2017 اب تک کا گرم ترین سال ہونے کا امکان

اپ ڈیٹ 07 نومبر 2017

ای میل

بون: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2017 گرم ترین سال ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں جس کے باعث طوفان، سیلاب اور زمین خشک ہونے کے واقعات بڑھ گئے۔

گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جاری رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ماہرین نے گزشتہ برس نومبر 2016 سے 2017 کا تفصیلی جائزہ لیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 2017 گرم ترین سال کے طور پر سامنے آئے گا۔

اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم (WMO) کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں 2015-2016 کے مقابلے میں رواں سال زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ سے گرمی کی شدت میں بہت اضافہ ہوا۔

ڈبلیو ایم او کے مطابق بحراوقیانوس سے ہر پانچ سال بعد قدرتی ال نیوں کا اخراج ہوتا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں گرم ہوائیں چلتی ہیں،ال نینو کے اخراج کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں 2015 اور 2016 میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا تاہم رواں برس 2017 میں اس کے اخراج کے بغیر ہی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی: 'سالانہ 20 ارب ڈالر کا نقصان

عالمی موسمیاتی تبدیلیوں پر نظر رکھنے والی تنظیم کے جنرل سیکریٹری جنرل پیٹری کا کہنا ہے کہ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں میں بہت بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں جس کی وجہ سے اٹلانٹا، کیربین کا درجہ حرارت منفی اور پاکستان ، ایران، عمان سمیت دیگر ایشیائی ممالک میں گرمی کی شدت میں 50 سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ سائنسی ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجوہات کا بغور جائزہ لیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ گرین گیس ہاؤسز کی بڑھتی ہوئی تعداد موسمیاتی تبدیلیوں میں اہم وجہ ہیں۔

جنرل سیکریٹری جنرل پیٹری نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے منعقد کی جانے والی مٹینگ میں کئی وجوہات سامنے آئیں جن میں سے ایک بڑی وجہ معیشت کو فروغ دینا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے زمین پر بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور ہم اس پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہوچکے تاہم پیرس معاہدے کے تحت اس پر عملدرآمد کے اقدامات کیے جائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پیرس معاہدے کے تحت جیواشم ایندھن کے استعمال کو ختم کرکے تمام صنعتوں کو ہوا اور شمسی توانائی جیسے منصوبوں پر منتقل کیا جائے گا تاکہ دنیا کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔

چین کا کردار

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی تبدیلیوں کے باعث چین سے معاشی معاہدہ ختم کردیا اور اب وہ صنعنتی بحران کے پیش نظر پیرس معاہدے سے بھی علیحدگی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ڈبلیو ایم او کا کہنا ہے کہ رواں سال تیزی کے ساتھ انڈسٹریاں لگائی گئیں جس کے باعث جنوری سے ستمبر تک عالمی درجہ حرارت میں اوسط اضافہ 1.1 سینٹی گریڈ دیکھنے میں آیا جو تشویشناک ہے کیونکہ پیرس معاہدے کے تحت سب سے زیادہ حد 1.5 سینٹی گریڈ مقرر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیاں دنیا کو 'قیامت' کے قریب لارہی ہے: سائنسدان

ماہرین کا کہنا ہے کہ 1.5 فیصد سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت پہنچنے کا مطلب ہے کہ حکومتوں کی جانب سے آلودگی کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں تیزی سے پیش آرہی ہیں، گزشتہ برس ڈبلیو ایم او کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی تھی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ آئندہ چند برسوں میں پاکستان کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔


یہ خبر 6 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔