فوٹو لیک: حکمران جماعت کو جے آئی ٹی ارکان پر 'شک'
پاناما لیکس اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی پیشی کے دوران لیک ہونے والی ایک تصویر نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ حکمران جماعت کو شک ہے کہ یہ تصویر جے آئی ٹی ارکان میں سے ہی کسی نے سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کی۔
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا افضل کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پہلے ہی جے آئی ٹی کے 2 ارکان پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس تصویر کو انھوں نے ہی لیک کیا ہو۔
ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز آئی' میں گفتگو کرتے ہوئے رانا افضل نے کہا، 'سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سپریم کورٹ نے اس پوری کارروائی کو بند کمرے میں کرنے کا حکم دیا تو پھر ایک تصویر کا اس طرح سے منظر عام پر آنا ایک افسوسناک بات ہے، کیونکہ اس سے ہمیں غلط انداز میں پیش کیا گیا'۔
مزید پڑھیں: فوٹو لیک: ’ذمہ داری وزارتِ داخلہ پر ڈالنا لغو اور مضحکہ خیز‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی زیدی کی جانب سے تصویر کو ٹوئیٹ کرنے پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ 'جو لوگ دھرنوں میں امپائر کی انگلی اٹھنے کی باتیں کرتے تھے، وہی آج ٹوئیٹس کے ذریعے بتا رہے ہیں کہ ان کے ایسے لوگوں سے بھی تعلقات ہیں جو خفیہ کارروائی کی تصویر اور ویڈیو جاری کرسکتے ہیں'۔
لیگی رہنما کو جواب دیتے ہوئے پروگرام میں موجود پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے واضح کیا کہ انھوں نے یہ تصویر ایک واٹس ایپ گروپس سے حاصل کی اور ان کی ٹوئیٹ سے پہلے ہی اسے بہت سے اور لوگ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر شیئر کرچکے تھے۔
انھوں نے کہا کہ 'اس وقت مجھے اس تصویر کو سب سے پہلے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت میں یہ تصویر میرے دیکھنے سے قبل ہی وائرل ہوچکی تھی'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت ہی دلچسپ بات ہے کہ باقی جتنے بھی لوگوں نے اسے شیئر کیا ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا رہا اور سب الزامات میرے اوپر عائد کیے گئے'۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ انھوں نے صرف اس لیے اس تصویر کو ٹوئیٹ کیا تھا تاکہ یہ پیغام دیا جائے کہ اس کیس کی سماعت کو عوام کے سامنے پبلک کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں، جیسا کہ باقی ممالک میں بھی ہوتا ہے۔
علی زیدی نے کہا کہ 'اگرچہ یہ کام میں نے نہیں کیا، لیکن پھر بھی مجھ پر قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ڈاکٹر عاصم کی جے آئی ٹی کی ویڈیو کس نے جاری کی تھی؟'
پروگرام میں موجود سینئر صحافی فہد حسن نے جے آئی ٹی اجلاس سے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر نے بظاہر جے آئی ٹی کے کردار کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دونوں وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی پاناما پیپر کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) کے سامنے پیشی کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں۔
دونوں فریقین کا موقف ہے کہ یہ تصویر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر لیک کی گئی۔
مذکورہ تصویر، جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج سے لیا گیا اسکرین شاٹ معلوم ہوتی ہے، پر 28 مئی کی تاریخ درج ہے، یہ وہی دن ہے جب حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پہلی مرتبہ پیش ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: حسین نواز سےجے آئی ٹی کی 5 گھنٹے تفتیش
تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم کے صاحبزادے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے احاطے میں ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور تفتیش کاروں کے سوالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مذکورہ تصویر کی 'غیر قانونی اشاعت' پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے اسے تحقیقات کے قوانین کی 'سنگین خلاف ورزی' قرار دیا تھا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی اس تصویر کے لیک ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات کا الزام عائد کیا تھا کہ یہ تصویر حکمران جماعت کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کو 'مظلوم' ظاہر کرنے کے لیے جان بوجھ کر 'باقاعدہ پلاننگ' کے تحت ریلیز کی گئی۔
علاوہ ازیں پی ٹی آئی نے ان الزامات کی بھی تردید کردی تھی کہ یہ تصویر ان کے کسی کارکن کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔











لائیو ٹی وی
تبصرے (1) بند ہیں