پرتگال کے جنگل میں آتشزدگی سے 62 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 18 جون 2017

ای میل

پرتگالی حکام نے جنگل میں لگنے والی آگ کو بھیانک ترین قرار دیا—فوٹواے ایف پی
پرتگالی حکام نے جنگل میں لگنے والی آگ کو بھیانک ترین قرار دیا—فوٹواے ایف پی

لزبن: پرتگال کے وسطی علاقوں میں جنگل میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 62 افراد ہلاک ہو گئے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پرتگالی حکام نے دار الحکومت لزبن سے 200 کلومیٹر شمال میں واقع 'پیدرو گاؤکرینج' نامی علاقے میں لگی اس آگ کو پرتگال کی تاریخ کی سب سے بھیانک آگ قرار دیا۔

پرتگال کے وزیر اعظم انتونیو کوسٹا نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے جو ہم آگ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔

پرتگالی وزیر اعظم نے متاثرہ علاقے کا دورہ بھی کیا جبکہ ان سے قبل پرتگالی صدر بھی اس علاقے کا دورہ کر چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: لندن: 27 منزلہ رہائشی عمارت میں آتشزدگی،12 ہلاک

پرتگال میں آتشزدگی سے جھلسی ہوئی کار کا منظر — فوٹو، اے پی
پرتگال میں آتشزدگی سے جھلسی ہوئی کار کا منظر — فوٹو، اے پی

پرتگالی حکومت نے متاثرہ علاقے میں لوگوں کی مدد کے لیے دو آرمی بٹا لین بھیجی تھیں جبکہ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ پرتگال کی مدد کرتے ہوئے دو فائر فائٹرز طیارے متاثرہ علاقے کے لیے روانہ کرے گا۔

پرتگالی حکام نے بتایا کہ فرانس نے 3 طیارے بھیجنے کی پیش کش کی ہے جبکہ ہمسایہ ملک اسپین پہلے ہی 2 طیارے بھیج چکا ہے۔

یورپی امدادی کمیشن کے سربراہ کرسٹوس اسٹیلیانڈیز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے تمام امداد کارروائیاں پرتگالی حکام اور عوام کی ضروت کے وقت کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رونالڈو نے انسانی خدمت کی نئی مثال قائم کردی

فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ وہ پرتگال کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں جسے دہشت ناک آتشزدگی کا سامنا ہے جبکہ تمام ہمدردیاں متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔

پرتگالی صدر نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت علاقے کی صورتحال بد ترین ہے اور اب تک امدادی کارروائیوں جتنے لوگوں کو بچانے اور آگ کو روکنے کے لیے کی جا چکی ہیں ان سے زیادہ کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔

پرتگال کے مقامی میڈیا کے مطابق سیکڑوں افراد جو آگ کے باعث دھوئیں کا شکار ہوگئے تھے انھیں ایمرجنسی ٹینٹ لگا کر طبی امداد دی گئی ہے اور ایسے افراد جو اس آتشزدگی کے نتیجے میں بے گھر ہوگئے ہیں انہیں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔