اسپین کے لیے پاکستان کے تجارتی مشیر ڈاکٹر محمد حامد علی کا کہنا ہے کہ گذشتہ مالی سال 2017-2016 کے دوران اسپین پاکستان کی برآمدات کے لیے دنیا میں تیسری سب سے بڑی منڈی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔

اپنے ایک بیان میں اسپین کے لیے پاکستان کے تجارتی مشیر نے کہا کہ جنوبی یورپ کے ملک کے لیے پاکستان کی برآمدات 93 کروڑ 40 لاکھ 30 ہزار ڈالر رہی جو کہ مالی سال 2016-2015 کی 88 کروڑ 67 لاکھ 20 ہزار ڈالر سے 5 اعشاریہ 43 فیصد زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اسپین کے لیے پاکستان کی برآمدات میں اب تک کا سب سے زیادہ اضافہ ہے جبکہ جی ایس پی کی سہولت سے قبل یہ برآمدات 56 کروڑ 44 لاکھ 2 ہزار ڈالر تھیں۔

مزید پڑھیں: اسپین: مسلم سلطنت کی جیتی جاگتی یادگار

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسپین میں بے روز گاری کی بڑھتی ہوئی شرح، کم ہوتی قوت خرید، کم آمدنی، گھریلو اشیاء کی طلب میں کمی، غیر اہم درآمدات میں کمی کے باوجود پاکستانی اشیاء کی درآمد میں اضافہ ہوا۔

ڈاکٹر محمد حامد علی نے بتایا کہ پاکستان اور اسپین کے درمیان دوطرفہ تجارت بلندی کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ امید ہے کہ دونوں ممالک بہت جلد 1 ارب ڈالر کی تجارت کے سنگ میل کو حاصل کر لیں گے، جبکہ اس وقت دوطرفہ تجارت کا توازن پاکستان کی جانب ہے۔

تجارتی مشیر نے یہ بھی بتایا کہ رواں ماہ یورپ کی بڑی فیشن کمپنیوں میں سے ایک کمپنی گروپو کورٹیفیل لاہور اور کراچی میں وومین سیکریٹ کی برانچ کا آغاز کرنے جارہی ہے۔

علاوہ ازیں وزارت تجارت اور پاکستان ترقیاتی اتھارٹی اسپین کے دارالحکومت میڈریڈ میں پاکستانی سفارتخانے اور دیگر اسٹیک ہرلڈرز کے ساتھ مل کر اسپین کے لیے پاکستانی اشیاء کی برآمدات میں مزید بہتری کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔


یہ خبر 14 ستمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی