پولیس اہلکار کو کچلنے کا واقعہ: سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

28 جون 2017

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوئٹہ میں سارجنٹ کو کچلنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) بلوچستان پولیس سے تین دن میں رپورٹ طلب کرلی۔

عمرے کی ادائیگی پر جانے سے قبل چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واقعے کا ازخود نوٹس لینے کے ساتھ ساتھ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ڈیرہ غازی خان کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہلاک ہونے والے سارجنٹ کے اہل خانہ پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا جائے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل کوئٹہ کے جی پی او چوک پر اپنے فرائض انجام دینے والے سارجنٹ حاجی عطااللہ کو مبینہ طور پر بلوچستان اسمبلی کے رکن کی گاڑی نے کچل کر ہلاک کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سارجنٹ کو کچلنے کا واقعہ: مجید اچکزئی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب رکن صوبائی اسمبلی کی گاڑی سے ٹریفک افسر کو کچلے جانے کی فوٹیج جمعہ کو سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئی۔

سوشل میڈیا پر رکن بلوچستان اسمبلی کی گرفتاری کی مہم چلنے کے باعث صوبائی حکومت پر دباؤ پڑنے کے بعد پولیس نے مجید خان اچکزئی کو جمعہ کی رات کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ:رکن اسمبلی کی گاڑی نے سارجنٹ کو کچل دیا

جس کے بعد پولیس نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) سے تعلق رکھنے والے مجید خان اچکزئی کو ہفتہ کے روز (24 جون) جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا، جنہوں نے ملزم کا پانچ روزہ ریمانڈ دے کر انہیں پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

واضح رہے کہ پولیس کا کہنا تھا کہ واقعے کے وقت رکن اسمبلی کی گاڑی کی رفتار مقررہ حد سے زیادہ تھی۔

دوسری جانب ریمانڈ سے قبل ایم پی اے مجید اچکزئی نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹریفک پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو ہرجانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

تبصرے (1) بند ہیں

Israr Muhammad Khan Jun 29, 2017 02:09am
عدالت عالیہ ہر معاملے میں ایکشن لیکر عدالت کی شان کم کررہے ھیں کوئٹہ کے پولیس سارجنٹ والا معاملہ ذاتی معاملہ ھے ھم اچکزئی کو بیگناہ نہیں سمجھتے لیکن یہ بھی یاد رکھنی بات ھے کہ یہ ایک حادثہ تھا اچکزئی بہادر انسان ھے انہوں نے زمہ داری کا مظاہرہ کیا خود گرفتاری دیکر مثال قائم کردی ھے گرفتاری سے قبل انکے پاس ضمانت قبل از گرفتاری کا حق موجود تھا اور اج بھی ھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور نہ انہوں نے ہسپتال میں داخل ھونے کا بہانہ کیا اور نہ ہی انہوں نے سپیکر سے رابطہ کیا ہماری میڈیا اور عدالتیں آئینے کی ایک طرف دیکھا کرتے ھیں جو نامناسب رویہ ھے اگر اچکزئی صاحب صلح صفائی کی کوشش کرتا ھے تو اس میں غلط کیا ھے اگر ریمنڈڈیوس کو معافی ہماری عدالتیں خاموش تھیں لیکن اج ایک سیاسی ادمی کے پیچھے پڑی ھوئی ھیں