دلیپ کمار کو آئی سی یو منتقل کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 06 اگست 2017

ای میل

—فائل فوٹو: فیس بک
—فائل فوٹو: فیس بک

بولی وڈ کے معروف اداکار دلیپ کمار کو 3 دن قبل کڈنی میں تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان کی طبیعت میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ رہی۔

دلیپ کمار کو کڈنی میں خرابی اور تکلیف کے باعث 2 اگست کو ممبئی کے سبربن بندرا علاقے میں واقع لیلاوتی ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

گزشتہ 3 دن سے دلیپ کمار کا علاج جاری ہے، جہاں ان کی طبیعت میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہیں آ رہی، جس بناء پر انہیں انہتدائی نگہداشت (آئی سی یو) کے وارڈ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نے ہسپتال کے سینیئر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی خبر میں بتایا کہ دلیپ کمار کو 2 سے 3 دن تک آئی سی یو میں منتقل کیا جائے گا.

# یہ بھی پڑھیں: دلیپ کمار کی طبیعت ناساز، ہسپتال میں داخل

ہسپتال کے نائب صدر اجے کمار پانڈے نے بتایا کہ دلیپ کمار کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے، مگر انہیں مزید علاج کے لیے آئی سی یو منتقل کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ دلیپ کمار کو ان کی زیادہ عمر کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کرکے علاج کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کارڈیولاجسٹ ڈاکٹر نیتن گھوکل اور نیفرولاجسٹ ارون شاہ کی سربراہی میں قائم میڈیکل بورڈ 94 سالہ اداکار کے علاج کے لیے تعینات ہے۔

مزید پڑھیں: دلیپ کمار اپنی موت کی جھوٹی خبروں سے پریشان

واضح رہے کہ دلیپ کمار کو کڈنی میں تکلیف اس وقت ہوئی، جب انہیں پیشاب کرنے میں مشکلات درپیش آئیں، انہیں علاج کے لیے 2 اگست کی صبح کو ہسپتال منتق کیا گیا۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق دلیپ کمار کو پیشاب میں تکلیف اور پیشاب کی نالیوں میں انفیکشن سمیت بخار بھی ہوگیا تھا، جس وجہ سے انہیں سانس لینے میں بھی مشکلات درپیش تھیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند سال سے اداکار کی طبیعت خراب ہے، گزشتہ برس بھی انہیں سانس میں تکلیف کے باعث ممبئی کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: دلیپ کمار اور سائرہ بانو کی رومانوی کہانی

رواں برس جون میں سوشل میڈیا پر اچانک ان کے چل بسنے کی خبریں وائرل ہوئی تھیں، جس پر اداکار خود بھی پریشان ہوگئے تھے۔

بعد ازاں دلیپ کمار کے ٹوئٹر ہینڈل سے ایسی خبروں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کی طبیعت مسلسل بہتر ہو رہی ہے، دلیپ کمار کے ٹوئٹر ہینڈل سے سلسلہ وار ٹوئیٹس کیے گئے تھے۔