معرکہ این اے 120: شیر کی دھاڑ یا بلے کی مار؟

اپ ڈیٹ 16 ستمبر 2017

ای میل

سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو نااہل کیے جانے کے بعد لاہور کا حلقہ این اے 120 اتوار یعنی کل ضمنی انتخابات کے لیے تیار ہے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر سابق وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ سنایا، جس میں انہوں نے نواز شریف کو اپنی ذرائع آمدن کے حوالے سے مخصوص معلومات فراہم نہ کرنے پر وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دے دیا۔

فیصلے کے بعد سے ملک کے اندر سیاسی انتشار مزید بڑھ گیا ہے۔ اسی وجہ سے حلقہ این اے 120 — وہ حلقہ جہاں سے سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم 2013 میں اپنی قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے— میں عنقریب ہونے والے ضمنی انتخابات کے بارے میں جاری ہل چل کو دیکھ کر لگتا ہے کہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ اہم اسی حلقے کے ضمنی انتخابات ثابت ہوں گے۔

2013 کے عام انتخابات کے دوران — جس میں نواز شریف کی تاجر دوست اور انتہائی مرکز پسند پارٹی، مسلم لیگ ن نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی تھی — نواز شریف نے عوامیت پسند جماعت پی ٹی آئی — جس کے سربراہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور فلاحی شخصیت عمران خان ہیں— کی یاسمین راشد کو شکست دی تھی۔

نواز شریف نے 91 ہزار 666 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد متاثرکن 52 ہزار 354 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ حلقے میں قابل ذکر کارکردگی کی وجہ سے ہی برسوں سے یہ شریف/مسلم لیگ ن کا گڑھ رہا ہے۔

این اے 120 کے حلقے کو 2002 میں لاہور کے سابق این اے 95 حلقے میں شہر کے حلقہ این اے 96 کے حصوں کو شامل کر کے تشکیل دیا گیا تھا۔ 1977 کے انتخابات سے قبل، این اے 95 کا زیادہ تر حصہ این ڈبلیو 60 لاہور 3 میں شامل تھا۔ 1970 کے تاریخی انتخابات کے دوران، اس حلقے سے بائیں بازو کی پی پی پی کے اس وقت کے جوشیلے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کامیاب ہوئے تھے، جنہوں نے 78 ہزار 132 ووٹ حاصل کیے تھے۔ جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار، شاعر اور فلسفی علامہ اقبال کے بیٹے جاوید اقبال تھے جو پاکستان مسلم لیگ (کونسل) — جو کہ 1962 میں پاکستان مسلم لیگ سے الگ ہونے والا ایک دھڑا تھا — کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے 32 ہزار 921 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1970 میں این ڈبلیو 60 (پی اے 73) کی صوبائی نشست کے لیے ہونے والے انتخابات کے دوران، پی پی پی کے ایم غلام نبی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ نبی مستقبل میں پی ٹی آئی کی یاسمین راشد کے سسر بنے۔

1977 کے انتخابات میں، این اے 60 لاہور 3 کا زیادہ تر حصہ بعد میں حلقہ این اے 86 بنا۔ پی پی پی کے امیدوار ایم ایم اختر نے بھٹو مخالف اتحاد، پی این اے کے امیدوار کو معمولی فرق کے ساتھ شکست دی۔ 1977 کے انتخابات کو جنرل ضیا کی آمریت نے کالعدم قرار دیا، جنرل ضیاء الحق جولائی 1977 میں بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔

پڑھیے: سندھی پارٹی اور ہمدردی کے ووٹ: پی پی پی سے متعلق چند مفروضے

1985 میں ضیاء حکومت کے عروج کے دوران غیر جماعتی انتخابات کا انتعقاد ہوا۔ پی پی پی کے ضیا مخالف اتحاد، تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ ان انتخابات میں این اے 86 کے حلقے میں اس وقت 35 سالہ نواز شریف— جو اصغر خان کی مرکزیت پسند تحریک استقلال کے سابق رکن تھے لیکن 1979 کے بعد ضیا حکومت کے حمایتی بنے—کامیاب ہوئے۔

اپنی کامیابی کے بعد، نواز شریف، دوبارہ یکجا ہونے والی پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل)، جسے ضیا کی سرپرستی میں تشکیل دیا گیا تھا، کے رکن بن گئے۔ اس وقت نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔

بینظیر بھٹو نے اپنی 1989 کی سوانح حیات میں اقرار کیا کہ انہوں نے 1985 کے انتخابات کا بائیکاٹ کر کے ٖغلطی کی کیونکہ اس طرح نواز شریف کو لاہور میں نہ صرف اپنا پہلا الیکشن جیتنے کا موقع ملا بلکہ اس وقت کے پی پی پی کے حامی پنجاب میں (بطور وزیر اعلیٰ) پی ایم ایل کے لیے حلقہ بھی تشکیل دینے کا موقعہ ملا۔

لیکن، چارلس ایج کینیڈی اور سیاسی سائنسدان پروفیسر رسول بی رئیس کے لکھے گئے ایک مفصل تجزیے کے مطابق ضیا حکومت (88-1977) نے پنجاب میں تاجر اور کاروباری طبقوں اور صوبے میں ابھرتے ہوئے نئے چھوٹے کاروباری عناصر (petty bourgeoisie) کی زبردست سرپرستی کی۔ یہ وہ طبقات تھے جو پنجاب میں پی ایم ایل کی انتخابی حمایت کے ابتدائی ستون بنے۔ یوں آہستہ آہستہ پی پی پی کی حمایت میں کمی ہوتی چلی گئی جو 1988 تک صوبے بھر میں اس پارٹی کو حاصل تھی۔

1988 کے انتخابات کے دوران این اے 86، این اے 95 بن گیا۔ نواز نے پی پی پی کے اقبال ایچ بھٹی کو شکست دی۔ نواز شریف نے پی ایم ایل کے ٹکٹ— جو کہ دائیں بازو کے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کا حصہ تھی— پر انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے 49 ہزار 318 ووٹ حاصل کیے جبکہ بھٹی نے 36 ہزار 65 ووٹ حاصل کیے تھے۔

لیکن این اے 96— جس کا ایک حصہ 2002 میں این اے 120 میں شامل ہو گیا تھا— میں پی پی پی کے جہانگیر بدر کامیاب ہوئے، جنہوں نے آئی جے آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے جماعت اسلامی کے حافظ سلمان کو شکست دی تھی۔ 1988 کے ضمنی انتخابات میں بھی یہاں سے پی پی پی نے کامیابی حاصل کی۔ اس پارٹی نے ہی ضیا حکومت کے بعد سب سے پہلے حکومت قائم کی۔

1990 سے 2000 تک نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف این اے 95 اور این اے 96 میں مسلسل کامیابی حاصل کرتے رہے۔ 1993 میں نواز شریف آئی جے آئی سے الگ ہو گئے اور پھر پی ایم ایل سے علیحدگی اختیار کرلی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے نام سے اپنا الگ دھڑا بنا لیا۔ 1999 میں فوجی بغاوت میں اپنا اقتدار کھو دینے سے قبل نواز شریف دو بار (1997 اور 1990) ملک کے وزیر اعظم بنے۔

مزید پڑھیے: میں کیہڑے پاسے جاواں، تے ووٹ کنھوں پاواں؟

2002 میں، جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے دوران، این اے 95 کے بڑے حصوں اور این اے 96 کے کچھ حصوں کو ملا کر ایک کافی بڑا حلقہ این اے 120 تشکیل دیا گیا۔ شریف برادران جلا وطن تھے اور ان 2002 کے انتخابات کے دوران ان کی پارٹی بد نظمی کا شکار تھی۔ اور جہاں ان کی پارٹی انتخابات میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئی تھی لیکن وہیں یہ جماعت لاہور میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھی، بشمول این اے 120 کے، جہاں مسلم لیگ ن کے پرویز ملک نے 33 ہزار 741 ووٹ حاصل کیے تھے۔ جبکہ پی پی پی کے الطاف احمد قریشی 19 ہزار 483 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھے۔ پی ٹی آئی کے اے راشد بھٹی صرف 2 ہزار 526 ووٹ حاصل کر پائے تھے۔

شریف برادران، نواز اور شہباز، 2007 میں وطن واپس لوٹے، ان دنوں مشرف کی کسی وقت میں مقبول اور مضبوط رہنے والی حکومت اپنے نازک دور سے گزر رہی تھی۔ 2008 کے انتخابات میں نواز شریف نے حلقہ 120 کی نشست کے لیے بلال یاسین کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ دیا۔ وہ 65 ہزار 946 ووٹ لے کر نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ پی پی پی کے جہانگیر بدر 24 ہزار 380 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ لیکن پی پی پی نے 2008 کے انتخابات میں مجموعی طور پر کامیابی حاصل کی تھی، جس کے پیچھے ایک بڑی وجہ دسمبر 2007 میں بے نظیر کے دردناک قتل کے بعد پیدا ہونے والی ہمدردی کی لہر تھی۔

پی پی پی نے مسلم لیگ ن کے ساتھ مخلوط حکومت قائم کی۔ لیکن پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے چیف جسٹس افتخار چودھری، جنہیں مشرف نے 2007 میں (بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے) برطرف کر دیا تھا، کو بحال کرنے سے انکار پر حکومتی اتحاد جلد ہی ٹوٹ گیا۔ جس کے بعد پی پی پی نے اے این پی اور ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر ایک لڑکھڑاتی مخلوط حکومت تشکیل دی۔

2013 تک، درمیانی دائیں بازو کی جماعت پی ٹی آئی کی عوامی شہرت کے ابھار کے ساتھ مسلم لیگ ن نے اپنا نظریاتی رخ بڑی حد تک مرکز کی طرف کر دیا۔ 2013 کے انتخابات کے دوران، پی ٹی آئی، پی پی پی کی جگہ لیتے ہوئے پنجاب کی دوسری بڑی جماعت بنی، جبکہ مسلم لیگ ن نے پورے پنجاب میں کامیابی حاصل کی اور یوں انتخابات میں مجموعی طور پر زبردست کامیابی حاصل کی۔

نواز شریف وزیر اعظم بنے۔ ان کی پارٹی کو حلقہ 120 کے ضمنی انتخابات میں ایک بار پھر ڈاکٹر یاسمین راشد کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ چونکہ این اے 120 شریف/مسلم لیگ ن کا گڑھ رہا ہے،— اور پی ٹی آئی نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے جس انداز میں کوششیں کی، اس پر ووٹرز کی اکثریت پی ٹی آئی سے زیادہ خوش نہیں ہے— لہٰذا اب تک ماہرین کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ ن ڈاکٹر یاسمین راشد کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی پراعتماد ہے کہ لاہور کی مقبول شخصیت، ڈاکٹر یاسمین راشد، اپنی 2013 کے وقت پی پی پی، جماعت اسلامی، اور مسلم لیگ ق کی وجہ سے جن ووٹرز کی حمایت حاصل نہیں کر پائیں تھیں، وہ اس بار حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گی۔

جانیے: مقابلہ دائیں بازو کا دائیں بازو سے ہی ہے

کراچی کے کثیر النسل حلقوں کے برعکس لاہور کے حلقے بڑی حد تک پنجابیوں پر ہی مشتمل ہیں۔ این اے 120 میں شہری طبقہ شامل ہے، یہاں کے رہائیشیوں میں زیادہ تر کاروباری افراد، تاجر اور وائٹ کالر ملازمین ہیں۔ 21 اپریل 2013 کو دی نیشن میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اس حلقے کی شرح خواندگی 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہاں ایک بڑی تعداد میں شیعہ برادری بھی رہائش پذیر ہے۔ مئی 2013 میں دی نیوز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق، شیعہ اور مزدور طبقہ، جس پر یہ حلقہ مشتمل ہے، پی پی پی کے حمایتی تھے، لیکن 2002 سے لے کر انہوں نے مسلم لیگ ن کو ووٹ ڈالنا شروع کر دیے۔ اس خبر میں مزید یہ بھی درج ہے کہ 2013 کے انتخابات کے دوران زیادہ تر شیعہ ووٹ پی ٹی آئی کو حاصل ہوا۔

نواز شریف کی سبکدوشی کے بعد، اور جس طرح شریف خاندان عدالتوں کے ہاتھوں دباؤ کا شکار ہے اسے دیکھ کر، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس ضمنی انتخابات کا نتیجہ ہی شریف خاندان کے مستقبل کی راہ متعین کرے گا۔

یہ مضمون 6 اگست 2017 کو ڈان اخبار کے سنڈے میگزین میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔