بھارت کا پاکستان میں کلبھوشن کی اہلیہ کے ہمراہ اہلکار بھیجنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2017

ای میل

بھارت نے پاکستان کو اطلاع دی ہے کہ وہ جاسوسی کے الزام میں سزائے موت کے مجرم کلبھوشن یادیو سے ملاقات کے لیے ان کی اہلیہ کے ہمراہ اپنے ایک اہلکار کو بھیجنا چاہتا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت نے پاکستان سے کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ سے ان کے دورے پر سوالات یا ہراساں نہ کیے جانے کی ضمانت بھی طلب کرلی ہے۔

خیال رہے کہ سابق بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں ایران کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا تھا ان پر جاسوسی کا الزام ہے اور ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم ہیں۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کا جواب زیرِ بحث

بعد ازاں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے رواں ماہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 'حکومت نے کلبھوشن یادیو کی اہلیہ کو انسانی بنیادوں پر پاکستانی سرزمین پر ان سے ملاقات کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے'۔

پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ کا خیر مقدم کیے جانے کی امید ظاہر کرتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ 'بھارتی حکومت نے اپنی پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے معصوم بھارتی شہری کو رہا کرانے کا ارادہ کر رکھا ہے'۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ایسی پیشکش سے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ویانا کنونشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا حل نہیں نکالا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: کلبھوشن یادیو کون ہے؟

بھارتی اخبار کے مطابق پاکستان کی جانب سے کلبھوشن یادیو کی اپنی اہلیہ سے ملاقات کی پیشکش نے بھارتی حکام کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نئی دہلی نے اس حوالے سے اپنا رد عمل گزشتہ ہفتے بھیج دیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارتی جواب ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے پر غور کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی فوجی عدالت نے رواں سال اپریل میں دہشت گردی اور جاسوسی کے جرائم میں سزائے موت سنا رکھی ہے۔

تاہم عالمی انصاف کی عدالت (آئی سی جے) نے مئی کے مہینے میں بھارت کی جانب سے اپیل پر ان کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کلبھوشن یادیو کے اعترافی بیان کی نئی ویڈیو جاری

پاکستان نے کلبھوشن یادیو تک کونسلر رسائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ جاسوسی سے متعلق ایسے کیسز میں کونسلر رسائی نہیں دی جاتی۔

پاکستان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے صوبہ بلوچستان میں گزشتہ سال 3 مارچ کو ان کے ایران سے بلوچستان میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارت کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کو ایران سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ نیوی سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنا کاروبار چلا رہے تھے۔

آئی سی جے نے پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ کیس پر مزید کارروائی کے لیے 13 دسمبر کو اپنا بیان جمع کرائے۔


یہ خبر 24 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی