چھوٹے بجلی گھروں کا مستقبل کیا ہوگا؟

13 نومبر 2017

اسلام آباد: وفاقی حکومتی آئینی مدت پوری ہونے کے قریب آتے ہی حکومت کے پالیسی ساز چھوٹے پن بجلی گھروں اور فضلے سے چلنے والے توانائی کے منصوبوں پر تقسیم نظر آتی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی وزراء چاہتے ہیں کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو ’حاصل کرنے یا ادا کرنے‘ کی بنیاد پر دیا جائے لیکن وزارت توانائی کے حکام اور ان کی ماتحت ایجنسیوں نے چھوٹے پن بجلی منصوبوں اور فضلے سے چلنے والے منصوبوں کو اسی بناء پر آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ ’حاصل کرنے یا ادا کرنے‘ کا مطلب یہ ہے کہ حکومت یا اس کے بجلی کے خریدار پلانٹ کی موجودہ پیداواری صلاحیت کے مطابق رقم ادا کریں گے، چاہے وہ اس پیداوار کو استعمال کرنے میں ناکام رہے ہوں۔

یہ سہولیات تقریباً موجودہ نجی شعبے کے پاور پلانٹس میں صلاحیت کی ادائیگی کی شکل میں دستیاب ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘قومی خزانے پر بوجھ بننے والے پاور پلانٹس کو بند کیا جائے’

اس حوالے سے بیورو کریٹ حلقے چاہتے ہیں کہ چھوٹے پن بجلی گھر اور فضلے سے چلنے والے منصوبوں کو بھی اضافی صلاحیت کے طور پر استعمال کیا جائے یا "حاصل کرنے یا ادا کرنے" کی بنیاد پر ان کی صلاحیت کو استعمال کیا جائے جبکہ ان کی ادائیگی کسی مجبوری یا ضمانت کے بغیر مقامی کرنسی میں کی جائے۔

یہاں چھوٹے بجلی منصوبوں کے نتیجہ خیز ہونے کے حوالے سے سوال پیدا ہوتا ہے کیونکہ وہ اضافی پیداواری صلاحیت فراہم کرتے ہیں جبکہ حکومت پہلے سے ہی صلاحیت میں کمی کا کہہ چکی ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ حکومت کوئلے، گیس اور ایل این جی سے چلنے والے بڑے منصوبوں پر پہلے ہی معاہدہ کرچکی ہے۔

اس مسئلے کے بڑھنے اور چھوٹے پن بجلی گھروں کے حوالے سے شکایت پر وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس پر گذشتہ ماہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے) کے سربراہ دباؤ میں آ کر مستعفی ہوگئے تھے۔

تحقیقات کے جواب میں سی پی پی اے نے حکومت کی متضاد پالیسیوں پر الزام لگایا تھا۔

واضح رہے کہ سی سی پی اے نے گذشتہ ماہ چھوٹے پن بجلی گھروں کے لینے اور ادا کرنے کی بنیاد پر لینے سے انکار کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 2023 تک قومی توانائی منصوبے میں 500 میگا واٹ شامل ہونا اسی منصوبے کا حصہ تھا، جبکہ ایل این جی پروجیکٹ سے 1300 میگا واٹ حاصل کرنا اس منصوبے کا حصہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شمسی توانائی کی مدد سے سندھ کے دیہی علاقوں میں تبدیلی

اس بارے میں سی پی پی اے نے حکومت کو خط لکھا کہ جس میں انہوں نے طلب میں موجود کمی پر تجزیہ پیش کیا، اس حوالے سے یہ بات کہی گئی کہ 2015 کی پالیسی اور 2006 کی قابل تجدید پالیسی میں تنازع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں پالیسیوں کے درمیان تنازعات پاور کی منتقلی پر ہے، 2015 کی پالیسی میں کوئلے، آر ایل این جی کے پلانٹس کے ایندھن کا خطرہ بجلی کے خریداروں کی جانب سے لیا گیا تھا جبکہ 2006 کی پالیسی میں بجلی کے خریداروں کے لیے ہائیڈرولوجیکل خطرہ پیدا کیا گیا۔

اس بارے میں چھوٹے پن بجلی گھروں کے اسپانسر کی جانب سے وزیر اعظم کو شکایت کی گئی کہ حکومتی پالیسیوں کی بنیاد پر ان کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ وزارت توانائی اور اس کے محکمے پاور پالیسی کے مطابق بجلی خریدنے میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔

اسپانسر کا کہنا تھا کہ حکومتی ایجنسیاں ہر 6 سے 12 ماہ میں بجلی پاور پالیسی کے خلاف نئی رکاوٹ ڈالتی ہیں، جیسے ہی ایک مسئلہ حل ہوتا ہے تو دوسرا معاملہ سامنے آجاتا ہے، ان کا کہنا تھاکہ پن بجلی منصوبے میں ایندھن کے اثرات کے بغیر آٹھ سینٹ فی یونٹ ٹیرف تھا، جبکہ حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے درآمدی ایندھن پر چلائے جانے والے پلانٹس پر 12 سینٹ فی یونٹ لاگت آرہی جو بڑی مالی ذمہ داری تھی۔


یہ خبر 13 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں