بھارت کی وزارت خارجہ نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں 2016 میں پاکستان میں گرفتار ہونے جاسوس کلبھوشن یادیو کے مقدمے کے حوالے سے بھارت کی جانب سے تحریری بیان جمع کرانے کی تصدیق کردی ہے۔

بھارت نے کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے سزائے موت سنائے جانے کے بعد معاملے کو پاکستان کے خلاف رواں سال مئی میں آئی سی جے میں داخل کیا تھا۔

آئی سی جے میں دائر درخواست میں بھارت نےموقف اپنایا تھا کہ پاکستان، بھارت کو کلبھوشن یادیو تک سفارتی رسائی دینے سے انکار کرکے ویاناکنونشن کی خلاف ورزی کررہا ہے اس لیے عالمی عدالت کلبھوشن کی سزائے موت کو معطل کرنے کو یقینی بنائے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ 'کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد ایک لمبے عرصے تک معلومات نہیں دی گئیں' اور میڈیا کے ذریعے ہی ان کی سزائے موت کا علم ہوا۔

مزید پڑھیں:بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنا دی گئی

آئی سی جے نے 15 مئی کو سماعت کے دوران سزا کو روکنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'پاکستان عدالت کے حتمی فیصلے تک کلبھوشن کو سزائے موت نہ دینے کے لیے اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے'۔

عالمی عدالت نے بھارت اور پاکستان کو بالترتیب 13 ستمبر اور 13 دسمبر تک اپنے جواب دائر کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد عدالتی سماعت آگے بڑھے گی اور حتمی فیصلے تک پہنچا جائے گا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے تازہ اقدام کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 'آج بھارت نے کلبھوشن یادیو سے متعلق معاملے میں پاکستان کی جانب سے سفارتی تعلقات 1963 کے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی پر اپنا جواب تحریری طور پر جمع کرادیا ہے'۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی عدالت کلبھوشن کیس کی سماعت نہیں کرسکتی، پاکستان

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ 8 مئی 2017 کو عدالت میں دائر کی گئی درخواست کا تسلسل ہے'۔

کلبھوشن کی گرفتاری اور اعترافات

بھارتی جاسوس اور نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے حساس اداروں نے3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔

'را' ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی تھی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی 'را' میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے۔

کلبوشھن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔

کلبھوشن کو سزائے موت

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کے ٹرائل کے بعد رواں سال 10 اپریل کو پاکستان کی جاسوسی اور کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنا دی تھی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو یہ سزا پاکستان میں جاسوسی اور تخریب کاری کی کارروائیوں پر سنائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:کلبھوشن یادیو کون ہے؟

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور سزا سنائی۔

بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی مجرم کی سزائے موت کی توثیق کی تھی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور سرکاری سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 3 کے تحت ٹرائل کیا۔

ایف جی سی ایم نے کلبھوشن یادیو کو تمام چارجز میں مجرم پایا، جبکہ بھارتی خفیہ ایجنٹ نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا۔