دس لاکھ افراد پر مشتمل پہلا خلائی شہر بسانے کا منصوبہ

23 جون 2017
— فوٹو بشکریہ Nasa/JPL
— فوٹو بشکریہ Nasa/JPL

انسانوں کو خلاء میں بسانے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا اور ہمارے پڑوسی سیارے میں دس لاکھ افراد پر مشتمل شہر کو تشکیل دیا جائے گا۔

یہ دعویٰ معروف کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے کرتے ہوئے کہا کی آئندہ پچاس برسوں میں مریخ پر دس لاکھ آبادی پر مشتمل شہر کا قیام ممکن ہوگا۔

مزید پڑھیں : 'سیارچے کے ٹکراﺅ سے برپا قیامت انسانی نسل کا خاتمہ کردے گی'

انہوں نے خبردار کیا کہ قیامت جیسے کسی واقعے سے بچنے کے لیے انسانوں کو زمین سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریخ میں رواں صدی کے دوران ایک ہی بڑے شہر کو تشکیل دیا جاسکتا ہے جہاں ایک فعال معاشرہ موجود ہوگا۔

ایلون مسک پہلے ہی مریخ میں 2023 تک انسان بردار پرواز بھیجنے کی منصوبہ بندی کرچکے ہیں۔

اب نئے منصوبے کے تحت ارب پتی شخص کا کہنا تھا کہ وہ خلائی گاڑیوں کا بیڑہ تیار کرنا چاہتے ہیں جس میں ایک ہزار سے زائد کارگو شپس ہوں گی جن کے ذریعے ایک وقت میں دو سو مسافروں، گھروں کی تعمیر کا سامان، صنعتی پودے اور دکانیں وغیرہ بھیجے جاسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : 'مریخ پر مرنے کیلئے تیار ہو کر جائیں'

ان کا اندازہ ہے کہ ایک دہائی کے اندر مریخ میں پہلی بستی کی بنیاد رکھ دی جائے گی جبکہ چالیس سے سو برسوں کے دوران اتنے لوگوں کو سرخ سیارے پر بھیج دیا جائے گا کہ پرہجوم شہر تشکیل پاسکے۔

ان کے بقول ' میرے خیال میں ہمارے پاس دو راستے ہیں، ایک تو ہم زمین پر ہمیشہ موجود رہیں اور بتدریج ہماری نسل ختم ہوجائے، جبکہ دوسرا خلاءمیں انسانی تہذیب کو بسانا ہے'۔

مریخ تک کے سفر کی مدت تو انہوں نے بیان نہیں کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تفریح سے بھرپور ہوگا اور کوئی بھی بیزار نہیں ہوگا، جہاں مسافروں کے لیے فلمیں، لیکچر ہال، کیبن اور ریسٹورنٹ ہوں گے اور ان کا وقت اچھا گزرے گا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا نے بھی اعلان کیا تھا کہ وہ 2030 کی دہائی میں مریخ میں بستی بسانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم وہ پہلے چاند پر ایک بیس کو قائم کرے گی، اس کے بعد سرخ سیارے کا سفر کرے گی۔

یہ بھی دیکھیں : 'مریخ پر زندگی کا ماحول موجود ہے'

ایلون مسک کے مطابق چاند کے مقابلے میں مریخ ایک نئے شہر کو بسانے کے لیے زیادہ بہتر آپشن ہے کیونکہ وہاں کا دن زمین کے مقابلے میں صرف آدھا گھنٹہ طویل ہوتا ہے، یعنی مناسب سورج کی روشنی اور مددگار ماحول نباتاتی زندگی کی معاونت بھی کرسکے گا۔

ان کے بقول مریخ میں قیام بہت مزیدار ہوگا کیونکہ وہ کشش ثقل زمین کے مقابلے میں 37 فیصد ہے، تو لوگ بھاری وزن اٹھانے کے قابل ہوں گے۔

اس وقت مریخ پر ایک شخص کو بھیجنے کی لاگت دس ارب ڈالرز ہے مگر ایلون مسک کو توقع ہے کہ اسے ایک لاکھ ڈالرز تک لایا جاسکتا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں