عالمی ماحولیاتی معاہدے سے امریکا دستبردار، اتحادی ناراض

02 جون 2017

ای میل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے عالمی معاہدے سے امریکا کو دستبردار کرانے پر مختلف ممالک کے سربراہان نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران ’سب سے پہلے امریکا‘ کے پیغام کو استعمال کیا تھا، اب ان کا کہنا ہے کہ پیرس معاہدے سے امریکی معیشت کو نقصان ہوگا، امریکی نوکریاں خطرے میں پڑجائیں گی، امریکی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوجائیں گے جبکہ یہ فیصلہ ملک کو مستقل طور پر نقصان میں مبتلا کر دے گا۔

وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران امریکی صدر نے کہا امریکا اس معاہدے سے باہر جارہا ہے اور امریکا نہیں چاہتا کہ دیگر ممالک امریکا کا مزید مذاق اڑائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ممالک امریکا کو اس معاہدے کی پاسداری کرنے کا کہہ رہے ہیں جنہوں نے سخت تجارتی طریقوں کے ذریعے اجتماعی طور پر امریکا کو کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔

مزید پڑھیں: متنازع معاملات پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطرناک مؤقف

سابق امریکی صدر براک اوباما نے امریکا کے معاہدے سے انخلاء کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی قیادت کی غیر حاضری میں یا امریکا بھلے ان چند ممالک کے ساتھ شامل ہوجائے جو مستقبل سے آنکھیں چرا رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ ہماری ریاستیں، ہمارے شہر اور ہمارے کاروباری حضرات ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور اچھے انداز میں انتظام سنبھالتے ہوئے ہماری آنے والی نسلوں کے لیے اس کرہ ارض کی حفاظت کریں گے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے ماحولیاتی تبدیلی کو کم خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ یا تو پیرس معاہدے میں واپس داخل ہونے کے لیے مذاکرات کرے گی یا پھر ان شرائط پر ایک نیا معاہدہ ترتیب دیا جائے گا جو کہ امریکا، اس کے کاروباری افراد، اس کی لیبر فورس، اس کے عوام اور ٹیکس دہندگان کے حق میں بہتر ہوگا۔

بین الاقوامی رہنماؤں اور سفارتکاروں کا ردعمل

بین الاقوامی رہنماؤں اور سفارتکاروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس عمل پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

جاپانی وزیر ماحولیات کوئچی یاماموٹو نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے سامنے آنے والے فیصلے سے انہیں بے حد مایوسی ہوئی اور یہ فیصلہ انسانیت کی قابلیت کو پیٹھ دکھانے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف خلا میں بھی احتجاج

جرمن چانسلر اینجلا میرکل، فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون اور اطالوی وزیر اعظم پاؤلو جینٹیلونی نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ اب اس معاہدے پر دوبارہ مذاکرات نہیں ہو سکتے، تینوں رہنماؤں نے اپنے حلیفوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے میں اپنے توانائیاں صرف کریں۔

چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ اور یوپی یونین کے اہلکاروں کے درمیان جمعہ کو برسلز میں ایک سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی جس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں دونوں اطراف سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ پیرس معاہدے کو نافذ کیا جائے گا۔

ایک روز قبل چینی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دنیا کا سب سے بڑا گرین ہاؤس گیس کا اخراج کرنے والا ملک ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں اپنے عہد پر قائم رہے گا۔

روس نے بھی پیرس معاہدے سے امریکی انخلاء کے باوجود معاہدے کی حمایت میں آواز بلند کی ہے۔

روس کے نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ’روس نے اس معاہدے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور میرا نہیں خیال کے روس اسے تبدیل کرے گا۔‘