افغانستان میں طالبان کے متعدد چیک پوائنٹس پر حملوں میں درجنوں افغان پولیس و فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق افغان صوبے قندھار کے گورنر کے ترجمان قدرت خوش بخت نے بتایا کہ ’گزشتہ رات طالبان نے میوند اور زہاری اضلاع میں پولیس چیک پوائنٹس پر حملے کیے جس میں 22 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں 45 شدت پسند بھی مارے گئے۔

قندھار پولیس کے ترجمان مطیع اللہ ہلال نے بتایا کہ ’ایک حملے میں شدت پسندوں نے چیک پوائنٹ کو اڑانے کے لیے بارود سے بھری پولیس گاڑی استعمال کی۔‘

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان کے حملوں میں 15 پولیس اہلکار ہلاک

شدت پسندوں نے ان مربوط حملوں میں 15 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

قبل ازیں قندھار میں امریکی فوجی قافلے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا جس میں 4 فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔

افغان صوبے فاراح کے گورنر کے ترجمان نصیر مہری نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ایران کی سرحد کے ساتھ علاقے میں دو حملوں میں افغان نیشنل آرمی کے 9 فوجی اہلکاروں سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ طالبان نے حملوں کے لیے ممکنہ طور پر نائٹ ویژن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، تاہم اس کے باوجود چیک پوسٹوں تک پہنچنے سے قبل ان کی نشاندہی کرلی گئی جس کے باعث ان کا بھی جانی نقصان ہوا۔

طالبان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔

مزید پڑھیں: طالبان کے حملوں میں 11 افغان فوجی ہلاک

واضح رہے کہ حالیہ چند ہفتے کے دوران افغانستان بھر میں سیکیورٹی تنصیبات پر طالبان کے حملوں میں شدت آگئی ہے۔

طالبان سیکیورٹی قافلوں اور کمپاؤنڈز پر خودکش حملوں کے لیے اکثر بموں سے بھری ’ہَمویز‘ اور افغان سیکیورٹی فورسز کی چوری شدہ گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں سال اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فورسز کے افغانستان میں غیر معینہ مدت کے لیے قیام کا اعلان کیا تھا۔