پانی کا گلاس، جس نے ’بہاؤ‘ جیسے لازوال ناول کو جنم دیا!

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2017

ای میل

ناول کی صنف بھی کمال ہے۔ ایک زمانے سے قارئین اِس کے سحر میں مبتلا ہیں۔ کچھ ناقدین اِسے ہبل ٹیلی اسکوپ سے بڑی ایجاد قرار دیتے ہیں۔ بہ قول معروف ادیبہ اور ناول نگار ورجینا وولف، یہ ایک ایسی صنف ہے، جس میں ہر موضوع سما سکتا ہے۔

دنیا بھر میں لازوال ناولوں پر تحقیق کا چلن عام ہے۔ دانش گاہیں اِس کا اہتمام کرتی ہیں۔ محققین اُن واقعات کا تعین کرتے ہیں، جنہوں نے ڈکنز کو A Tale of Two Cities، ٹالسٹائی کو War and Peace گیبرئیل گارسیا مارکیز کو No One Writes to the Colonel اور میکسم گورکی کو Mother جیسے ماسٹر پیس لکھنے پر اکسایا۔

بدقسمتی سے اردو میں اِس جانب ذرا کم توجہ دی گئی اور اِس کے اسباب بھی تھے۔ دراصل ادب اور ادیب بٹوراے کے بعد صحیح معنوں میں یہاں جڑیں نہیں پکڑسکے۔ حکومت غافل تھی، ناشر استحصالی، اور دانش گاہوں میں بھی ادبی تحقیق کی جانب بہت کم توجہ دی گئی۔ ایسے میں یہ فکشن نگاروں کے انٹرویوز ہی تھے، جن کے ذریعے اردو کے چند لازوال ناولوں کے خلق ہونے کی کہانی ہم تک پہنچی۔

ایسا ہی ایک یادگار مکالمہ کچھ برس قبل راقم الحروف اور ممتاز ادیب، مستنصر حسین تارڑ کے درمیان ہوا، جہاں اُن کے معرکۃ آراء ناول ’بہاؤ‘ پر نہ صرف تفصیلی بات ہوئی، بلکہ اُن زمینوں تک بھی رسائی ہوگئی، جہاں اِس ناول کے اولین بیج گرے تھے۔

ناول بہاؤ کا سرورق
ناول بہاؤ کا سرورق

ایک قدیم بستی کے فنا ہونے کی پُراثر کہانی بیان کرتا یہ ناول یوں بھی انوکھا ہے کہ اِس میں موئن جو دڑو کے زمانے کو منظر کرتے ہوئے، ایک نئی زبان تراشی گئی، جو چند یادگار کرداروں کے سنجوگ سے قاری کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔ اِس ناول میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے۔ مصنف نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ اِس ناول کے کردار ’پاروشنی‘ کو عبداللہ حسین اردو کا مضبوط ترین نسائی کردار قرار دیتے ہیں۔ تارڑ صاحب سے ہونے والی ملاقاتوں اور ادبی جریدے ’اجرا‘ کے لیے ہونے والے انٹرویو سے ہمیں اِس ناول سے جڑے چند دل چسپ واقعات سننے کا موقع ملے۔

’بہاؤ‘ کی کتنی پذیرائی ہوئی؟

اچھا، آگے بڑھنے سے پہلے یہ تذکرہ ضروری ہے۔ دراصل ’بہاؤ‘ ہی وہ ناول تھا، جس نے مستنصر حسین تارڑ کو، جن کی شہرت ایک ممتاز سفر نامہ نویس اور پاپولر فکشن نگار تھی، ادب عالیہ کے ناول نگاروں کی اولین صف میں لا کھڑا کیا۔ معروف ہندوستانی ادبی جریدے ’ذہن جدید‘ کے تحت ایک سروے کیا گیا، جس میں اردو کے ممتاز ناقدین نے حصہ لیا۔ اُس سروے میں ’بہاؤ‘ کو اردو تاریخ کے 10 بڑے ناولز میں شمار کیا گیا۔

انگریزی ادب کے پروفیسر ڈاکٹر اسیر نے یہ ناول پڑھا تو کہا؛

میں اردو ادب کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا تھا، مگر ’بہاؤ‘ نے میرے خیالات بدل ڈالے۔

آل انڈیا ریڈیو پر ایک نقاد یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ اب اردو ناول کا مستقبل لاہور سے وابستہ ہے، جہاں تارڑ رہتا ہے۔ یہی نہیں جناب، بی بی سی نے اپنے تبصرے میں ’بہاؤ‘ کو کلاسک کا درجہ دیتے ہوئے اُس کا موازنہ گیبرئیل گارسیا مارکیز کے لازوال ناول One Hundred Years of Solitude سے کیا تھا۔

’بہاؤ‘ کی پُراسرار کہانی

اِس ناول کو چند سطروں میں بیان کرنا سہل نہیں کہ یہ شاہ کار ہے۔ اپنے اندر صدیوں پرانے جہانِ رنگ و بو کو سموئے ہے۔ دراصل یہ انسانی تہذیب کے ارتقاء کی کہانی ہے۔ ارتقاء، جس کے دوران پُرانی تہذیب کی جگہ نئی تہذیب لے لیتی ہے۔ کسی ویرانے میں نئی بستی آباد ہوجاتی ہے اور کوئی بستی اُجڑ کر ویرانے میں ڈھل جاتی ہے۔ ناول میں 5 ہزار سال پہلے کی تہذیب کو، موئن جودڑو کے زمانے کے منظر کو، جب مادرسری معاشرہ قائم ہے، اِس مہارت سے منظر کیا گیا ہے کہ قاری اُس زمانے میں جا پہنچتا ہے، اُس کے کرداروں کے ساتھ گھل مل جاتا ہے۔ یہ کردار بھی انوکھے ہیں، اور اپنے اندر ایک مکمل علامت ہیں۔

جیسے پاروشنی ایک ایسی عورت ہے، جس کی باتوں سے دانش جھلکتی ہے۔ (اِس ناول کے کردار ’پاروشنی‘ کو عبداللہ حسین اردو کا مضبوط ترین نسائی کردار قرار دیتے تھے). ورچن ایک سیاح ہے، پکلی ایک ظروف ساز ہے، سمرو ایک کسان ہے۔ یہ دریا کنارے آباد ایک بستی کی تباہی کا قصہ ہے، جو دریا میں کم ہوتے پانی کے باعث دھیرے دھیرے فنا ہونے لگتی ہے۔ خشک دریا کے ساتھ زندگی تعطل کا شکار ہوجاتی ہے اور کردار ایک ایک کرکے بستی سے کوچ کرنے لگتے ہیں۔ مگر اِس ناول کا اختتام مایوسی پر نہیں، ایک اُمید پر ہوتا ہے، جہاں تباہی میں بھی زندگی کی رمق نظر آتی ہے۔

تذکرہ پانی کے ایک گلاس کا!

ایسا تو ممکن نہیں کہ ناول کا پورا پلاٹ مصنف کو یکدم سوجھ جائے، مگر یہ ضرور ہوتا ہے کہ کبھی کبھار کوئی منظر یا واقعہ آپ کو کہانی دے جاتا ہے، جیسے نوبیل انعام یافتہ ادیب اورحان پامک کے مطابق یہ تصویریں ہیں، جو اُسے کہانیاں عطا کرتی ہیں۔ تارڑ صاحب کے اِس ناول کے پسِ منظر میں گرمیوں کی ایک رات اور پانی کا ایک گلاس تھا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ اُنہیں رات میں اُٹھ کر پانی پینے کی عادت ہے۔ سائیڈ ٹیبل پر گلاس بھر کر رکھ لیتے ہیں۔ ایک گرم رات جب نیم غنودگی میں اُٹھ کر پانی پیا، تو احساس ہوا کہ گلاس میں پانی اُن کے اندازہ سے کچھ کم ہے۔ یعنی گلاس کے بیرونی حصے میں پانی کی ٹھنڈ یا نمی وہاں محسوس نہیں ہوئی، جہاں پہلے ہوا کرتی تھی۔ ذہن میں خیال آیا، شاید زیادہ گرمی کی وجہ سے پانی خشک ہوگیا۔ تو جناب، یہی وہ موقع تھا، جب ’بہاؤ‘ کا ابتدائی خاکہ ذہن میں ہمکنے لگا۔ اتفاق سے کچھ عرصے بعد ماہرِ آثاریات، رفیق مغل کی ایک کتاب نظر سے گزری، جس میں ایک جملہ تھا: ’اساطیری دریا سرسوتی اُن دنوں چولستان میں بہا کرتا تھا، پھر کسی نامعلوم سبب وہ خشک ہوگیا!‘

بس پھر کیا تھا، اب چونکہ تارڑ صاحب مسافر ہیں اِس لیے دریا کے خشک ہونے کے خیال کو لیے چل پڑے چولستان کی طرف، جہاں کی پُراسرار خاموشی نے کان میں کچھ سرگوشیاں کیں۔ اُن سرگوشیوں ہی نے ناول کی شکل اختیار کی۔

کیا ناول نگار بھی تحقیق کرتا ہے؟

اِس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ جی ہاں، دنیا بھر میں ناول لکھنے سے پہلے جم کر تحقیق کی جاتی ہے۔ دُور کیوں جائیں، ڈین براؤن کو دیکھ لیجیے، جتنی محنت وہ ایک ناول پر کرتا ہے، اُتنی محنت ہمارے کئی ناول نگار پوری زندگی میں نہیں کرتے۔

خیر، ہم بات کر رہے ہیں تارڑ کے بہاؤ کی۔ ناول لکھتے ہوئے اُنہیں زبان تراشنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ناول ہزاروں سال قدیم بستی سے متعلق تھا۔ غور کیا، اُس زمانے کا Expression کیا ہوگا؟ یہ جملہ ’مجھے تم سے محبت ہے!‘ اُس زمانے میں کیسے کہا جائے گا؟ علی عباس جلال پوری اور فرید کوٹی جیسے ماہر لسانیات سے گفتگو کی۔ قدیم تامل شاعری پر بروکلے یونیورسٹی کا ایک تھیسس پڑھا۔ اندازہ ہوا کہ یہ براہوی اور تامل زبانیں ہیں، جنہوں نے دراوڑی زبان سے سب سے زیادہ لفظ لیے۔ یوں دھیرے دھیرے منظر صاف ہونے لگا۔ وہ محاورے ہاتھ آگئے، جو وہ برتنے والے تھے۔ جیسے جب کردار کی چال کا تذکرہ آتا ہے، تو یہ کہا جاتا ہے؛

اُس کی چال اتنی خوب صورت تھی کہ شہد کی مکھیاں اْس کے پیچھے پیچھے چلی جاتیں۔

اِس ناول میں سندھی، سنسکرت، براہوی اور سرائیکی زبان کے الفاظ جا بجا ملتے ہیں۔

تو صاحبو، اِس طرح کے کئی مراحل طے کرکے وہ انوکھا ناول سامنے آیا، جسے ناقدین نہ صرف مستنصر حسین تارڑ کی موثر ترین تخلیق ٹھہراتے ہیں، بلکہ اردو کے عظیم ناولوں میں شمار کرتے ہیں۔