اسمارٹ فونز بچوں کے لیے نقصان دہ

اپ ڈیٹ 06 مئ 2017

اگر آپ کا بچہ اسمارٹ فون یا ٹیبلٹ پر بہت زیادہ وقت گزارتا ہے تو یہ عادت اس کی ذہنی نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر کوئی بچہ دن بھر میں آدھا گھنٹہ اسمارٹ فون پر گزارتا ہے تو اس عادت سے دیر سے بولنے کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بولنے یا چلنے سے بھی پہلے موبائل بچوں کی پسند

تحقیق کے دوران چھ ماہ سے دو سال کی عمر کے 894 بچوں کا تین سال تک جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بچے اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارتے ہیں، وہ اتنی ہی تاخیر سے بولنا شروع کرتے ہیں اور ان کے لیے بامعنی الفاظ کے ذریعے جذبات کا اظہار کرنا مشکل ہوتا ہے۔

کیلیفورنیا کے ہاسپٹل فار سیک چلڈرن کی تحقیق کے مطابق اگرچہ بچوں میں اسکرین کے استعمال کے وقت کے حوالے سے گائیڈ لائنز موجود ہیں مگر بچوں میں ان کا استعمال عام ہوتا جارہا ہے۔

یہ تحقیق سان فرانسسکو میں پیڈیا ٹرک اکیڈمک سوسائٹیز کے سالانہ اجلاس کے دوران پیش کی گئی۔

اس سے پہلے گزشتہ سال جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان ڈیوائسز کا اکثر استعمال بچوں کے اندر عارضی طور پر بھینگے پن کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔

مزید پڑھیں : اسمارٹ فون بچوں میں بھینگے پن کا باعث؟

تحقیق کے مطابق بچے اسمارٹ فونز کو اپنے چہرے سے صرف 8 سے 12 انچ دور رکھتے ہیں اور یہی قربت بھینگے پن کا باعث بنتی ہے۔

محققین کے مطابق آنکھوں کی توجہ اندر کی جانب ہونے کی وجہ سے یہ عارضہ لاحق ہوتا ہے اور یہ رجحان تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں