"نانو، یہ ہجرت کیا ہوتی ہے؟"

اپ ڈیٹ 28 اگست 2017

ای میل

"عید کا دن تھا جب ہم نے ہجرت کی تھی"، نانی نے سیاہ چادر تانے آسمان پر ہیروں کی طرح دمکتے ستاروں کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔

یہ مئی 1992 کے ایک گرم دن کے بعد کی تاریک لیکن ٹھنڈی رات تھی۔ کراچی میں موسم رات کو بدل سا جاتا ہے۔ دن میں جہاں قہر برسے، رات سکون کی ہوتی ہے۔ ان دنوں کراچی کے حالات بدترین تھے اور نانی ہمارے گھر رہنے آئی ہوئی تھیں۔

مضبوط لکڑی کے فریم کی چارپائی چھت پر پڑی رہتی تھی۔ نانی رات دس بجے اوپر آئیں نماز پڑھی، سفید چادر اور تکیہ چارپائی پر ڈالا جس پر میں لیٹ گئی اور ان کے نماز پڑھنے تک میں نے کئی ستارے گن لیے۔

اس رات چاند کی روشنی بھی بہت تیز تھی اور اندھیری رات میں چھت پر پڑی ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی۔ جب نانی نے مجھے آسمان کی جانب ستارے گنتے ہوئے محو دیکھا تو یہ جملہ کہا۔ میں نے پلٹ کر جھٹ سوال کیا کہ، نانو یہ ہجرت کیا ہوتی ہے؟

نانی نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، "کیا بتاؤں بیٹا کہ ہجرت کیا ہوتی ہے۔ بس ایسا ہی جیسے کسی کو اپنا گھر چھوڑنا پڑے اپنی ہمجولیاں، سکھیاں، محلہ، اپنا دیس چھوڑنا پڑے اور یہ بھی نہ پتہ ہو کہ کب واپس آنا ہوگا اسے ہجرت کہتے ہیں۔"

"آپ کا تو گھر ہے، اس میں سب رہتے ہیں، میں بھی آتی ہوں، تو آپ نے تو گھر نہیں چھوڑا؟" مجھے تشویش ہوئی۔ "ہاں، یہاں گھر ہے۔ یہ تمہارے نانا نے بنایا تھا۔ میرے امی ابو کا گھر جہاں میں پیدا ہوئی، وہ انڈیا میں ہے جہاں سے ہم تب آئے جب پاکستان بنا تھا۔"

میں اٹھ کر بیٹھ گئی، "نانو آپ انڈیا سے اتنی دور کیسے آئیں؟ ریل گاڑی میں؟ مجھے بتائیں ناں۔" نانی کو اس رات اپنا گاؤں یاد آیا ہوا تھا،انہوں نے مکمل کہانی سنانے کی فرمائش قبول کر لی۔


"گرداس پور کے قریب ایک چھوٹے سے گاوں تاریوال میں میرے ابا کی زمینیں اور باڑا تھا، بہت ساری بھینسیں، گائے، بکریاں ہمارے پاس ہوتی تھیں جن کا دودھ ہمارے محلے دار بھی لیتے تھے۔ دادا سے جب زمینیں نہیں سنبھالی گئیں تو ابا جی کو شہر سے بلالیا۔ ابا جی بڑی بڑی مشینیں ٹھیک کرنے کا کام کرتے تھے، اب وہ زمیینیں سنبھالنے لگے۔

میں، میری چھوٹی بہن رضیہ اور ہمارا بھائی دن بھر محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتے کودتے، جس محلے میں ہم رہتے تھے وہاں سکھ اور ہندو بہت زیادہ تھے پر سب میں بڑا پیار تھا۔ دہلی، لکھنؤ، آگرہ، شملہ، لاہور میں کیا ہو رہا تھا ہم کیا جانیں، بس اتنا پتہ تھا کہ کچھ دنوں سے ہر مغرب کے بعد ایک بڑی پنچائیت صحن میں لگتی۔ تب بچے ہٹا دیے جاتے اور کرپان والے تایو، پگھڑ والے چاچو اور گوپی چاچو اور ان جیسے بہت سے محلے دار شام اپنے حقہ اٹھائے ابا جی کے ساتھ بیٹھ جاتے۔

کیا باتیں کرتے، سمجھ نہ آتیں، بس ایک جملہ روز کی ملاقات میں ہوتا کہ "اب حالات ٹھیک نہیں، نہ جانے کب یہ علاقہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائے، پر تسی چنتا نہ کریو ساڈی جان وی حاضر ہے۔"

کئی دوپہریں سکھیوں کے نام ہوئیں تو کئی شامیں پنچائیتوں نے صلاح مشوروں میں گزاردی۔ ایک دن اماں نے عید کے لیے ساری ہم جولیوں کے دوپٹے پر گوٹے ٹانکنے کا کام مکمل کیا اور مجھے بلا کر کہا، اللہ رکھی اس بار عید پر سب سہیلیوں کے جوڑے ایک سے ہیں، خوب تیار ہونا ہے۔

ستائیس رمضان کی افطاری کے بعد پھر صحن بھر گیا آج لوگ زیادہ تھے، بیٹھے سب تھے پر سناٹا تھا۔ تاؤ جی بولے ''من نہیں پتہ اے چنگا ہویا کہ نہیں، صرف اے گل جاندا کہ تو نہیں جا سکدا۔ اے تیرا ملک، اے تیرا پنڈ، اے تیرے پرکھاں دی زمین، قبر، تے تیرا بچپن جوانی سب اتھے نے تو کنج اس سفر تے جائے گا جتھے آگ اور خون دے سوا کجھ وی نہیں؟"

تاؤ جی نے کرپان نکالی تو سب سکھ پڑوسیوں نے ان کی تقلید کرتے ہوئے کرپان نکال کر زمین پر رکھ دی اور قسم کھائی کہ کوئی بھی اگر اس طرف آیا تو ہم سے گزر کر ابا جی تک جائے گا۔ گوپی چاچو مسلسل سر جھکائے روئے جارہے تھے اور ان کا بڑا بیٹا جو کالج جاتا تھا مگر فسادات کے سبب ان دنوں گھر پر تھا، وہ غصے میں کھڑا ہو کر ایک ہی بات کہتا کہ کوئی کہیں نہیں جائے گا، سب سن لیں۔ ابا جی خاموش تھے کچھ نہ بولے۔

رات جب بیٹھک ختم ہوئی تو پہلی بار سب ابا جی کو گلے لگا کر آنکھیں مسلتے اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئے، میں نے ابا جی سے کہا کہ یہ کیوں رو رہے ہیں؟ ابا جی نے مسکرا کر کہا بیٹا آج پاکستان بن گیا ہے وہ ہمارا ملک ہے ہم نے اب وہاں جانا ہے۔ پاکستان بن گیا ہے کوئی نئی جگہ ہوگی وہاں بھی کنواں ہوگا، خوب سارے کھیت ہوں گے، پگڈنڈیاں ہوں گی، آم کے درخت ہوں گے، خوب سارے سوال دماغ میں آئے۔

میں چارپائی پر بیٹھی اور پوچھا ابا جی وہاں میری دوستیں بھی ہوں گی ناں؟ اور ایسا صحن بھی؟ ابا جی نے ہنستے ہوئے کہا ہاں سب ہوگا۔ ایسی ہی رات ہوگی، ایسا ہی گاؤں ہوگا، کھیت بھی ہوں گے، بکریاں بھی اور پانی کا کنواں بھی۔ "اور سہیلیاں؟" میں نے پھر پوچھا" ابا جی نے مڑ کر مجھے دیکھا اور کہا اب بڑی ہوگئی ہو، اب سہیلیوں کے ساتھ باہر نہ پھرا کرو۔

عید کی نماز پڑھ کر ابا جی گھر آئے تو اماں جی نے انہیں بھی سویاں دیں۔ میں رضیہ اور بھائی بھی سویاں کھا رہے تھے ساتھ میں سہیلیوں کی پلٹن بھی۔ ابا جی نے سب کو عیدی دی اور اس عید پر زیادہ دی، ہر بچی کو خوب پیار کیا اور پھر کہا کہ اب گھر جاؤ صفیہ کل ملے گی آج ہم نے عید ملنے دوسرے گاؤں جانا ہے۔

میں نے خوشی سے اچھلنا شروع کر دیا۔ اتنے میں ابا جی نے اماں کو مخاطب کر کے کہا ان بچوں کو کوئی پرانا جوڑا پہنا دو اور یہ کسی بکسے میں ڈال دو۔ جو کپڑے آسانی سے لے سکتی ہو لے لو زیور بھی لے لو۔ اماں جی نے تیزی سے گٹھریاں بنانا شروع کیں ابا جی باہر چلے گئے۔

کچھ دیر بعد آئے تو ایک ساتھ بارہ گٹھریاں دیکھیں تو پریشان ہوگئے۔ پھر تین چھوڑ کر باقی سب ہٹا دیں۔ میں نے اور رضیہ نے رونا شروع کردیا کہ عید کا جوڑا لے کر چلیں، اگلے گھر عید ملنے جانا ہے کیا پرانا جوڑا پہنیں گے؟ تو گٹھری میں نئے جوڑے بھی ڈال دیے گئے۔

اماں جی نے خالی آنکھوں سے بھرے پرے گھر کو دیکھا اور سوال کیا کہ کیا ہم واپس آئیں گے؟ اباجی نے اطمینان سے جواب دیا ہاں آئیں گے لیکن بلوائی اگر آگئے تو جا نہیں سکیں گے۔ ابا جی نے بھینسیں تاؤ جی کے حوالے کیں، ساری بکریاں گوپی چاچو کو اور باقی کی پانچ گائے ساتھ لے جانے لگے۔

سب عورتیں اماں کو گلے لگاتیں، ماتھا چومتیں اور روتی جاتیں۔ عجیب عید تھی کوئی روئے جائے کوئی ماتھا پیٹے اور ہم بچے ہنستے جائیں۔ جب ہم چل پڑے تو پیچھے سے ایک سہیلی نے آواز لگائی صفیہ تو کس پنڈ جا رہی ہے عید ملنے؟ میں نے خوشی سے چیخ کر کہا، "پاکستان، اس پنڈ دے نال ای اے گرداس پور توں ذرا پرے۔"

یہ سننا تھا کہ تائی جی نے سینے پر ہاتھ مارا اور زمین پر بیٹھ گئیں۔ ہمارے ساتھ گوپی چاچو کا بیٹا، تاؤ کے دو کڑیل جوان اور چھوٹے تاؤ تھے۔ ذرا آگے گئے تو ابا جی نے ایک کام کا بہانہ کیا اور ساتھ میں گائے لے کر چلے گئے۔ گھنٹے بعد واپس آئے تو گائیں نہیں تھیں۔ پوچھا تو کہا کہ کسی کو دے آیا ہوں، بیمار ہوجاتیں اتنا لمبا سفر کر کے۔

جب چلتے چلتے تھک گئے تو چھوٹے تاؤ نے ابا جی کو صلاح دی کہ اب جو گاؤں آئے گا، وہاں فسادات پھوٹ پڑے ہیں، لہٰذا اگر کوئی بلوائی آجاتا ہے تو آپ کو قسم ہے آپ نے خود کومسلمان نہیں کہنا۔ اپنے ہاتھ سے ایک کڑا اتارا اور ابا جی کو پہننے کو دیا، جسے ابا نے مسترد کر دیا۔

نہیں معلوم کیا جگہ تھی کب سے چلے جارہے تھے۔ رات بیت گئی تو معلوم ہوا کہ پاکستان جانے والے سب یہاں جمع ہوں گے۔ وہ کوئی مہاجرین کا کیمپ تھا جہاں ہمارے پڑوسیوں نے ہمیں بحفاظت پہنچایا تھا۔ چاروں طرف چند سپاہی تھے اور سرکنڈوں پر تاریں لگا کر باڑ بنادی گئی تھی۔

ہم اس میں چلے گئے تو وہاں اور بھی لوگ تھے۔ کھانا ساتھ تھا تو کھا کر میں اور بہن بھائی سو گئے۔ اگلا دن چڑھا تو بھوک ستائی برداشت کرتے کرتے دوپہر ہوگئی اتنے میں دور سے گوپی چاچو کا لڑکا اور تاؤ کے بیٹے آتے دکھائی دیے، انہوں نے ہمیں کھانا دیا۔ اماں نے جب رومال کھولا تو اس میں تائی کے ہاتھ کے بنے اصلی گھی کی خوشبو سے مہکے بلدار موٹے موٹے پراٹھے تھے اور ایک چھوٹا سا مرتبان اچار کا تھا جو گوپی چاچو کے گھر سے آیا تھا۔

پراٹھے اتنے تھے کہ اماں جی اور لوگوں کو بھی دیے تب تک ابا جی کو بتایا گیا کہ رات بلوائیوں کا حملہ ہوگیا ہے لیکن انھیں کچھ مل نہ سکا لیکن گرداس پور سے نکل کر آگے امرتسر اور بھی خطرناک ہوگا۔

ابا جی نے بس اتنا پوچھا گھر سنبھال لیا ہے؟ تو تاؤ کے لڑکوں نے روتے ہوئے کہا "جی سنبھال تے لیا ہے، پر اے کار تواڈی امانت اے تسی واپس لینا ضرور اے۔ ابا جی نے کہا اب تمہارا ہے بلکہ تم سب کا۔ میرا گھر اب پاکستان ہے۔ وہی میری منزل ہے وہی میرا سب کچھ ہے۔"

اس کیمپ سے ہمیں جلد اگلی منزل کی طرف جانا تھا پر خونی فسادات کی وجہ سے یہاں رکے رہنا ہماری مجبوری تھی۔ اس جگہ قیام کے چوتھے روز جب ہمارے پڑوسی کئی میل دور چل کر ہمارے لیے کھانا لا رہے تھے تو انہیں راستے میں تشدد سہنا پڑا۔

اس روز دوپہر کے بجائے کھانا شام ڈھلے آیا تو تاؤ جی کے بیٹے اور گوپی چاچو کے بیٹے کے کرتے پر جگہ جگہ خون تھا، لیکن پراٹھوں کی مہک اور اچار کا چٹخارہ ویسا ہی تھا۔

خون آلود اور جگہ جگہ سے پھٹے کرتے دیکھ کر ابا جی نے اپنے بھتیجوں جو نہ ہم مذہب تھے نہ ہم زبان، نہ ان سے خون کا رشتہ، لیکن ان سے کہیں بڑھ کر تھے، کو سمجھایا کہ اب نہیں آنا اب کل ہماری سواری ہے، دعا کرنا کہ خیریت سے آگے جائیں۔ آگے کا قافلہ بڑا ہے جو گرداس پور سے گزر کر پاکستان جائے گا۔

اس روز ابا جی کو بھی روتے دیکھا تو میں نے پوچھا ابا یہ کیسا گاؤں ہے جہاں جانے کے لیے اتنا لمبا سفر اور سب اس کا نام آتے ہی رونے لگتے ہیں وہاں کون ہے ہمارا جس سے ملنے اتنے لوگ جارہے ہیں؟ ابا نے میرا سر گود میں رکھا اور کہا وہاں سب ہیں اور وہاں قائد اعظم محمد علی جناح ہیں جو ہمارا انتظار کر رہے ہیں، جب ہم وہاں پہنچیں گے تو دیکھنا ہمیں وہ سب ملے گا کہ تم یہ تکلیف سفر کی تھکان تک بھول جاؤ گی۔

اگلے دن قافلہ بڑا ہوتا گیا اور ہدایت ملی کے سب ساتھ ساتھ رہیں۔ دوسرے گاؤں سے بھی کئی لوگ آج کے قافلے میں شامل تھے نکلتے وقت ابا جی نے ہم سب بہن بھائی اور اماں جی کو ایک ہدایت کی اگر کوئی بلوائی حملہ کردے اور میں کہوں کے لیٹ جاؤ تو لیٹ جانا اور جب تک اٹھنے کو نہ کہوں، لیٹی رہنا اور آواز نہ نکالنا۔

گرداس پور کا قافلہ اتنا بڑا تھا کہ مجھے تعداد یاد نہیں۔ نانی دادی کی عمر کی عورتیں بچے، بوڑھے، مرد سب ہی تھے۔ ہم چلتے جا رہے تھے، تھک چکے تھے، بھوک اور پیاس سے برا حال تھا کہ ایک دم ایسا لگا کہ کچھ ہوا ہے، ابا جی چیخے، "اللہ رکھی، رضیہ، لیٹ جاؤ"، ہم لیٹ گئے۔ کچھ یاد نہیں کہ کب تک ایسا رہا۔

میں شاید سو گئی تھی جب ابا جی نے مجھے ہلایا اور رو رو کر پکارنے لگے صفیہ اٹھ صفیہ اٹھ۔۔ میں اٹھی تو ابو نے مجھے گلے لگایا نیند سے بیدار ہوئی تو منظر بدل چکا تھا ہر جانب خون سے لتھڑی لاشیں تھیں۔ گہرے گھاؤ سے رستا خون اور کسی کی لاش پر کوئی رونے والا بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔

لاشوں سے دور ایک بوڑھی اماں سسک سسک کر رو رہی تھیں۔ ان کے پوتا، بیٹے اور بہو کو بلوائیوں نے کاٹ ڈالا تھا۔ ایک بوڑھا رو رہا تھا اس کی دو بیٹیاں بلوائی اٹھالے گئے تھے۔ دو لڑکے جو جوان تھے وہ بھی رو رہے تھے، ان کا خاندان بھی ختم ہوچکا تھا۔ کل ملا کر ہم پچیس تیس بچے تھے جو لاشوں تلے دبے سانس تھامے لیٹے رہے تو بلوائی ہمیں مردہ سمجھ کر آگے نکل گئے۔

اماں نے رو کر کہا بچوں کے کپڑے بدل دوں؟ ابا جی نے کہا نہیں یہی رہنے دو، آگے جاکر بدل دینا۔ پیاس سے حلق میں کانٹے پڑے تھے۔ ابا جی کی تسلیاں کہ آگے پانی پیتے ہیں۔ بچتے بچاتے ہم چند لوگوں کا قافلہ چلتا گیا۔ آگے اندھیرے میں مجھے ایک کنواں دکھائی دیا میں نے اور رضیہ نے چیخ ماری "ابا جی، پانی!"

جب کنوئیں کے پاس گئے تو اس میں پانی نہیں تھا بلکہ کئی گھروں کی حرمت اور عفت نظر آئیں۔ پھر میں نے اور رضیہ نے ابا جی سے پانی کی ضد نہ کی۔ نہ ہمیں بھوک لگی نہ پیاس نہ تھکان بس چلتے گئے۔ رات کے کسی پہر ہمیں ایک جگہ ملی جہاں چھوٹے قافلے کے چند مردوں نے کچھ گٹھ جوڑ کیا، اور پھر ہم ٹرک پر سوار ہوگئے۔ وہ بوڑھا آدمی جس کی دو بیٹیاں آزادی کے نام پر قربان ہوئیں اس نے مجھے اور رضیہ کو اپنے ساتھ بٹھایا، دوسرے ٹرک پر ابا جی، اماں جی اور منا تھے یہ سفر بھی چھپ کر کرنا تھا۔

اچانک سے دوست کی آواز کانوں میں گونجی صفیہ سن تو کب واپس آئے گی؟ تو کہاں جا رہی ہے؟ پھر گوٹے کناری والا آتشی دوپٹہ یاد آیا، پھر سویوں کی چاشنی حلق سے اترتے محسوس ہوئی، تھوڑی دیر بعد چاند تائی کے ہاتھ کا بنا ہوا بلدار پراٹھا نظر آنے لگا۔ اب پتہ چل رہا تھا کہ ابا جی نے کیوں کہا تھا اب تو بڑی ہوگئی ہے باہر نہ نکلا کر، یہ بات کان میں گونجی تو وہ لاشوں بھرا کنواں نظر آیا اور میں نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور گیلی پلکوں اور خشک حلق کے ساتھ سوگئی۔

آنکھ تب کھلی جب رضیہ نے جھنجھوڑ کر اٹھایا "اٹھو اٹھو پاکستان آگیا، لاہور آگیا،" میں نے آنکھیں مل کر دیکھا تو افراتفری مچی تھی۔ ابا جی اماں جی نظر نہیں آرہے تھے، بس ہمارا ہاتھ بوڑھے بابا کے ہاتھ میں تھا اور ہم دونوں بہنوں کے گلے میں ڈلے دوپٹے کو انہوں نے ساتھ باندھ ڈالا تھا کہ کہیں ہم بچھڑ نہ جائیں، رضیہ روئے جائے اور ابا اماں کی تلاش کرے کچھ گھنٹوں بعد ہم سب مل گئے۔ ابا جی نے اماں جی نے ہمیں گلے لگایا اور پھر ابا جی شکر ادا کرنے زمین پر سجدہ دینے لگے۔

اٹھے تو بولے اللہ رکھی ہم اپنے گھر آگئے ہم پاکستان آگئے۔ میں نے اردگرد دیکھا تو کوئی کھیت نہ تھا، کوئی صحن نہ تھا کوئی سہیلی نہ تھی کوئی کنواں پگڈنڈی نہ تھی۔ ایک پیپل کا گھنا درخت تھا جس کے نیچے بھی وہی بیٹھے تھے جو اپنا سب کچھ لٹا کر چھوڑ کر نئے گھر آئے تھے۔


میں نے کئی بار نانی کو کرکٹ یا ہاکی میچ شروع ہونے سے قبل قومی ترانے پر کھڑے ہوکر سینے پر ہاتھ رکھے دیکھا ہے۔ ٹی وی پر جب بم دھماکوں کی خبر چلے تو روتے اور تسبیح پڑھتے دیکھا ہے۔ آج بھی جب کسی تقریب میں پاکستانی پرچم کشائی کا منظر ٹی وی پر نظر آئے تو ان کے چہرے پر خوشی کو رقص کرتے اور آنکھوں کو نم دیکھا ہے۔ جب بھی نشان حیدر پانے والوں کی تصاویر اسکرین پر نمودار ہوں تو ان کو شہداء کی بلائیں لیتے دیکھا ہے۔

نانی کو کبھی کبھی کہتی ہوں نانی انڈیا کا ویزا لگوائیں آپ کے گاؤں چلتے ہیں، تب وہ ہاتھ اٹھا کربڑے جوش سے کہتی ہیں، نا بیٹا، ہمارا گھر یہ ہے پاکستان۔ ہاں جانے کو دل کرتا ہے پر صرف اجمیر شریف، چلو کوئی نہیں لاہور داتا صاحب بھی ہیں دعائیں تو کہیں بھی کی جاسکتی ہیں اور میں یہ سن کر مسکرا دیتی۔

اب انکی عمر بہت ہوچکی، اپنی کہی ہوئی بات بھی بھول جاتی ہیں۔ اپنے کئی پیاروں کو بھی کھو چکی ہیں لیکن جب تذکرہ چھڑ جائے ہجرت کا تو انہیں وہ ستاروں سے بھری کالی چادر اوڑھے رات یاد آتی ہے۔ اپنے وطن میں جب کسی جوان لڑکی کی آبروریزی کی خبر چلے تو عفت کو سمیٹے وہ لاشوں سے بھرے کنوئیں یاد آتے ہیں۔

شہر میں خون کی ہولی جب جب کھیلی جائے انہیں گرداس پور کا وہ بے کفن لاشو ں کا انبار لیے قافلہ یاد آتا ہے۔ جب اپنے اپنوں سے بے اعتنائی برتیں تو تاؤ اور چاچو کے وہ کڑیل جوان یاد آتے ہیں جو جان پر کھیل کر کھانا لایا کرتے تھے۔

کبھی کبھی میں بد دل ہوکر کہتی ہوں کہ اس ملک کا بیڑا غرق ہوچکا ہے تو جواب زوردار آتا ہے: اللہ نہ کرے پتر، ہم نہیں رہیں گے مگر یہ ملک رہے گا بھلے کچھ بھی ہوجائے، یہ کلمے کے نام پر بنا ہے اس پر لاکھوں لوگوں نے اپنی جانیں اور اپنی عزتیں واری ہیں، اس کی زمین میں آج بھی شہیدوں کا خون شامل ہے یہ قائم رہے گا اور تا قیامت سلامت رہے گا۔