ایف 16 طیارے: امریکی کمپنی بیک وقت پاکستان کی حامی اور مخالف

04 اکتوبر 2017

ای میل

سابق امریکی سینیٹر لاری پریسلر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو ایف 16 طیارے دینے کا معاہدہ کروانے کے لیے جس لابنگ فرم نے کام کیا تھا، اسی نے تجویز شدہ فروخت کو رکوانے کے لیے طیارہ ساز کمپنی کے سامنے بھارت کی وکالت کی تھی۔

اس بات کا انکشاف سابق امریکی سینیٹر لاری پریسلر نے ’ہتھیاروں میں گھرے ہمسائے‘ کے عنوان سے اپنی ایک کتاب میں کیا۔

مذکورہ کتاب کو حال ہی میں بھارت میں پینگوئن رینڈم ہاؤس کی جانب سے شائع کیا گیا، جبکہ اس کتاب کے کچھ اقتباسات بھارتی ڈیجیٹل میگزین 'کوارٹز' میں شائع کیے گئے۔

خیال رہے کہ لاری پریسلر نے ہی ’پریسلر ترمیم‘ پیش کی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے معاشی اور فوجی امداد پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایف 16 کی فراہمی: امریکا نے امداد روک دی

لاری پریسلر کی کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ ایف 16 طیارے تیار کرنے والی کمپنی ’لوک ہیڈ مارٹن‘ نے واشنگٹن کے پوڈیسٹا گروپ کا تقرر کیا جو پاکستان سمیت دنیا کے دیگر خریداروں کے ساتھ طیاروں کی فروخت کے معاملات کو طے کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔

سابق امریکی سینیٹر کی کتاب میں بتایا گیا کہ 2014 سے 2016 تک لوک ہیڈ مارٹن نے اس گروپ کی ذیلی کمپنی ’ٹونی پوڈیسٹا‘ کو 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی رقم ادا کی۔

فروری 2016 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ایف 16 طیاروں کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کا تذکرہ کرتے ہوئے کتاب میں کہا گیا کہ اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ پوڈیسٹا گروپ کی پاکستان کے ساتھ ایف 16 طیاروں کی فروخت کے معاہدے میں کوششیں نمایاں تھیں۔

خیال رہے کہ فروری 2016 میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو 8 ایف 16 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے رہے ہیں اور اس معاہدے کی منظوری کو لوک ہیڈ مارٹن کی واضح فتح قرار دیا جارہا تھا۔

پاکستان کے ساتھ اس نئے معاہدے کے ضوابط کے تحت ایف 16 طیاروں کی اضافی فروخت پر امریکی حکومت کی جانب سے سبسڈی دی جانے والی تھی اور یہ سبسڈی امریکی غیر ملکی ملٹری فنڈ (ایف ایم ایف) سے دی جانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اردن سے ایف 16 طیارے خریدنے کا امکان

مذکورہ امریکی فنڈ کو دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے کے تحت فوجی سامان کی فروخت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بھارتی حکومت نے امریکا کی جانب سے پاکستان کو طیاروں کی فروخت اور ان پر دی جانے والی سبسڈی پر احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو دیے جانے والے یہ طیارے ایٹمی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ممکنہ طور پر بھارت کے خلاف استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

واشنگٹن میں موجود بھارتی سفارتخانے نے پاک-امریکا معاہدے کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کردی تھیں، اس حوالے سے لاری پریسلر نے اپنی کتاب میں لکھا کہ بھارت کی جانب سے 2010 سے جو لابنگ فرم کام کر رہی تھی وہ پوڈیسٹا گروپ ہی تھا۔

امریکی سینیٹر نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ کانگریس میں جو ریکارڈ جمع کرایا گیا اس کے مطابق پوڈیسٹا گروپ نے بھارت سے پاک-امریکا معاہدہ ختم کروانے کی کوششیں کرنے کے لیے 7 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم وصول کی۔

مزید پڑھیں: ایف 16 طیارے:’پاکستان کو خود فنڈز دینے ہوں گے‘

لاری پریسلر کا کتاب میں دعویٰ ہے کہ بھارتی سفارتخانے کی جانب سے لابنگ فرم پر دباؤ نتیجہ خیز ثابت ہوا اور معاہدے کے کچھ روز بعد ہی ریپبلکن سینیٹر رند پال نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت روکنے کے لیے ایک مشترکہ قرارداد پیش کی۔

امریکی سینیٹر کی اس قرارداد کو سینیٹ میں بحث کے لیے لایا گیا جسے مسترد کرتے ہوئے طیاروں کی فروخت کا معاہدہ منظور کر لیا گیا۔

تاہم ایف ایم ایف سبسڈی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان یہ ماننے پر مجبور ہوگیا کہ وہ 8 فائٹر طیارے خریدنے کے لیے مکمل کرایہ ادا کرنے کا متحمل نہیں ہے جس کے بعد معاہدہ منسوخ ہوگیا۔

لوک ہیڈ مارٹن نے معاہدے کی منسوخی کی خبر کے حوالے سے کہا کہ وہ ان طیاروں کی فروخت کے بغیر ان کی مزید پیداوار جاری نہیں رکھ سکتے اور اسی لیے کمپنی نے ایف 16 طیاروں کی کھیپ کو ٹیکساس سے بھارت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ایک پاکستانی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے لوک ہیڈ کے ایف 16 طیاروں کی پروڈکشن پروگرام کے نائب صدر سوسان اوزٹس کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے طیاروں کو خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔


یہ خبر 4 اکتوبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی