اسلام آباد: وفاقی محتسب نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق بل کا مسودہ تیار کر لیا جس کے مطابق مقامی اور قومی سطح پر خواجہ سراؤں کی سیاسی نمائندگی کے لیے 3 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

بل کا مسودہ وفاقی محتسب نے شراکت داروں کی مشاورت سے تیار کیا۔

بل میں کہا گیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو نادرا کے شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ پر اپنی صنف درج کرانے اور تبدیل کرانے کا اختیار ہوگا اور امتیاز کی بنیاد پر ملازمت دینے سے انکار یا برخاست نہیں کیا جائے گا، جبکہ تعلیمی اداروں اور ملازمت میں ان کے لیے 3 فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

خواجہ سراؤں کو صحت کی سہولیات کی فراہمی میں نازیبا سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ خواجہ سرا کو ہراساں کرنے کی ممانعت ہوگی، جبکہ حکومت خواجہ سراؤں کے تحفظ کے سینیٹرز اور محفوظ گھر قائم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ سرا اور معذور افراد کا بھی مردم شماری میں اندراج ہوگا

بل کے مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ خواجہ سراؤں کے لیے علیحدہ حوالات اور جیل میں علیحدہ سیل قائم کیا جائے، انہیں وُکیشنل تربیت دی جائے گی اور کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے اور گرانٹس دی جائیں گی۔

جائیداد کے معاملے پر خواجہ سراؤں سے امتیاز نہیں برتا جائے گا، جائیداد میں میل خواجہ سرا کو مرد اور فی میل خواجہ سرا کو خاتون کا حصہ دیا جائے گا۔

بل کے مطابق خواجہ سراؤں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا، خواجہ سرا کے الیکشن لڑنے پر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا جبکہ مقامی اور قومی سطح پر خواجہ سراؤں کی سیاسی نمائندگی کے لیے تین فیصد کوٹہ مختص کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں پہلی بار مخنث کو پاسپورٹ کا اجراء

ہسپتالوں میں خواجہ سراؤں کے لیے محفوظ ماحول بنایا جائے گا اور میڈیکل اخراجات کے لیے انشورنس اسکیم بنائی جائے گی۔

خواجہ سراؤں کو اسمبلی منعقد کرنے کا اختیار ہوگا، کسی تفریحی، پبلک اور مذہبی مقام پر جانے سے خواجہ سراؤں کو نہیں روکا جائے گا۔