گرفتار افراد کے صرف نجی بینک کھاتے منجمد کیے ہیں، سعودی حکومت

09 نومبر, 2017

ای میل

سعودی شہزاد الولید بن طلال کی 2013 میں لی جانے والی تصویر —  فوٹو /  ڈان
سعودی شہزاد الولید بن طلال کی 2013 میں لی جانے والی تصویر — فوٹو / ڈان

ریاض: سعودی عرب کے حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد کے صرف ذاتی بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں جبکہ اُن کی متعلقہ کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔

مانیٹری کمیٹی کے گورنر عبدالکریم الخوفی نے جمعرات کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن کمیٹی نے بلا امیتاز کارروائی کی جس کے نتیجے میں شہزادے اور سابق وزراء کو بھی گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی کمپنیوں کے اکاؤنٹ کی تفتیش نہیں کی جائے گی تاہم اُن کے ذاتی بینک کھاتوں کو بند کر کے حاصل ہونے والی آمدن کی تفتیش ضرور ہوگی۔

عبدالکریم الخوفی نے کہا کہ بینک کے ذریعے رقم باہر منتقل کرنے کے حوالے سے کسی پر کو ئی اعتراض نہیں اور جو تاجر اور بینک اس طریقے سے رقم کی ترسیل کرتے ہیں اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر اینٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے پہلے مرحلے میں سعودی کھرب پتی شہزادے الولید بن طلال سمیت متعدد شہزادوں، حاضر اور سابق وزراء کو حراست میں لے لیا تھا۔

سعودی عرب کے امیر ترین شخصیات میں شامل شہزادے کی گرفتاری کے بعد سعودی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔

قبل ازیں کرپشن الزام میں گرفتار ہونے والے تین افراد کے دبئی میں موجود اکاؤنٹ سینٹرل بینک کی ہدایت پر منجمد کردیے گئے تھے، منجمد کیے جانے والے بینک کھاتوں میں 33 کھرب ڈالر سے زائد رقم موجود ہے۔

پڑھیں: سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع

سعودی حکومت کی جانب سے بینک کھاتوں کو بند کرنے کے لیے سیکڑوں افراد کی فہرست بھی سامنے آئی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ گرفتار افراد جن بینک اکاؤنٹس میں زیادہ رقم منتقل کرتے تھے انہیں بھی تفتیش مکمل ہونے تک سیل کیا جائے گا۔

سعودی اٹارنی جنرل کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ حالیہ کارروائیاں انسداد کرپشن کے تحت کی جارہی ہیں، شہزادوں اور کاروباری حضرات کی گرفتاریاں اس مہم کا پہلا حصہ ہیں۔

سعودی میڈیا میں جاری خبروں کے مطابق ان گرفتاریوں کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی حمایت کی گئی ہے۔

یہ تمام گرفتاریاں اینٹی کرپشن کمیشن کے زیرِ سرپرستی کی گئیں ہیں جو سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے شاہی حکم نامے کے تحت قیام عمل میں آئی تھی جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انسداد کرپشن مہم: سعودی عرب کی غیر یقینی معاشی صورتحال

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی سفارت کار رابرٹ جورڈن نے کہا کہ ’الولید بن طلال کی گرفتاری بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم نے بل گیٹس کو حراست میں لے لیا ہو‘۔

سعودی عرب میں ہونے والی کرپشن کی کارروائیوں کے بعد یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ یہ گرفتاریاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے کی گئیں۔

حال ہی میں ہفتے کے روز ایران کے حمایت یافتہ یمنی علیحدگی پسند حوثی باغیوں نے ریاض کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر میزائل فائر کیا تھا جس کا الزام سعودی حکومت نے ایران پر عائد کیا تاہم ایرانی حکومت نے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

لبنان کے وزیراعظم نے حال ہی میں اپنا عہدہ چھوڑتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اور حزب اللہ کے تعلقات ایک بار پھر استوار ہوگئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا کہ ایران اور حزب اللہ انہیں ان کے والد کی طرح قتل کردیں گے۔

ابوظہبی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نبیل الرنتیسی نے کہا کہ سعودی عرب میں اینٹی کرپشن کے خلاف کیے جانے والے اقدامات خطے کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس سے برا تاثر پیدا ہورہا ہے جبکہ معاشی سروس سے تعلق رکھنے والے حکومتی نمائندے نے کہا کہ ’ابتدائی کارروائیوں کو دیکھ کر نہیں کہا جاسکتا کہ اب کون گرفتار ہوگا‘۔

اسے بھی پڑھیں: گرفتار کھرب پتی شہزادے کے دنیا بھر میں موجود اثاثوں کی تفصیلات

سعودی عرب کے سینئر حکام نے کرپشن کے الزام میں ہونے والی گرفتاریوں کا تعلق ٹرمپ سے جوڑنے کی خبروں کو مسترد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’تفتیش کے بعد ہی متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور یہ عمل ملک کی بہتری کے لیے کیا جارہا ہے‘۔

حکومتی اطلاع کے مطابق کھرب پتی شہزادے الولید منتی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی کاموں میں ملوث تھے جبکہ رائل خاندان کے ایک اور شہزادے پرنس میتاب نے اپنے ملازمین کے ساتھ دھوکا کر کے کمپنی کو مالی فائدہ پہنچایا۔


یہ خبر 9 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی