اس حمام میں سب ننگے ہیں

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2017

Email


کیا آپ کو اس شہنشاہ کی کہانی یاد ہے جو برہنہ ہو کر اپنے درباریوں کے سامنے سے گزرتا ہے اور سوچتا ہے کہ اس نے دنیا کی سب سے نفیس پوشاک زیب تن کی ہوئی ہے؟ بظاہر کہانی کا موضوع گھمنڈ و تکبر ہے اور یہ بھی کہ کس طرح مسند پر بیٹھے لوگ گانٹھ باندھ لیتے ہیں کہ تاقیامت صرف انہیں ہی حکمرانی کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس تحریر کے قارئین شاید ایسے افراد کی فہرست میں ہمارے موجودہ وزیر اعظم کو ہی اول نمبر پر رکھیں۔

شہنشاہ کی اس داستان کا ایک اور بھی رخ ہے جو میرے نزدیک نہایت اہم بھی ہے۔ آپ کو شاید اس کہانی کا انجام بھی یاد ہو، کہ جس میں شہنشاہ کی بے عزتی پر ان کے مصاحب دبے انداز میں ہنستے ہیں، مگر انہیں اقتدار سے دستبردار ہو جانے کے لیے ایک لفظ نہیں کہتے، حالانکہ شہنشاہ حکمرانی تو کیا اپنے وجود کے لیے بھی موزوں نہیں تھے۔ مصاحب آتے، خوب ہنسی اڑاتے، اور پھر اپنی معمولاتِ زندگی میں مصروف ہو جاتے۔ کوئی بھی شہنشاہ سلامت کے (مقدس) حق حاکمیت کو تھوڑا بھی چیلنج کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔

نواز شریف اپنے لیے اس کہانی جیسی توقع تو بالکل نہیں کر سکتے۔ بظاہر تمام ادارے اور آوازیں جو ’رائے عامہ’ کو جنم دیتی ہیں، ان سب کا خیال ہے کہ وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنے کا قانونی جواز کھو چکے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی ایسا آزاد طریقہ کار موجود تو نہیں ہے جس کی مدد سے اس خاموش اکثریت کی رائے معلوم کی جاسکے جو اس وقت ملک میں جاری سیاسی کھیل ٹی وی پر دیکھ رہی ہے، مگر ہم اتنا تو اندازہ لگا ہی سکتے ہیں کہ یہ اکثریت وزیر اعظم کے دفاع اور انہیں عہدے کی پانچ سالہ مدت پوری کروانے کی خاطر سڑکوں پر نہیں آئے گی۔

گزشتہ چند دنوں سے جاری بحث و مباحثے سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ استعفیٰ — جبراً یا کسی دوسرے طریقے سے — ہی ہماری ناپختہ جمہوریت کے لیے بہتر ہے۔ زیادہ تر ’ماہرین’ کی رائے آج سے 5 برس قبل بھی یہی تھی جب یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی کے لیے نااہل قرار پائے گئے تھے۔ 1990 اور 1999 کے درمیان دو دو بار وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے والی نظیر بھٹو اور نواز شریف کے بارے میں بھی رائے عامہ کم و بیش یہی تھی۔

اگر مزید ماضی میں جانا چاہتے ہیں تو ایک جنرل نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ بھی الٹ دیا تھا، بظاہر جنرل نے ایسا قدم اس لیے اٹھایا تھا کیونکہ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم نے 1977 کے انتخابات میں جمہوری معیار کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ آگے چل کر اس جنرل نے ان کے خلاف الزامات کی فہرست میں ’کرپشن’ اور ’اسلام سے دغا بازی‘ کے الزامات بھی شامل کر دیے۔

ایسے کئی منتخب — بھلے ہی ہمارا انتخابی عمل کتنا ہی خراب کیوں نہ ہو — رہنماؤں کی ایک طویل فہرست ہے جنہیں یہ بہانہ بنا کر اقتدار سے ہٹا دیا گیا کہ نظام کو پاکستانی عوام کی ضرورت کے مطابق مزید جمہوری اور جوابدہ بنانا چاہیے۔ یقیناً معاملات کو اب تک تو بہتر ہو جانا چاہیے تھا؟

ہر بار صرف یہی کہہ کر حکومت لپیٹ دی جاتی کہ ابھی حالات ٹھیک ہوتے دکھائی نہیں دیتے، اور ناخوشگوار حالات پر ہمیشہ ایک ہی وضاحت پیش کی جاتی — یہ سب ان کم بخت سیاستدانوں کی وجہ سے ہے!

ہاں میں نے بھی صرف دو ہفتے پہلے ہی لکھا تھا کہ سیاسی نظام میں شامل اشرافیہ شاہی، بے حسی اور استحصال کے پیچھے کئی قومی دھارے کے سیاستدان ہیں، مگر ایک نظام کو نظام اس وجہ سے ہی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں چند سو سیاستدانوں کے علاوہ دیگر لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔

اس ملک میں سیاستدانوں پر تو کھل کر تنقید کی جاتی ہے، ان پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں، عہدوں سے برطرف کر دیا جاتا ہے، اور ذوالفقار علی بھٹو کے کیس میں تو پھانسی پر بھی لٹکا دیا جاتا ہے۔ لیکن پورے نظام کا کیا؟ ہم نظام کے دیگر حصوں کا نام لینے سے بھی خائف ہوتے ہیں، ان کا احتساب تو دور کی بات ہے۔

شہنشاہ کے کپڑوں والی داستان کا دوبارہ رخ کرنے سے شاید ہمیں چند لطیفے تو مل جائیں گے، یا جنہیں اپنی موت پیاری ہے وہ ان افراد پر تنقید کریں جن کا نام کبھی رائے عامہ آتا ہی نہیں۔ بہر حال جو بھی ہو، ہم ایک بار پھر اپنی معمولات زندگی میں مصروف ہو جائیں گے اور اگلی بریکنگ نیوز کا انتظار کریں (کہ: ایک اور سیاستدان مشکلات سے دوچار) اور یوں یہ نیوز کا ایک سلسلہ مکمل ہوگا اور ایک سلسلہ شروع۔

لیکن ایک خوشگوار بات ضرور ہوئی ہے کیونکہ کسی حد تک صاف ستھرے ایک سیاستدان نے جرات کی اور ہماری زندگیوں میں کچھ نئے مصالحے بھر دیے۔ کسی نے بھی یہ توقع نہیں کی ہوگی کہ جاوید ہاشمی یہ جذباتی سوال بھی پوچھ بیٹھیں گے کہ جنرلوں اور ججوں کا احتساب کیوں نہیں کیا جاتا۔

متوقع طور پر یہ سوال ٹی وی اینکرز اور اخبارات کے لیے زیادہ عرصے تک توجہ کا مرکز نہ بنے، مگر اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرے گا کہ موجودہ شور شرابے کے درمیان سب سے اہم سوال صرف جاوید ہاشمی نے ہی اٹھایا۔

ریمنڈ ڈیوس کے 'انکشافات' کو تو بھول جائیں جو صرف دو ہفتے قبل ہی ہماری توجہ کا مرکز بنے اور اب شاید تاریخ کے کوڑا دان کی نذر ہو چکے ہیں۔ جی ہاں، کتاب کی وقعت شاید ان صفحوں سے زیادہ نہیں ہے جن پر وہ لکھی گئی ہے، لیکن ان صفحوں پر درج ریاست کے اعلیٰ اداروں کے خلاف الزامات کے حوالے سے کھلی جانچ ہونی چاہیے۔ جنرل پرویز مشرف؟ حمود الرحمن کمیشن؟ یہ تو واضح ہوا کہ ’قانون کی حکمرانی’ اور ’احتساب’ کا اطلاق نظام کے تمام افراد پر نہیں ہوتا۔

ایک کہاوت بھی تو ہے کہ، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ یا پھر مجھے اتنا کہنے کی بھی اجازت نہیں؟

یہ مضمون 14 جولائی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔