شمالی کوریا اور امریکا میں جاری لفظی جنگ کے خاتمے کے لیے چین نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں ممالک کو شمال مشرقی ایشیائی خطے میں حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لیے لفظی جنگ سے باز رہنے پر زور دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماؤں نے شمالی کوریا کو اشتعال انگیز بیانات دینے سے روکنے پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا پر نئی پابندیاں، چین، امریکا کا بھی دباؤ

چینی وزارت خارجہ کے مطابق چینی صدر نے ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا کہ شمالی کوریا کے معاملے میں لفظی جنگ کو ترک کر کے اس معاملے کا سیاسی حل نکالنا چاہیے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے امریکی جزیرے گوام پر میزائل حملوں کی دھمکی کے بعد امریکی صدر نے اپنی فوج کو ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہے۔

امریکی صدر نے گوام کے گورنر ایڈی کلاوو کو 'اطمینان سے رہنے' کی تلقین کرتے ہوئے یقین دلایا کہ جزیزہ بالکل محفوظ ہے اور امریکا جزیرے کی مدد کے لیے '1000 فیصد' پیش پیش ہے جس کے بعد گوام کے گورنر نے بیان دیا کہ امریکی صدر کی یقین دہانی کے بعد وہ اپنے آپ کو پہلے سے بھی زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں۔

جاپان کے حفاظتی اقدامات

ادھر شمالی کوریا کی جانب سے امریکی جزیرے کو میزائل سے نشانہ بنانے کی دھمکی دینے کے بعد جاپان نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے شروع کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی شمالی کوریا کو سنگین نتائج کی دھمکی

جاپانی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کی ممکنہ جارحیت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے میزائلوں کا دفاعی نظام نصب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کے بعد جاپانی وزارت دفاع نے پیٹریوٹ ایڈوانس کیپبلیٹی (پی اے سی - تھری) نامی دفاعی نظام نصب کردیا۔

جاپان نے شیمانی، ہیروشیما اور کوچی میں یہ نظام نصب کیا کیونکہ جغرافیائی لحاظ سے شمالی کوریا کے میزائل جاپان کی فضائی حدود سے ہو کر ہی امریکی جزیرے تک پہنچیں گے۔

اس کے علاوہ جاپان نے اپنے مشرقی سمندر میں اینٹی میزائل جہاز تعینات کردیے جبکہ دیگر اینٹی میزائل سسٹم بھی نصب کیے جاچکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے جاپانی حکومت کے ترجمان یوشیہیدے سوگا کا کہنا تھا کہ ٹوکیو شمالی کوریا کی کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا اور جاپانی فوج اپنی حفاظت کے لیے ضروری قدم اٹھا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: نئی پابندیاں: 'شمالی کوریا جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا'

اس سے قبل روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ پر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نقصانات 'بہت زیادہ' ہوں گے۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیے بغیر کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف ملٹری ایکشن کی دھمکی پر ماسکو 'چوکنا' ہے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ پیونگ یانگ کو اپنے ہتھیاروں کی وجہ سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے لیے بہتر ہے کہ وہ اب امریکا کو مزید دھمکیاں نہ دے ورنہ اسے ایسے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا جو آج تک دنیا نے نہیں دیکھا۔

بعد ازاں شمالی کوریا نے بحر الکاہل میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’نامعقول‘ شخص قرار دے کر اپنے اس منصوبے پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔