سینیٹ نے الیکشن ترمیمی بل 2017 کی منظوری دے دی

10 اکتوبر 2017

ای میل

سینیٹ نے الیکشن ترمیمی بل 2017 کی منظوری دیتے ہوئے ختم نبوت کی اصل شکل بحال کردی جبکہ اپوزیشن ارکان نے ختم نبوت سے متعلق غلطی کے معاملے پر کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون زاہد حامد نے الیکشن ترمیمی بل 2017 منظوری کے لیے پیش کیا۔

تاہم چیئرمین سینیٹ نے ارکان کو بل پر بات کرنے سے روک دیا، جس کے بعد سینیٹ نے الیکشن بل کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ اتنا بڑا جرم ہوا جب تک تعین نہیں ہوگا معاملہ حل نہیں ہوگا، انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے جرم پر صرف کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ معاملے پر کمیشن بنایا جانا چاہیے اور ذمہ داروں کو تعین ہونے تک معاملہ حل نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں: ختم نبوت حلف نامے کی بحالی کیلئے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم منظور

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کے ترمیمی بل کو سپورٹ کرتے ہیں اور حکومت کی اپنی غلطی تسلیم کرنا اچھا عمل ہے لیکن معاملے پر تحقیقات کرائی جائیں۔

سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ جی ایچ کیو حملہ آوروں کو سزائے موت دی جاتی ہے جبکہ میرا جی ایچ کیو عقیدہ ختم نبوت ہے اور اس پر حملے کرنے والا اپنی موت کو خود دعوت دے گا۔

وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اقرار کے اوپر غلط اثر انداز کا سوچ بھی نہیں سکتا جبکہ بل میں ختم نبوت سے متعلق اصل شکل بحال کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ختم نبوت شق کے خاتمے کا سوچ بھی نہیں سکتے،وزیر قانون

انہوں نے کہا کہ بل ایوان میں پیش کیا گیا تھا یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت ذمہ دار ہے کیونکہ یہ مشترکہ ذمہ داری تھی۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا کہ اس بات پر پورا ایوان متفق ہے اور اس دن غلط فہمی کی بنیاد پر اس معاملے پر توجہ نہیں گئی۔

اس سے قبل 5 اکتوبر 2017 کو قومی اسمبلی نے الیکشن ایکٹ 2017 کی وجہ سے ختمِ نبوت حلف نامے میں رونما ہونے والی تبدیلی کو اپنی پرانی شکل میں واپس لانے کے لیے ترمیمی بل منظور کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نوازشریف سے منسوب جھوٹی خبرپر برہم، تحقیقات کی ہدایت

واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی وجہ سے جنرل الیکشن آرڈر 2002 میں احمدی عقائد کے حوالے سے شامل کی جانے والی شقیں ’سیون بی‘ اور ’سیون سی‘ بھی خارج ہوگئیں تھیں جو کہ اب ترمیمی بل کی وجہ سے واپس اپنی پرانی حیثیت میں بحال ہوجائیں گی۔

مذکورہ شقوں کے مطابق انتخابی عمل میں حصہ لینے پر بھی احمدی عقائد سے تعلق رکھنے والے افراد کی حیثیت ویسی ہی رہے گی جیسا کہ آئین پاکستان میں واضح کی گئی ہے۔