پاکستان کی کلبھوشن یادیو سے اہلیہ کی ملاقات کی پیش کش

10 نومبر 2017

ای میل

پاکستان نے بھارت کو انسانی بنیادوں پر را کے گرفتار افسرکلبھوشن یادیو کی اہلیہ سے ملاقات کرانے کی پیش کش کی ہے۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے خالصتاً انسانی بنیادوں پر بھارتی کمانڈر کلبھوشن یادیو اور ان کی اہلیہ کی ملاقات کا انتظام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق کمانڈر کلبھوشن یادیو کی اس کی اہلیہ سے ملاقات پاکستان مِیں ہی کرائی جائے گی اور پیش کش کے حوالے سے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ را کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان داخل ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:حتمی فیصلہ آنے تک پاکستان کلبھوشن کو پھانسی نہ دے، عالمی عدالت

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کرلیا تھا کہ کہ انھیں را کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

بعدازاں 10 اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی اور کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرسزائے موت سنانے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پرھیں:بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزائے موت سنا دی گئی

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور سزا سنائی جس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجرم کی سزائے موت کی توثیق کی۔

بیان میں کہا گیا کہ کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور سرکاری سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 3 کے تحت ٹرائل کیا۔

واضح رہے کہ بھارت نے عالمی ثالثی عدالت میں کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کو چیلنج کرتے ہوئے سزا پر عمل درآمد رکوانے کی اپیل کی تھی جس کی سماعت رواں سال مئی میں ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:کلبھوشن کی سزائے موت: بھارت کا عالمی عدالت انصاف سے رابطہ

کیس کی سماعت کے پہلے مرحلے میں عالمی عدالت میں بھارت کے دلائل پیش کئے جبکہ پاکستانی ٹیم نے دوسرے مرحلے میں اپنے دلائل پیش کیے۔

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کے موقع پر پاکستانی وفد میں سفیر معظم احمد خان، ڈاکٹر محمد فیصل اور سید فراز حسین موجود تھے۔

ان کے علاوہ پاکستان کی جانب سے خاور قریشی نے عدالت میں دلائل دیئے جبکہ قانونی ٹیم میں اسد رحیم خان اور جوزیف ڈیکے بھی شامل تھے۔

پاکستانی وکلا کی ٹیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کا کیس عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا اس لیے یہاں کیس نہیں چلایا جاسکتا۔

آئی سی جے نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف ہندوستان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی نہیں دی جاسکتی۔

بھارتی درخواست پر فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے جج رونی اَبراہم نے فیصلہ سنایا تھا جس کو 15 مئی کو محفوظ کیا گیا تھا۔

انھوں نے پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر تے ہوئے کہا تھا کہ عالمی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

فیصلہ سناتے ہوئے جج رونی ابراہم کا کہنا تھا کہ کلبھوشن کو پاکستانی آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی جبکہ کلبھوشن یادیو کی جانب سے کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔