• KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:24pm
  • LHR: Asr 5:02pm Maghrib 7:08pm
  • ISB: Asr 5:11pm Maghrib 7:18pm
  • KHI: Asr 5:20pm Maghrib 7:24pm
  • LHR: Asr 5:02pm Maghrib 7:08pm
  • ISB: Asr 5:11pm Maghrib 7:18pm

’میرے ساتھ اور شریف خاندان کے ساتھ دہرا معیار کیوں؟‘

شائع November 1, 2017

سندھ کے سابق وزیرِ اطلاعات اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا کہ ان کے اور شریف خاندان کے معاملے میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دہرا معیار اپنایا جارہا ہے جبکہ ضمانت منظور ہونے کے باوجود نیب حکام نے انہیں گرفتار کیا۔

شرجیل میمن کو گذشتہ ماہ نیب حکام نے سندھ ہائی کورٹ سے گرفتار کرلیا تھا تاہم انہیں آج صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں لایا گیا جہاں ان کے حامیوں نے ان کا گل پاشی کے ساتھ استقبال کیا۔

پی پی پی رہنما کا سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ انہیں پاکستان آئے ہوئے ساڑھے 7 ماہ ہو چکے ہیں اور وہ اس دوران ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ جب نیب حکام نے مجھے گرفتار کیا تھا تب میں نے انہیں بتایا تھا کہ میرے پاس ضمانت موجود ہے لیکن انہوں نے ایک نہیں سنی‘۔

شرجیل میمن نے اجلاس میں موجود نیب چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ میرے اور شریف خاندان کے معاملے میں دہرا معیارکیوں اپنایا جارہا ہے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر آمد کے موقع پر نیب حکام کی موجودگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے نیب اہلکار ایئرپورٹ کے رن وے تک آگئے تھے جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کی اسلام آباد آمد پر ایئرپورٹ حکام نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے آنے والے نیب اہلکاروں کو ہوائی اڈے میں داخل تک نہیں ہونے دیا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میرے معاملے میں نیب کا رویہ متعصبانہ رہا جبکہ ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ڈالنے کے معاملے میں بھی دوہرا معیار اپنایا گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے نیب چیئرمین سے سوال کیا کہ وہ ملک میں موجود نہیں تھے تو ان کا نام ای سی ایل میں کس قانون کے تحت ڈالا گیا، تاہم انہوں نے چیئرمین نیب سے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کے معاملے کا جائزہ لینے کی درخواست کی۔

شریف خاندان کے خلاف پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نیب حکام کی جانب سے دائر ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جاری سماعتوں کا حوالہ دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے گرفتار رہنما نے سوال کیا کہ جن لوگوں کے خلاف نیب انکوائریز جارہی ہیں کیا ان سب کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں؟

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ 23 اکتوبر کو صوبائی محکمہ اطلاعات میں اربوں روپے کی مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر سندھ ہائی کورٹ نے شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس کے بعد نیب کی ٹیم نے سابق صوبائی وزیر کو عدالت سے باہر آتے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

تاہم ایک روز بعد (24 اکتوبر کو) احتساب عدالت نے گرفتار سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن سمیت دیگر ملزمان کو 4 نومبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

پیپلز پارٹی کا عدالتوں پر اعتماد

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا عدالتوں پر اعتماد ہے جبکہ نیب عدالت نہیں اس لیے اس پر تحفظات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرجیل میمن عدالتوں سے بھاگے نہیں بلکہ اپنے آپ کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا لیکن انہیں عدالت کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ عدالت عالیہ کی توہین کرنے والے اور شرجیل میمن کی گرفتاری کے بارے میں جھوٹ بولنے والے ادارے کے خلاف کارروائی کی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ شرجیل انعام میمن کو رہا نہ کرے لیکن نیب کے جھوٹے بیان پر نیب حکام کے خلاف کارروائی کی جائے۔

بعد ازاں اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کی عدالت کے احاطے سے گرفتاری کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی گئی۔

شرجیل میمن معاملہ پر پونے 6 ارب کی کرپشن کا الزام

خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، اس وقت کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ڈپارٹمنٹ اور دیگر پر 15-2013 کے دوران سرکاری رقم میں 5ارب 76 کروڑ روپے کی خرد برد کا الزام ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے مذکورہ رقم صوبائی حکومت کی جانب سے آگاہی مہم کے لیے الیکٹرونک میڈیا کو دیے جانے والے اشتہارات کی مد میں کی جانے والی کرپشن کے دوران خرد برد کی۔

مزید پڑھیں: 'شرجیل میمن کیخلاف کروڑوں کے غبن کی انکوائری'

یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شرجیل میمن کی حفاظتی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔

شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی تھی اور تقریباً 2 سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد جب وہ رواں برس 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے، تو انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے اہلکاروں نے ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کرلیا تھا۔

تاہم 2 گھنٹے پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد نیب راولپنڈی کے اہلکاروں شرجیل میمن کو رہا کردیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 16 جولائی 2024
کارٹون : 15 جولائی 2024