اسلام آباد: ملک کی اہم سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم کے خالی عہدے کے لیے اپنے اُمیدواروں کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کردیا اور یہ عمل اس بات کی عکاسی کررہا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے اپوزیشن ایک مشترکہ اُمیدوار لانے میں ناکام رہی۔

نواز شریف کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے اس عہدے کے لیے شہباز شریف کے نام کا اعلان کردیا تاہم فوری طور پر شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیراعظم نامزد کردیا گیا۔

شاہد خاقان عباسی نے گذشتہ روز قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عوامی مسلم لیگ کے صدر شیخ رشید نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے تاہم پی ٹی آئی نے انہیں اُمیدوار نامزد کرنے کی تصدیق نہیں کی۔

ادھر قومی اسمبلی میں اہم اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے پی پی پی کی قیادت نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے نام کو حتمی شکل دے دی، یہ فیصلہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران کیا گیا۔

اس کے علاوہ خورشید شاہ نے آج پیر کے روز اپوزیشن پارٹیز کے پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بھی طلب کررکھا ہے، جس کا مقصد پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے بعد صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا جو اجلاس طلب کیا ہے اس کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔

اس بات کو جانتے ہوئے کہ قومی اسمبلی میں ان کی مسلم لیگ (ن) کے پاس واضح اکثریت موجود ہے شاہد خاقان عباسی نے اپنی مہم کے دوران گذشتہ روز جمیعت علماء اسلام (ف) کے چیف مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

اپوزیشن کی حکمت عملی

پی ٹی آئی کی جانب سے شیخ رشید کو وزارت عظمیٰ کے لیے اُمیدوار نامزد کرنے کے بعد پی پی پی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار کے خلاف مشترکہ اُمیدوار لانے کے حوالے سے تمام قیاس آرائیاں ختم ہوگئی ہیں۔

پی پی پی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ان کی پارٹی قیادت نے پیر کو اپوزیشن پارٹیز کے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس سے قبل پی ٹی آئی کی جانب سے شیخ رشید کو اُمیدوار نامزد کرنے پر برہمی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنما نہ صرف عمران خان کے غیر متوقع فیصلے پر برہم ہیں بلکہ وہ تمام اہم انتخابات میں ان کی جانب سے شیخ رشید احمد کے لیے آواز بلند کرنے پر بھی ناراض ہیں۔

پی پی پی کے اہم رہنما نے بتایا کہ ’پی پی پی ارکان کی جانب سے شیخ رشید کی حمایت کا امکان موجود نہیں کیونکہ وہ ماضی میں موحوم وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف قابل اعتراض اور گندی زبان کا استعمال کرتے رہے ہیں‘۔

خیال رہے کہ شیخ رشید احمد 1980 اور 1990 کی دہائی میں پی پی پی کی اہم مخالف پارٹی مسلم لیگ کے رہنما رہے۔

نام ظاہر نہ کی شرط پر پی پی پی رہنما نے بتایا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد اپوزیشن جماعتیں قریب آنے میں ناکام رہی ہیں۔

اس حوالے سے پی پی پی کے سیکریٹری جنرل اور ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری وفاقی دارالحکومت پہنچ چکے ہیں اور وہ پارٹی کی سینئر قیادت سے مشاورت میں مصروف ہیں۔

انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ شاید اپوزیشن جماعتیں ’اتفاق رائے‘ قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔

انہوں ںے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتوں میں صرف پی پی پی اور پی ٹی آئی نہیں ہیں، اس میں کیو ڈبلیو پی، جے آئی، ایم کیو ایم، اے این پی اور کے آئی بھی شامل ہیں، انہوں نے زور دیا کہ پاناما پیپرز کیس پر فیصلے کے بعد اتفاق رائے بہت ضروری ہے۔


یہ رپورٹ 31 جولائی 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں