دی گئی استثنیٰ کو ایک طرف رکھ کر اپنے صدر کو غیر ملکی مجسٹریٹ کے سامنے جھکنے پر مجبور کردو، سوئس حکام کو خط لکھو کہ ہمارے صدر کے خلاف تمام مقدمات کھول دو، جب یوسف رضا گیلانی نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انہیں گھر بھیج دیا گیا۔

جبکہ نواز شریف کے خلاف درخواست گزار ایک پورا کچا چٹھا لے کر سپریم کورٹ پہنچے تھے، جس میں غیر قانونی ملکیت بنانا، جائیداد کی مبہم انداز میں خرید فروخت، منی لانڈرنگ، غلط بیانی اور اس قسم کے کئی الزامات تھے، لیکن جب فیصلہ آیا تو تین جج ایک طرف اور دو ایک طرف کھڑے تھے، جبکہ گیلانی کے خلاف مقدمے میں سب کے سب جج ایک پیج پر تھے۔

فیصلہ آنے کے بعد مختلف قسم کی آرا سامنے آ رہی ہیں کہیں سے مورل اتھارٹی کی بات ہو رہی ہے تو کوئی اخلاقیات، اخلاقی ذمہ داری اور اخلاقی اقدار کا درس دے رہا ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان کی سیاست باالخصوص حکمرانی اور اخلاقیات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔ حکمرانی اور اقدار ایک دوسرے کے دشمن بن چکے ہیں، اسی طرح جیسے سیاست اور اخلاقیات کی آپس میں نہیں بنتی۔

کسی مہذب معاشرے میں اس قسم کی فائنڈنگ کسی وزیراعظم تو کیا عام سے وزیر کے خلاف آ جائیں تو وہ خود استعفیٰ دے کر گھر چلا جائے گا لیکن یہاں لگ رہا ہے، وزیراعظم 19 گریڈ کے افسر کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنا مناسب سمجھیں گے لیکن کرسی نہیں چھوڑیں گے۔

یہ ضرور ہے کہ اس مقدمے کی تحقیقات کا حشر بھی اصغر خان کیس جیسا نہ ہو، اب تو خیر 20 اکتوبر2012 کی وہ تاریخ بھی شاید ہی کسی کو یاد ہو جس دن سپریم کورٹ نے 16 برس پرانے مقدمے پر بڑا فیصلہ صادر فرمایا تھا۔

اس فیصلے پر پیپلز پارٹی کی حکومت کو تو عمل کرنا چاہیے تھا لیکن شاید رحمٰن ملک پرانا تھیلا کھولنا نہیں چاہتے تھے، اس لیے اپنے ہی وزیراعظم کی بات بھی نہیں مانی۔ اس مقدمے میں سب سے زیادہ فائدہ موجودہ حکمران پارٹی کو ملا تھا اس لیے انہوں نے کبھی دل سے اس مقدمے کو کھولنا ہی نہیں چاہا۔

اصغر خان کیس پر مختصر فیصلہ 20 اکتوبر 2012 میں اور تفصیلی فیصلہ 8 نومبر 2012 میں آیا، عدالت نے سابقہ آرمی چیف مرزا اسلم بیگ، سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی سمیت 1990 کے انتخابات چرانے والے تمام افراد کے خلاف کارروائی کر کے ان سے سود سمیت پیسے لے کر قومی خزانے میں جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

مگر اس فیصلے کو حکومت سرہانے رکھ کر بیٹھ ہی گئی۔ اس لیے یہ خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں کہ اگر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) پر حکومت حاوی ہوئی تو اس تحقیقات کا نتیجہ بھی اصغر خان کیس جیسا نہ نکلے۔

پاناما مقدمے کے فیصلے پر حکومت نعرے مارے یا مٹھائی بانٹے لیکن اس فیصلے کے بعد وزیراعظم پر استعفے کے لیے دباؤ روزانہ بڑھتا جائے گا، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی دونوں نے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے، ہو سکتا ہے کہ کسی موڑ پر وہ احتجاج کے لیے اکٹھے سڑکوں پر بھی نکل آئیں۔ ان دو ماہ میں دباؤ بڑھ جانے کی صورت میں وقت سے پہلے انتخابات کا اعلان بھی ممکنات میں سے ہے۔

ایسے کئی امکانات کو بھانپتے ہوئے میں مجھے مقبول بھارتی فلم کا ایک ڈائلاگ یاد آتا ہے کہ فلم ابھی باقی ہے میرے دوست!