پاکستان میں پروڈا، ایبڈو اور نیب سے لے کر آج تک کرپشن یا بدعنوانی کے خلاف جتنی بھی مہمیں چلائی گئیں ہیں، وہ اس بات کا بڑا ثبوت ہیں کہ حکمرانوں اور افسروں کا مقصد کچھ بھی تھا، مگر کم از کم کرپشن کا خاتمہ نہیں تھا۔

کسی کو اپنے مخالف سیاستدانوں کو نکرے لگانا تھا تو کسی کے لیے یہ ضروری کہ پرانے سیاستدانوں کو نکال باہر کر کے نئی سیاسی نرسری میں 'پودے' لگائے جائیں۔

ہر پاکستانی کمزور و طاقتور ادارہ یا شعبہ اپنے کرپٹ ہرکاروں کو بچانے اور دوسروں کے کرپٹ ہرکاروں کو پھنسانے کی مہم میں شامل رہا ہے اور یہی ہماری 70 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

کرپشن ہمیں نو آبادیاتی ریاست سے ملنے والے نادر تحفوں میں سے اک ہے، جسے یقین نہ ہو، وہ مشہور سماجی رہنما اختر حمید خان، جنہوں نے 1936 میں مشہور زمانہ انڈین سول سروس یعنی آئی سی ایس کا امتحان پاس کیا تھا، کے انٹرویوز پڑھ لے جو انہوں نے معروف سماجی کارکن زینت حسام کو دیے تھے۔

پڑھیے: وزیر اعظم صاحب، آپ بند گلی میں کھڑے ہیں

1943 میں بنگال کو خوفناک سیلاب نے اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔ بطور آئی سی ایس افسر، اختر حمید خان کو وہاں کام کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے حکمرانوں، اشرافیہ اور افسرانِ بالا، بشمول ان گوروں کے، جنہیں ہم ایماندار اور قانون کی حکمرانیوں کا دیوتا سمجھتے ہیں، کو بہت نزدیک سے دیکھا تھا۔

ان پر یہ عقدہ کھلا کہ آئی سی ایس محکمے پر کرپٹ افسران کا راج ہے۔ ظاہر ہے پرندوں کے پر گننے اور سمندر میں موجود خزانوں کا کھوج لگانے والی انگریز سرکار اس سب سے بے خبر تو یقیناً نہیں ہوگی، مگر بوجوہ ان حلقوں کو کرپشن کرنے کی اجازت تھی، مگر جب کسی کو راستے سے ہٹانا ہوتا تو اسی کرپشن کے سارے کھاتے نکال کر سامنے رکھ دیے جاتے۔

چنانچہ اختر حمید خان نے 1943 میں اس سروس کو یہ کہہ کر خیرباد کہہ ڈالا کہ اس سروس کے افسران تو سیلاب متاثرین کے لیے دی جانے والی امداد کو بھی نہیں چھوڑتے، اور مرتے ہوئے غریبوں کا مال بھی ہڑپ کر جاتے ہیں۔

کچھ دن پہلے ہیرالڈ کی ویب سائٹ پر پہلے پاکستانی وزیرِ اعظم خان لیاقت علی خان کی دوسری بیوی بیگم رعنا لیاقت علی خان کا انٹرویو چھاپا گیا، جنہوں نے انکشاف کیا تھا کہ قائدِ اعظم کی زندگی میں بھی کرپشن اک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ ویسے جس کسی نے 11 اگست 1947 کی تقریر پڑھ رکھی ہے، وہ جانتا ہے کہ قائدِ اعظم معاشرے میں پھیل چکی کرپشن کے بارے میں کس قدر فکر مند تھے۔

ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی جائیدادوں پر نظر رکھنے والی اشرافیہ نے اور ہمیں دینا بھی کیا تھا۔ مشہور ترقی پسند رہنما اور مسلم لیگ پنجاب کے صدر میاں افتخار الدین مہاجرین کی وزارت سے محض دو مہینے بعد ہی استعفیٰ دینے پر مجبور ہو گئے تھے۔ میاں صاحب بے ہندوؤں اور سکھوں کی جائیدادوں کو قومی تحویل میں لینے کی تجویز دینے کی جسارت کی تو ان جائیدادوں کو ہڑپ کرنے کی فکر میں غلطاں اشرافیہ اور افسران نے میاں صاحب کو سوشلسٹ، دہریہ اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ ڈالا جس سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نے وزارت چھوڑ دی۔ یہ نومبر 1947 ہی کا واقعہ ہے۔

لیاقت علی خان ہی کے دور میں پروڈا کا قانون بنایا گیا جس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو 'سیدھا' کرنا تھا۔ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ میاں افتخار حسین ممدوٹ کو اسی ہتھوڑے سے کچلا گیا اور پھر مارچ 1951 کے انتخابات تک پنجاب میں گورنر راج ہی رہا۔ اس کام میں آئی سی ایس سے تربیت یافتہ ہرکاروں نے لیاقت علی خان کا خوب ساتھ دیا۔

مزید پڑھیے: اس حمام میں سب ننگے ہیں

یہ سیاستدانوں کو کرپشن کی آڑ میں سیدھا کرنے کی مہم کا آغاز تھا جس کا نتیجہ پنجاب کے انتخابات میں سامنے آیا تو اخبارات نے اس پر 'جھرلو' کی سرخی جمائی۔ کرپشن کا جو 'گھما' 1947 کے بعد بنایا گیا اس کی اک مثال جمال میاں فرنگی محلی، جو 1906 سے ہی مسلم لیگی رکن تھے کے انٹرویو میں بھی سامنے آئی جو کتاب 'قائدِ اعظم کے رفقاء' میں شائع بھی ہو چکا ہے۔

ہوا یوں کہ ایک تقریب میں آل انڈیا مسلم لیگ کو دو حصوں میں منقسم ہونا تھا تاکہ ہندوستان میں مسلم لیگ الگ کام کرسکے۔ اس تقریب میں لیاقت علی خان نے پاکستان کو اسلام کی لیبارٹری قرار دے ڈالا۔ جمال میاں کہاں چپ رہنے والے تھے، انہوں نے اس کو حذف کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اسٹیج پر قائدِ اعظم بھی موجود تھے اور انہیں فرنگی محلی خاندان کی اسلامی خدمات کا ادراک کماحقہ تھا کہ فرنگی محل خاندان اکبر کے دور سے ہمارے ہاں صوفیاء اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے خاص پہچان رکھتا تھا۔ جب انہوں نے مولانا جمال میاں سے ان کے مطالبے کی تفصیل چاہی تو مولانا نے دو باتیں کہیں۔

پہلی یہ کہ جب آپ اسلام کی نفاذ کی بات کریں گے تو اگلا مسئلہ یہ درپیش آئے گا کہ کس فرقے کا اسلام؟ اور پھر یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہوگا۔ دوسری بات انہوں نے کرپشن کے حوالے سے کہی اور کہا کہ پچھلے 6 ماہ میں کراچی کے بڑے بنگلوں اور دفاتر میں دیکھ رہا ہوں کہ وزیر، سوداگر، صنعت کار اور مالدار کیسے آپس میں شیر و شکر ہیں، کیسی کیسی محفلیں سجتی ہیں۔ اس کرّوفر اور ٹھاٹ باٹ کی موجودگی میں آپ کم از کم اسلام کو بدنام نہ ہی کریں تو بہتر ہوگا۔

کرپشن کی آڑ میں تمام پرانے سیاسی خاندانوں کو 'نکرے' لگانے کا فریضہ خود کو فیلڈ مارشل کہلوانے والے جنرل ایوب خان نے نبھایا۔ اب کی بار بھی ہمارے فوجی حکمرانوں کے آئیڈیل وہی آئی سی ایس افسران ہی تھے۔ فوجی حکمرانوں نے یہ سب آئی سی ایس افسران سے ہی سیکھا تھا۔ ایبڈو کے نام سے جو قانون بنایا گیا، اس کی لپیٹ میں کتنے ہی ایسے سیاستدان بھی شامل تھے جنہوں نے تحریکِ پاکستان میں تن من دھن لگایا تھا۔

کرپشن کا یہ 'گھما' پاکستانی تاریخ میں سب سے خوفناک مثال ہے جس میں بلدیاتی اداروں کی نرسری سے وفاشعار اور نظریہ پاکستان کے تابعدار سیاستدانوں کی نئی پود تیار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پاکستان کے ٹوٹنے میں جتنا حصہ اس ایوبی فیصلے نے ڈالا وہ اس فوجی ایکشن سے بھی زیادہ بھیانک ہے جو مارچ 1971 کو شروع کیا گیا تھا۔

پڑھیے: اداریہ ڈان - وزیرِ اعظم صاحب، عہدہ چھوڑ دیں

دس، دس سال کے لیے سینیئر سیاستدانوں کو سیاست سے بے دخل کر ڈالا گیا اور فوجی حکومت کی مخالفت کرنے والے اخبارات پر دن دہاڑے قبضہ کیا گیا تاکہ جب سیاست اور میڈیا میں ان کی مخالفت کرنے والا کوئی نہ ہو گا تو پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا جائے گا۔

مگر ایک دہائی بعد پاکستان ٹوٹ گیا اور اس کا سب سے بڑا الزام انہی ایوبی پالیسیوں پر بجا طور پر عائد ہوتا ہے۔ مگر آج یوں لگتا ہے ہماری اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ جنگی ساز و سامان، جہازوں اور اسلحے کے سودوں وغیرہ میں کرپشن کا تذکرہ بھی ایوبی دور میں شروع ہوچکا تھا اور بلدیاتی اداروں سے بنائی جانے والی اس نئی سیاسی پود نے اس کرپشن پر پردہ ڈالنا تھا۔

لیکن جب یہ سیاسی پود تناور درخت بنی تو اس نے مال غنیمت میں اپنا حصہ بھی مانگ لیا اور یوں کرپشن کی لڑائی اک نئے دور میں داخل ہوگئی اور تاحال جاری ہے۔ یہی سب کچھ اک اور انداز میں جاوید ہاشمی بھی کہہ رہے ہیں کہ جب حمام میں سب ننگے ہوں تو اے بی سی کے بجائے فکر حمام ہی کی کرنی چاہیے۔ مگر کچھ دھڑے بوجوہ بات کو صرف جے آئی ٹی تک ہی محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہ وجہ آپ جانتے ہی ہیں۔