پاکستان کے غیر یقینی سیاسی حالات میں سات ہفتے پہلے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے والے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تو مبصرین اور بالخصوص مسلم لیگ نواز کے مخالفین، اِس دورے کو فوٹو سیشن قرار دے رہے تھے، ناقدین کا خیال تھا کہ شاہد خاقان عباسی مسئلہ کشمیر، افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی، مسلم دنیا کے مسائل اور بھارتی سازشوں پر کھل کر بات نہیں کریں گے۔ یہ تنقید بھی نئی نہیں، کیونکہ جب میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان تھے تب انہیں بھی بھارت نواز، مودی کا دوست اور کاروباری وزیراعظم کہا جاتا رہا ہے۔ یہ ٹیگ مسلم لیگ نواز پر چسپاں کرکے اِسے ’’سکیورٹی رسک‘‘ قرار دینے کا کھیل نیا نہیں بلکہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی یہ کھیل کھیلا جاتا رہا، بدقسمتی سے اِس کھیل میں مسلم لیگ نواز بھی حصہ دار تھی۔

بظاہر کمزور اور ناتجربہ کار وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں نہ صرف مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی بلکہ بلوچستان میں بھارتی ریشہ دوانیوں اور لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ عالمی نظام میں ٹوٹ پھوٹ، بڑی طاقتوں کی چپقلش سے دنیا میں بڑھتے ہوئے تصادم کے اندیشوں، ماحولیاتی تباہی کے خطرات اور چین کے اہم ترین منصوبے ’ون بیلٹ ون روڈ ‘ کے تحت بننے والے سی پیک سمیت ہر اہم معاملے پر وزیراعظم نے پاکستان کی سوچ دنیا کے سامنے رکھی۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تقریر کا بڑا حصہ مظلوم کشمیریوں سے روا رکھے گئے بھارتی سلوک پر مبنی تھا، یہ حصہ اِس قدر مؤثر اور جاندار تھا کہ بھارتی میڈیا نے نہ صرف اِسے نمایاں جگہ دی بلکہ تمام میڈیا ہاؤسز کی رپورٹنگ میں مشترکہ جملہ تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے 17 بار کشمیر اور 14 بار ہندوستان کا نام لیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قیامِ پاکستان کے فوری بعد سے بھارت کے مخاصمانہ رویے سے آغاز کرتے ہوئے کشمیر میں حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو نمایاں کیا۔

پڑھیے: امریکا کا پہلا دورہ: وزیر اعظم سے پوچھے گئے 6 مشکل سوالات

بھارت اور پاکستان کے درمیان ستر سالہ مخاصمت کی بنیادی وجہ کشمیر کے مسئلہ کو ٹھہرا کر وزیراعظم نے واضح کردیا کہ تعلقات معمول پر لانے کا واحد راستہ کشمیری عوام کی امنگوں سے جڑا ہے۔ وزیراعظم نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام سے روا رکھے گئے ظلم سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ حربہ آزمایا جاتا ہے۔

بھارت کی دیدہ دلیری دیکھیے، شاہد خاقان عباسی کے کہے کو دوسرے دن ہی سچ کر دکھایا، اور لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج نے بلاجواز فائرنگ اور گولہ باری کرکے سات معصوم شہریوں کو شہید کردیا۔ لائن آف کنٹرول کی اِس خلاف ورزی کا مقصد یہی تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے اپنی تقریر کے ذریعے دنیا کی جو توجہ مقبوضہ کشمیر کی طرف مبذول کروائی ہے اُسے ہٹا کر بے مقصد جھڑپ کی طرف لایا جائے۔

وزیراعظم عباسی نے کشمیر کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کے تقرر کا بھی مطالبہ کیا، جس سے اِس مسئلے پر اُن کی گہری سوچ بچار کی بھی عکاسی ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہندوستان، جو لائن آف کنٹرول پر اپنی طرف اقوام متحدہ کے مبصرین کو بھی رسائی نہیں دیتا، وہ خصوصی مندوب کا مطالبہ کیسے گوارا کرے گا؟

وزیراعظم نے کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کو اجاگر کرنے کے بعد پاکستان کے اندر بھی بھارتی تخریبی کارروائیوں کا ذکر کیا۔ اُن کے ناقدین کے پاس اہم نکتہ پھر ایک ہی ہے کہ کلبھوشن کا ذکر نہیں ہوا، تاہم اِس نکتے پر ڈھول پیٹنے کی بجائے وزیراعظم کے اِس بیان کو دیکھنا چاہیے جس میں انہوں نے بھارت کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ، پاکستان میں بھارتی ریاست کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی بھی بند ہونی چاہیے۔ یہ جملہ اکیلے کلبھوشن کے تذکرے سے زیادہ اہم ہے جس میں کلبھوشن سمیت بھارتی ریاست کی سرپرستی میں چلنے والا ہر نیٹ ورک شامل ہے خواہ وہ بھارت سے آپریٹ کرتا ہو یا کابل اور قندھار کے قونصل خانوں سے۔

وزیراعظم نے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے بھارتی اور امریکی الزام کا بھی جواب دیا اور واضح کیا کہ یہ دہشتگردی افغانستان میں چار دہائیوں سے ہونے والی جنگ کا نتیجہ ہے، جسے افغان اور پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔ وزیراعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ افغان مسئلہ کا حل جنگ نہیں، اور یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کسی صورت افغان جنگ میں ’قربانی کا بکرا‘ نہیں بنے گا۔

وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں خطاب سے پہلے کونسل آن فارن ریلیشن میں بھی دوٹوک انداز میں افغانستان میں ہندوستان کے سیاسی یا فوجی کردار کو رد کیا، جنرل اسمبلی میں اِس حوالے سے صاف کہا کہ ہم کسی بھی ایسی ناکام حکمت عملی کی تائید نہیں کریں گے جس سے افغان اور پاکستانی عوام کی مشکلات مزید اضافہ ہوا۔ بھارتی کردار کی نفی کے لیے وزیراعظم نے کہا کہ چار فریقی (افغانستان، پاکستان، امریکا، چین) مذاکرات یا پھر سہہ فریقی (افغان حکومت، افغان طالبان، پاکستان) مذاکرات میں ہی قابل عمل حل نکالا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم کے مذکورہ طریقہ کار میں کہیں بھی بھارت کے لیے کوئی گنجائش نہیں نکلتی۔

پڑھیے: شاہد خاقان عباسی کی سیاست تاریخ کے آئینے میں

وزیراعظم عباسی نے اپنے خطاب میں ورلڈ آرڈر کا شیرازہ بکھرنے اور اِس کے نتیجے میں شروع ہونے والی کشمکش کو بھی نمایاں کیا۔ اِس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے، چین کے ساتھ مضبوط تعلقات اور معاشی ترقی کے لیے سی پیک کا حوالہ دے کر مستقبل میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا بھی اشارہ دیا۔ یہ اشارہ امریکا کی طرف سے ملنے والی امداد کے مقابلے میں پاکستان کے نقصانات کا تخمینہ بتا کر مزید واضح بھی کردیا۔

وزیراعظم کے اِس خطاب سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ افغان مسئلہ اور امریکا سے تعلقات کے معاملے پر پاک فوج اور سول قیادت ایک پیج پر ہیں۔ اِس کی مزید وضاحت کونسل آن فارن ریلیشنز کی تقریب میں بھی کی، جہاں اُن سے سوال کیا گیا کہ ’’گھر کو ٹھیک کرنے‘‘ سے کیا مراد ہے؟ جس کا ذکر آپ اور آپ کی کابینہ کے ارکان کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اِس کے جواب میں ایسی کوئی بات نہیں کی، جیسا کہ پاکستان میں اسے اخذ کیا جا رہا ہے، بلکہ وزیراعظم نے واضح کیا کہ اِس سے مراد یہ ہے کہ افغان جنگ ہو یا خطے میں سیکیورٹی کا کوئی بھی مسئلہ، ہمیں پاکستان کو مقدم رکھنا ہوگا، ہم ماضی کی پالیسیوں کا نقصان اب تک بھگت رہے ہیں۔

امریکا میں میڈیا سے گفتگو، تھنک ٹینکس کے پروگرامز اور جنرل اسمبلی میں خطاب کے بعد وزیراعظم عباسی مسلم لیگ نواز کی باقی ماندہ مدت کے لیے بہترین انتخاب دکھائی دیتے ہیں، 2018 میں اگر مسلم لیگ نواز دوبارہ اکثریت لے پائی تو کیا خاقان عباسی ہی پارٹی کی چوائس ہوں گے؟ شہباز شریف اور مریم نواز کے ہوتے ہوئے پاکستان میں یہ سوال اگرچہ بے معنی لگتا ہے لیکن کونسل آن فارن ریلیشنز کے پروگرام میں میزبان نے وزیراعظم عباسی سے براہِ راست یہ سوال کردیا۔ اِس موقع پر وزیراعظم عباسی، سیاسی مصلحت کے تحت کھل کر تو نہیں بولے لیکن ہنستے ہوئے کہا کہ کسی سیاستدان سے ایسا سوال نہیں کرنا چاہیے۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم عباسی اقتدار کے اِس مختصر عرصے میں ضرور ایسا کچھ کرنا چاہیں گے کہ پارٹی اُنہیں نظرانداز کرنے سے پہلے ایک بار غور ضرور کرے۔

وزیراعظم عباسی نے پارٹی قیادت سے وفاداری کے اظہار میں بھی کوئی کمی نہیں رکھی۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کی صبح ناشتے کے وقت ملک میں حکومت موجود تھی لیکن دوپہر کے کھانے کے وقت پاکستان میں حکومت نہیں رہی تھی (اِس پر وزیراعظم کے ساتھ میزبان نے بھی قہقہہ لگایا)۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اور اُن کی پارٹی عدالتی فیصلے سے متفق نہیں تھے لیکن جمہوریت کی خاطر قبول کیا۔ وزیراعظم عباسی کا انٹرنیشنل فورم پر عدالتی فیصلے کے حوالے سے پارٹی قیادت کے مؤقف کو دہرانا ثابت کرتا ہے کہ وزارت عظمیٰ پانے کے بعد وہ آپے سے باہر نہیں ہوئے۔

وزیراعظم عباسی کا دورہ امریکا مقامی میڈیا میں مسلم لیگ نواز کے ناقدین کے لیے واضح اشارہ ہے جو روزانہ زور و شور سے ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ وزیراعظم عباسی، سابق وزیراعظم کی پالیسیوں پر مستقل عمل پیرا نہیں ہوں گے، کیونکہ اب تک تو وزیراعظم عباسی نے قیادت سے انحراف کا کوئی اشارہ نہیں دیا، لیکن ’اندر کی خبر‘ رکھنے والوں کے دعوے تھم نہیں رہے۔