'شرجیل میمن کے خلاف 5 ارب روپے کرپشن کی تحقیقات'

اپ ڈیٹ 25 فروری 2016

ای میل

کراچی: قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام نے سندھ ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیراطلاعات شرجیل انعام میمن نے حکومتی اشتہارات کی مد میں سرکاری خزانے کو 5 ارب روپے کا نقصان پہنچایا.

نیب پراسیکیوٹر نے سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کروایا، جو گرفتاری سے بچنے کے لیے پی پی پی کے خود ساختہ جلاوطن رہنما کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل شرجیل میمن کی جانب سے دو مختلف پٹیشنز دائر کی گئی تھیں، جن میں سے ایک میں ضمانت قبل از گرفتاری اور دوسری پٹیشن میں ان کا نام ایگزٹ کنٹرول فہرست سے نکالنے کی درخواست کی گئی تھی۔

سندھ کے شہر حیدرآباد سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے شرجیل انعام میمن نے اپنی پٹیشن میں کہا تھا کہ جب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انسداد کرپشن ایجنسیز نے سیاست دانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے میڈیا کے ذریعے سے ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ نیب نے کرپشن کے حوالے سے ان کے خلاف ایک انکوائری کا آغاز کیا ہے۔

نیب نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ سابق صوبائی وزیراطلاعات نے سرکاری خزانے کو 5 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے، مزید کہا گیا کہ ان کے خلاف انکوائری کا آغاز ان ہی کی ایک ڈائریکٹر کی تحریری درخواست پر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: شرجیل میمن کے خلاف'کرپشن' تحقیقات کی تفصیلات طلب

مذکورہ درخواست کے مطابق شرجیل میمن نے اشتہارات کی مد میں 5 ارب روپے کی منظوری دی تھی، جس میں سے 3 ارب روپے کرپشن کی نظر ہوگئے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اشاعت کے لیے اشتہارات کی تقسیم میں اپنے عہدے کا ناجائز استعمال بھی کیا.

نیب کا مزید کہنا تھا کہ سابق انفارمیشن سیکریٹری ذوالفقار شالوانی اور دیگر عہدیدار، جن میں منصور راجپوت بھی شامل ہیں، محکمہ اطلاعات کے فنڈز کی خرد برد میں شریک ہیں۔

بیورو نے بتایا کہ شرجیل انعام میمن اور انعام اکبر کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

اس سے قبل پراسیکیوٹر نے عدالت میں ایک رپورٹ پیش کی تھی کہ محکمہ اطلاعات میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے شرجیل میمن کے خلاف انکوائری کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے حوالے سے کافی ثبوت بھی حاصل کرلیے گئے ہیں۔

سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کے وکیل کے مطابق ان کے موکل کی وطن واپسی پر انھیں نیب حکام گرفتار کرسکتے ہیں اور ان کے باہر جانے پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: 'شرجیل میمن کیخلاف کروڑوں کے غبن کی انکوائری'

ان کا کہنا تھا کہ سابق صوبائی وزیر کرپشن میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی انھوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان سب کا مقصد میمن کے خلاف جعلی مقدمات بنانا ہے۔

سابق صوبائی وزیر کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ نیب کو ان کے موکل کی گرفتاری اور دیگر کارروائیاں نہ کرنے کا پابند کیا جائے۔

یہ خبر 25 فروری 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔