روہنگیا بحران سے متعلق 'غلط معلومات' پر آنگ سان سوچی کی مذمت

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2017

ای میل

میانمار کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا بحران پر عالمی برادری کے شدید دباؤ کا سامنا ہے—۔فوٹو / اے ایف پی
میانمار کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی کو روہنگیا بحران پر عالمی برادری کے شدید دباؤ کا سامنا ہے—۔فوٹو / اے ایف پی

میانمار کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان سوچی نے الزام عائد کیا ہے کہ 'جھوٹی معلومات' کی وجہ سے روہنگیا بحران کی غلط تصویر پیش کی جارہی ہے، جس نے ایک لاکھ 25 ہزار مسلم اقلیتوں کو بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور کردیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ ماہ 25 اگست سے جاری اس بحران کے بعد اپنے پہلے بیان میں آنگ سان سوچی کا کہنا تھا کہ 'مختلف کمیونٹیز میں مسائل پیدا کرنے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی ہیں' جبکہ اس کا ایک مقصد 'دہشت گردوں کے مفادات' کی تشہیر بھی ہے۔

آنگ سان سوچی نے یہ بیان میانمار میں فوج کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے خلاف ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے مذمت اور فون کال کے بعد جاری کیا۔

اسٹیٹ کونسلر آفس کے فیس بک پیج کے مطابق آنگ سان سوچی نے گذشتہ ہفتے ترکی کے نائب وزیراعظم کی جانب سے ٹوئٹر پر پھیلائی گئی 'غلط معلومات' کی مذمت کی، واضح رہے کہ ترک نائب وزیراعظم نے روہنگیا مسلمانوں کی لاشوں کی کچھ تصاویر پوسٹ کی تھیں، جن کے بارے میں ثابت ہوا کہ وہ موجودہ بحران سے متعلق نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: 11روز میں سوالاکھ کے قریب روہنگیا بنگلہ دیش پہنچے ہیں،اقوام متحدہ

آنگ سان سوچی کا کہنا تھا کہ، 'دہشت گردی میانمار کے لیے نئی ہے لیکن حکومت اس بات کی ہر ممکن طریقے سے کوشش کرے گی کہ اس میں اضافہ نہ ہو اور یہ پورے رکھائن میں نہ پھیلے'۔

واضح رہے کہ میانمار کی ریاست رکھائن میں مبینہ طور پر روہنگیا عسکریت پسندوں کی جانب سے پولیس چیک پوسٹوں پر حملوں کے بعد سے فوج کے کریک ڈاؤن میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ روہنگیا مسلمانوں کے 60 ہزار سے زائد گھروں کو بھی نذر آتش کیا جاچکا ہے۔

ان واقعات کے میڈیا پر رپورٹ ہونے کے بعد سے نوبیل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو عالمی برادری خصوصاً مسلمان ممالک کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے، جنہوں نے روہنگیا مسلمانوں سے فوج کے برتاؤ کے خلاف کچھ بولنے سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں پر جبروتشدد کی مذمت کریں: ملالہ

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے ارکان کے قریب کچھ پولیس چوکیوں پر حملے کیے گئے تھے جس میں اہلکاروں سمیت 90 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، فوج اس مسلح تحریک کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کو حل قرار دے رہی ہے جبکہ کئی حلقے اس مسلح تحریک کو متواتر حق تلفی اور ناانصافی کا رد عمل قرار دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے میانمار کی فوج کا موقف ہے کہ وہ 'دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں' کے خلاف کارروائی کررہی ہے کیونکہ عوام کا تحفظ ان کا فرض ہے۔

اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق میانمار کی ایک ریاست میں فوجی بیس پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد شروع ہونے والی کارروائی کے نتیجے میں گزشتہ 11 روز میں ایک لاکھ 23 ہزار 600 افراد نے سرحد پار کی ہے۔