پاکستان کیلئے امریکی فوجی امداد ’قرض‘ میں تبدیل ہونے کا خدشہ

24 مئ 2017

ای میل

ٹرمپ انتظامیہ کی بجٹ تجاویز منظور ہونے سے امریکا کی غیر ملکی فوجی امداد کا کچھ حصہ قرض میں تبدیل ہوجائے گا جس سے پاکستان سمیت کئی ممالک کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ تجاویز ان طویل کوششوں کا حصہ ہے جن سے غیر ممالک میں سفارتکاری، امداد اور پروگرامز کی مد میں ہونے والے اخراجات میں 29 فیصد سے زائد کمی لانا ہے۔

اس تجویز کو سب سے پہلے رپورٹ کرنے والے وال اسٹریٹ جرنل نے کہا کہ غیر ملکی فوجی امداد میں کمی سے پاکستان، تیونس، لبنان، یوکرین، کولمبیا، فلپائن اور ویتنام کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے تحت چلنے والے ان پروگرامز کے اخراجات میں کمی سے بچنے والے فنڈز خود امریکا کے دفاعی اخراجات پر خرچ کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی سینیٹ میں دفاعی بل منظور،پاکستانی امداد مشروط

وائٹ ہاؤس کی بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 2018 کے لیے امریکا کے کُل دفاعی اخراجات 603 ارب ڈالرز ہوں گے، جو سابق امریکی صدر براک اوباما کے آئندہ مالی سال کے لیے مجوزہ دفاعی اخراجات سے تقریباً 3 فیصد زائد ہیں۔

603 ارب ڈالرز کے اس دفاعی بجٹ میں جوہری اسلحے کے پروگرامز اور دیگر قومی دفاعی پروگرامز کے علاوہ وزارت دفاع کے لیے بھی فنڈنگ شامل ہے۔

پینٹاگون کے لیے 574 اعشاریہ 5 ارب ڈالر کی خصوصی دفاعی بجٹ کی درخواست کی گئی ہے، جو مالی سالی 2017 سے 4 اعشاریہ 6 فیصد زیادہ ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کے تحت امریکا وزارت خارجہ اور دیگر عالمی پروگرامز پر 2017 کے مقابلے میں مالی سال 2018 میں 29.1 فیصد یعنی 11.5 ارب ڈالرز کم خرچ کرے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو امریکی سیکیورٹی امداد میں 73 فیصد کمی

امریکا کے فارن ملٹری فنانسنگ (ایف ایم ایف) پروگرام کے ذریعے زیادہ تر امداد اسرائیل، اردن، مصر، پاکستان اور عراق کو جاتی ہے، تاہم امداد میں کمی سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکا کے قریبی اتحادی اسرائیل اور مصر شامل نہیں ہیں۔

پاکستان کی امداد کے حوالے سے وائٹ ہاؤس کے افسر مِک مُلوانے کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امداد کم کی جائے گی تاہم انہوں نے اس سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔